شارجہ اور پاکستان کے درمیان اسٹریٹجک معاشی شراکت مواقع، تعاون اور مستقبل کی سمت۔
شارجہ اور پاکستان کے درمیان تجارتی تعلقات وقت کے ساتھ ایک مضبوط بنیاد پر استوار ہوئے ہیں، جو صرف کاروبار تک محدود نہیں بلکہ ثقافتی، تاریخی اور عوامی رشتوں سے بھی جُڑے ہیں۔ شارجہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی جانب سے پاکستان کے یومِ آزادی پر منعقدہ اجلاس اس دوستی کی عملی ترجمانی کرتا ہے، جس میں دونوں ممالک کی قیادتوں کے وژن اور کاروباری برادری کی کامیابیوں کو سراہا گیا۔ موجودہ عالمی معاشی حالات میں، ایسے تعلقات کا فروغ خطے کے استحکام اور ترقی میں معاون ثابت ہو سکتا ہے۔
اس اجلاس میں بتایا گیا کہ 2023-2024 میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم 10.9 ارب ڈالر تک پہنچ چکا ہے، جو اس شراکت کی مضبوطی کا ثبوت ہے۔ تاہم، محض تجارت کافی نہیں؛ متحدہ عرب امارات کی جانب سے پاکستان میں 10 ارب ڈالر کی مجوزہ سرمایہ کاری، خاص طور پر توانائی، زراعت اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں، ایک نئے باب کا آغاز ہو سکتا ہے۔ یہ سرمایہ کاری اگر شفاف پالیسیوں، سیاسی استحکام اور ادارہ جاتی تعاون کے ساتھ کی جائے تو پاکستان اپنی اقتصادی خودمختاری کو بہتر بنا سکتا ہے۔
پاکستانی بزنس کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر سید محمد طاہر کی جانب سے شارجہ کو پاکستانی سرمایہ کاروں کے لیے موزوں ترین مقام قرار دینا اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ اگر مواقع دیے جائیں تو پاکستانی کاروباری طبقہ عالمی سطح پر بھی مؤثر کردار ادا کر سکتا ہے۔ شارجہ میں ہزاروں پاکستانی کمپنیوں کی موجودگی، وہاں کے کاروباری ماحول پر اعتماد کی عکاسی ہے۔ اگر اسی جذبے کے تحت تجارتی میلوں، نمائشوں اور ثقافتی تقریبات کا تسلسل برقرار رکھا جائے تو پاکستان اور شارجہ کے درمیان تعلقات نہ صرف معاشی بلکہ عوامی سطح پر بھی مزید مستحکم ہو سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment