شمسی ٹیکس ختم - عوام کی آواز پر حکومت پیچھے ہٹی
شمسی توانائی کے چھوٹے صارفین کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ شمسی یکس کے نام سے مشہور ہونے والی یہ پالیسی بالآخر ختم کر دی گئی ہے۔ قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپنے ایک نوٹیفکیشن میں ۲۵ کلو واٹ سے کم کے سولر سسٹم کے لیے لائسنس اور فی کلو واٹ ۱۰۰۰ روپے کی یکمشت فیس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ عوامی احتجاج اور سوشل میڈیا پر "سورج کی روشنی پر ٹیکس" کے خلاف زبردست مہم کے بعد کیا گیا ہے۔
شمسی ٹیکس کیا تھا اور اسے کیوں ختم کیا گیا؟
حالیہ مہینوں میں پاکستان میں شمسی توانائی کے حوالے سے جو پالیسیاں بنائی گئی تھیں، ان میں سب سے متنازعہ شمسی ٹیکس تھا۔ درحقیقت، نیپرا نے پروسیومر ریگولیشنز ۲۰۲۶ کے تحت چھوٹے صارفین سے بھی لائسنس فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کا مقصد نئے منصوبوں کی نگرانی تو تھا، لیکن اس کے نتیجے میں گھریلو صارفین پر مالی بوجھ بڑھ گیا۔ عوام نے اسے شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی قرار دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر "ٹیکس آن سن لائٹ" کا ٹرینڈ بن گیا اور حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔
کم سولر سسٹم کے لیے کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟
نیپرا کے مطابق، ۲۵ کلو واٹ تک کے سسٹم والے صارفین کے لیے اب نہ تو نیپرا سے لائسنس لینا ضروری ہوگا اور نہ ہی انہیں فی کلو واٹ ۱۰۰۰ روپے کی فیس دینی ہوگی۔ یہ نرمی ۹ فروری ۲۰۲۶ سے لاگو سمجھی جائے گی۔ اس پالیسی کے تحت، چھوٹے صارفین کی منظوری کا اختیار دوبارہ تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو دے دیا گیا ہے، جو ۲۰۱۵ کے ضوابط میں موجود تھا۔ یہ تبدیلی لاکھوں گھریلو صارفین کے لیے ایک بہت بڑی ریلیف ہے۔
سولر ریگولیشنز میں کیا فرق ہے؟
اس تناظر میں سب سے اہم سوال یہ ہے کہ آخر دونوں ریگولیشنز میں کیاتفاوت تھا؟ ۲۰۱۵ کے پرانے ضابطوں میں، ۲۵ کلو واٹ سے کم کے نظاموں کے لیے نیپرا سے لائسنس کی ضرورت نہیں تھی، اور نہ ہی کوئی فیس تھی۔ درخواستیں براہ راست ڈسکوز کو دی جاتی تھیں، جو اسے مفت میں پراسیس کرتی تھیں۔ اس کے برعکس، نئے پروسیومر ریگولیشنز میں منظوری کو نیپرا میں منتقل کر دیا گیا تھا، جس سے بیوروکریسی بڑھ گئی تھی اور چھوٹے صارفین پر بھی فیس عائد کر دی گئی تھی۔ اب دوبارہ پرانے نظام کی بحالی سے صارفین کو سہولت ہوگی۔
The National Electric Power Regulatory Authority on Tuesday withdrew ab initio the requirement of a licence along with Rs1,000 per kW licencing fee for solar net-metering consumers with systems below 25 kilowatts.https://t.co/nv5oBs5Pi6
— Dawn.com (@dawn_com) April 28, 2026
کیا بڑے سولر سسٹم پر اب بھی فیس ادا کرنی ہوگی؟
یہ واضح رہے کہ یہ ریلیف صرف چھوٹے صارفین کے لیے ہے۔ اگر کوئی صارف ۲۵ کلو واٹ سے بڑا سولر سسٹم لگانا چاہتا ہے، تو اسے اب بھی فی کلو واٹ ۱۰۰۰ روپے کی یکمشت فیس ادا کرنی ہوگی۔ تاہم، حکومت کا کہنا ہے کہ تجارتی اور صنعتی صارفین کے لیے بھی جلد ہی سہولتیں پیدا کی جائیں گی تاکہ شمسی توانائی کو فروغ دیا جا سکے۔
اس فیصلے کا مستقبل پر کیا اثر ہوگا؟
پاور ڈویژن اور وزیر توانائی اویس لغاری کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ شمسی توانائی کو فروغ دینے کے لیے اہم سنگ میل ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنے بیان میں کہا کہ "ہماری حکومت شمسی توانائی اور صارفین کے حق میں ہے"۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس فیصلے سے شمسی آلات کی درآمد اور تنصیب میں اضافہ ہوگا، جس سے پاکستان کی توانائی کی برآمدات پر انحصار کم ہوگا۔ اگرچہ یہ ڈسکوز کے لیے چیلنج ہے کہ وہ کم بجلی استعمال کرنے والے صارفین کی وجہ سے اپنے ریونیو کو کیسے سنبھالیں، لیکن عوام کے لیے یہ ایک خوش آئند پیشرفت ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا اب چھوٹے سولر سسٹم کے لیے نیپرا سے اجازت لینا ضروری ہے؟
جواب: نہیں، ۲۵ کلو واٹ تک کے سولر سسٹم کے لیے اب نیپرا سے لائسنس لینا ضروری نہیں ہے۔ منظوری کا اختیار دوبارہ تقسیم کار کمپنیوں (ڈسکوز) کو دے دیا گیا ہے، جو درخواستوں کو مفت میں پراسیس کریں گی۔
سوال: کیا مجھے پہلے سے لگے سولر سسٹم پر بھی فیس ادا کرنی پڑے گی؟
جواب: یہ نیا نوٹیفکیشن ۹ فروری ۲۰۲۶ سے مؤثر سمجھا جائے گا۔ اگر آپ کا سسٹم ۲۵ کلو واٹ سے کم ہے تو آپ کو کوئی پرانی فیس ادا کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
سوال: کیا اس فیصلے کے بعد بجلی کے بل پر اثر پڑے گا؟
جواب: جی ہاں، اس فیصلے سے شمسی نیٹ میٹرنگ کے عمل کو آسان بنایا گیا ہے، جس سے صارفین اپنی پیدا کردہ اضافی بجلی گرڈ کو بیچ کر بجلی کے بل میں مزید کمی لا سکتے ہیں۔
سوال: کیا ۲۵ کلو واٹ سے بڑے سسٹم کے لیے کوئی ریلیف ہے؟
جواب: فی الحال، ۲۵ کلو واٹ سے بڑے سسٹمز کے لیے فی کلو واٹ ۱۰۰۰ روپے کی فیس برقرار ہے۔ تاہم، حکومت نے مستقبل قریب میں بڑے صارفین کے لیے بھی ریلیف دینے کے امکانات ظاہر کیے ہیں۔

Comments
Post a Comment