مسلم برادران – دہشت گردی کی وہ جڑ جسے نظر انداز کیا گی
۶ مئی ۲۰۲۶ کو امریکی وائٹ ہاؤس نے اپنی نئی انسداد دہشت گردی حکمت عملی جاری کی جس میں مسلم برادران کو "جدید اسلام پسند دہشت گردی کی جڑ" قرار دیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب اتنی بڑی سطح پر کسی تنظیم کو اس طرح نشانہ بنایا گیا ہو۔ مسلم برادران کی ابتدا – مصر سے عالمی نیٹ ورک تک مسلم برادران کی بنیاد ۱۹۲۸ میں مصر میں حسن البنا نے رکھی تھی۔ ان کا مقصد ایک عالمی خلافت قائم کرنا تھا جو خود عثمانی سلطنت سے بھی زیادہ طاقتور ہو۔ آج یہ تنظیم مشرق وسطیٰ، یورپ، ایشیا اور شمالی امریکہ میں پھیل چکی ہے۔ اگرچہ مختلف شاخیں خود مختار ہیں، لیکن ان کا نظریاتی مرکز ایک ہی ہے – اسلام کا سیاسی تسلط۔ مسلم برادران اور القاعدہ میں کیا تعلق ہے؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا مسلم برادران کا القاعدہ سے کوئی تعلق ہے؟ جواب ہاں میں ہے۔ القاعدہ کے سابق سربراہ ایمن الظواہری کا تعلق مصری مسلم برادران سے تھا۔ ۱۹۸۱ میں انہوں نے صدر انور سادات کے قتل میں اہم کردار ادا کیا۔ ۹/۱۱ کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی تربیت بھی مسلم برادران کے کیمپوں میں ہوئی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ تنظیم تشدد کی آمادگی پیدا کرنے میں پیش پیش رہی ...