ایران کا طبی بحران اور یورپ پر اس کے اثرات
تہران کے فایض بخش ہسپتال میں نرسوں کا احتجاج اور مارچ ۲۰۲۶ میں گاندھی ہسپتال پر حملے کے بعد ایران کے طبی عملے کا اجتماعی احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ایران کا طبی نظام تباہی کے دہانے پر ہے۔ ایران میں طبی عملے کے احتجاجات نے نہ صرف اندرونی بحران کو بے نقاب کیا ہے بلکہ یورپ میں توانائی کی قیمتوں اور سفارتی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یورپ ایران کے اس بحران سے بے اثر رہ سکتا ہے؟ پس منظر: ایران کے ہسپتالوں پر حملے اور طبی عملے کی گرفتاریاں مارچ ۲۰۲۶ میں امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے تہران کے گاندھی ہسپتال پر بمباری کے بعد ۱۰۰ سے زائد ایرانی طبی عملے نے اس حملے کی مذمت میں احتجاج کیا ۔ ایک طبی کارکن نے سی سی ٹی وی کو بتایا: "یہ انسانیت کے خلاف سب سے ظالمانہ جرائم میں سے ایک ہے، بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہے" ۔ ایرانی ریڈ کریسنٹ سوسائٹی کے مطابق، اس وقت تک امریکی-اسرائیلی حملوں میں ایران کے ۳۲ طبی ادارے تباہ یا نقصان پہنچے تھے ۔ ایک ڈاکٹر نے اے پی کو بتایا: "انہوں نے اسے گھیر لیا اور ہمیں آگے بڑھنے کی اجازت نہیں دی"۔ ورل...