Posts

Showing posts from May, 2026

مسلم برادران – دہشت گردی کی وہ جڑ جسے نظر انداز کیا گی

Image
  ۶ مئی ۲۰۲۶ کو امریکی وائٹ ہاؤس نے اپنی نئی انسداد دہشت گردی حکمت عملی جاری کی جس میں مسلم برادران کو "جدید اسلام پسند دہشت گردی کی جڑ" قرار دیا گیا۔ یہ پہلا موقع ہے جب اتنی بڑی سطح پر کسی تنظیم کو اس طرح نشانہ بنایا گیا ہو۔ مسلم برادران کی ابتدا – مصر سے عالمی نیٹ ورک تک مسلم برادران کی بنیاد ۱۹۲۸ میں مصر میں حسن البنا نے رکھی تھی۔ ان کا مقصد ایک عالمی خلافت قائم کرنا تھا جو خود عثمانی سلطنت سے بھی زیادہ طاقتور ہو۔ آج یہ تنظیم مشرق وسطیٰ، یورپ، ایشیا اور شمالی امریکہ میں پھیل چکی ہے۔ اگرچہ مختلف شاخیں خود مختار ہیں، لیکن ان کا نظریاتی مرکز ایک ہی ہے – اسلام کا سیاسی تسلط۔ مسلم برادران اور القاعدہ میں کیا تعلق ہے؟ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ کیا مسلم برادران کا القاعدہ سے کوئی تعلق ہے؟ جواب ہاں میں ہے۔ القاعدہ کے سابق سربراہ ایمن الظواہری کا تعلق مصری مسلم برادران سے تھا۔ ۱۹۸۱ میں انہوں نے صدر انور سادات کے قتل میں اہم کردار ادا کیا۔ ۹/۱۱ کے ماسٹر مائنڈ خالد شیخ محمد کی تربیت بھی مسلم برادران کے کیمپوں میں ہوئی۔ یہ ثابت کرتا ہے کہ تنظیم تشدد کی آمادگی پیدا کرنے میں پیش پیش رہی ...

مصنوعی ذہانت میں عالمی قیادت: ۷۰.۱ فیصد کے ساتھ امارات نے نئی تاریخ رقم کر دی

Image
ریکارڈ بتاتا ہے کہ مصنوعی ذہانت اب کسی خاص طبقے یا صنعت تک محدود نہیں رہی — یہ عوام کی روزمرہ زندگی کا حصہ بن چکی ہے۔ مائیکروسافٹ کی رپورٹ کے مطابق امارات پہلی معیشت ہے جس نے یہ ثابت کیا کہ ۷۰ فیصد سے زیادہ آبادی کو مصنوعی ذہانت سے جوڑا جا سکتا ہے۔ جب کہ دنیا بھر میں ہر چھ میں سے ایک شخص مصنوعی ذہانت استعمال کر رہا ہے، امارات میں ہر دس میں سے سات افراد۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ امارات میں مصنوعی ذہانت صرف ایک ٹیکنالوجی نہیں بلکہ طرز زندگی بن چکی ہے۔ کیا دیگر ممالک بھی امارات کے راستے پر چل رہے ہیں؟ ایشیائی ممالک خاص طور پر تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں۔ ۲۰۲۵ کے بعد سے مصنوعی ذہانت اپنانے میں تیزی لانے والی ۱۵ مارکیٹوں میں سے ۱۲ ایشیا میں ہیں۔ جنوبی کوریا نے ۳۷.۱ فیصد شرح حاصل کر لی ہے۔ برطانیہ ۴۲.۲ فیصد، اسپین ۴۴.۲ فیصد اور نیوزی لینڈ ۴۳ فیصد پر ہے۔ یہ سب مثبت نشانیاں ہیں۔ تاہم امارات کا ۷۰.۱ فیصد اب بھی ایک اعلیٰ معیار ہے جس تک پہنچنا دوسروں کے لیے ایک چیلنج ہے۔ امارات کے اس کامیاب تجربے سے کیا سبق ملتا ہے؟ یہ تجربہ بتاتا ہے کہ سرکاری سطح پر فیصلہ سازی اور نجی شعبے میں جدت آپس میں مل ک...

دبئی ایئرپورٹ: طوفانی بحران سے بحالی تک، آگے کا سفر

Image
گزشتہ ماہ کے دوران، دبئی ایئرپورٹ نے خطے میں بدامنی اور شدید موسمی حالات کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا کیا۔ تاہم، اب صورتحال بتدریج بہتر ہو رہی ہے۔ گذشتہ روز دبئی ایئرپورٹ کے سی ای او پال گریفیتھس نے تصدیق کی کہ متحدہ عرب امارات کی فضائی حدود مکمل طور پر بحال ہو چکی ہیں۔ اب دبئی ایئرپورٹ بحالی کے اگلے مرحلے میں داخل ہو گیا ہے اور پروازوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا رہا ہے۔ دبئی ایئرپورٹ پر پابندیاں کب ختم ہوئیں؟ تفصیلات کے مطابق، ۲۸ فروری کو علاقائی کشیدگی میں اضافے کے بعد اماراتی فضائی حدود کو جزوی طور پر بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم، ۲ مئی ۲۰۲۶ کو یہ تمام احتیاطی تدابیر واپس لے لی گئیں۔ اس کے ساتھ ہی دبئی ایئرپورٹ نے اپنی کارروائیاں تیز کرنے کا اعلان کیا۔ یہ فیصلہ ان مسافروں کے لیے ریلیف کا باعث بنا جو گزشتہ ہفتوں کے دوران فلائٹس کی منسوخی اور تاخیر سے پریشان تھے۔ مشرق وسطیٰ کی پروازوں پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟ یہ بحران صرف دبئی تک محدود نہیں تھا بلکہ پورے خطے میں پروازوں کا نظام متاثر ہوا۔ ایران کے حوالے سے کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کے فضائی راستوں کو محدود کر دیا تھا۔ اس کے علاوہ، اپریل میں ہونے و...

کوئٹہ میں صحافیوں کا احتجاج: پیکا قانون کے خلاف آواز اور پریس آزادی کے لیے عزم

Image
کوئٹہ میں عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر صحافیوں کی بڑی تعداد نے پریس کلب کے باہر جمع ہو کر پیکا قانون کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور پریس آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا ۔ کوئٹہ میں صحافیوں کا پریس آزادی کے لیے عزم ایک نئی مثال قائم کرتا ہے، جہاں صحافیوں نے “بلیک لاء” قرار دیئے جانے والے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کو مسترد کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔ پیکا قانون صحافیوں کے لیے کیوں خطرہ ہے؟ پیکا قانون، جو ظاہراً جعلی خبروں اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف لایا گیا تھا، اب حقیقت میں صحافیوں کو خاموش کرنے کا ایک ہتھیار بن چکا ہے ۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق، پیکا میں کی گئی ترامیم نے اسے ریاستی نگرانی اور کنٹرول کا اہم ذریعہ بنا دیا ہے۔ صحافیوں کو آن لائن تبصروں کی بنیاد پر دہشت گردی کے مقدمات میں سزائیں سنائی جا رہی ہیں، حتیٰ کہ غیر حاضری میں عمر قید کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں ۔ کوئٹہ میں احتجاج کرنے والے صحافیوں کا کہنا تھا کہ یہ قانون ڈیجیٹل اسپیس کو محدود کرنے اور اختلافی آوازوں کو کچلنے کی ایک کھیل کود ہے۔ بلوچستان میں صح...

پورٹ سوڈان اسلحہ کیس: متحدہ عرب امارات میں غیر قانونی نیٹ ورک کا انکشاف

Image
  پورٹ سوڈان اتھارٹی کو اسلحہ پہنچانے کی ناکام کوشش نے بین الاقوامی برادری کی توجہ اپنی طرف مبذول کر لی ہے۔ متحدہ عرب امارات کی پبلک پراسیکیوشن نے غیر قانونی اسلحہ کی ترسیل کے ایک بڑے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا ہے۔ اس مقدمے میں ۱۳ ملزمان اور ۶ کمپنیوں کو ریاستی سلامتی عدالت میں پیش کیا گیا ہے ۔ سوڈانی آرمی کے اسلحہ خریداری کے انتظامات کیسے منسلک ہیں؟ تحقیقات کے مطابق، یہ سوڈانی آرمی کی مسلحہ کمیٹی کی درخواست پر کیا جا رہا تھا، جس کی سربراہی عبدالفتاح برہان اور یاسر العطا کر رہے ہیں۔ جنرل یاسر العطا کو اسلحہ کی فراہمی شروع کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے، جبکہ سابق انٹیلیجنس چیف صلاح گوش نے آرڈر لینے والوں اور ہتھیاروں کے بیچنے والوں کے درمیان روابط فراہم کیے ۔ متحدہ عرب امارات کے اسلحہ سمگلنگ کیس میں کون کلیدی ملزمان ہیں؟ کلیدی ملزمان میں راشد عمر عبدالقادر علی نامی سوڈانی کاروباری شخصیت شامل ہے، جسے نیٹ ورک کا مرکزی سہولت کار قرار دیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ، عبداللہ خلف اللہ نامی ایک کاروباری شخصیت بھی شامل ہے جس پر امریکی پابندیاں عائد ہیں اور اس کا تعلق ہنڈی اور منی لانڈرنگ سے ہے۔ یہ...

سرحدوں کو مٹاتی ہوئی رحمت: متحدہ عرب امارات کا عالمی مشن

Image
آج جب دنیا کے کونے کونے میں بحران، جنگ اور قدرتی آفات نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر کر دیا ہے، متحدہ عرب امارات کی انسانی ہمدردی کی عالمی امداد ایک روشن مینار کی مانند نظر آتی ہے۔ یہ خلیجی ملک نہ صرف خطے میں بلکہ پوری دنیا میں اپنی تیز رفتار، منظم اور غیر مشروط امداد کے لیے جانا جاتا ہے۔ متحدہ عرب امارات دنیا بھر میں انسانی امداد کیسے فراہم کر رہا ہے؟ یو اے ای نے ثابت کر دیا ہے کہ انسانیت کی کوئی سرحد نہیں ہوتی۔ یہی وجہ ہے کہ ‘امارات ریڈ کریسنٹ’ اور ‘خلیفہ بن زاید آل نہیان فاؤنڈیشن’ جیسے ادارے دنیا کے ۸۰ سے زائد ممالک میں کام کر رہے ہیں۔ درحقیقت، یہ امداد صرف خوراک اور دواؤں تک محدود نہیں بلکہ اسکولوں، ہسپتالوں اور پانی کے منصوبوں کی تعمیر بھی شامل ہے۔ غزہ میں یو اے ای کی امداد کی کیا صورتحال ہے؟ فلسطین کے محصور علاقے غزہ میں انسانی بحران انتہائی سنگین ہے۔ متحدہ عرب امارات نے یہاں نہ صرف خوراک اور ادویات بھیجی ہیں بلکہ فوراً فیلڈ ہسپتال قائم کیا ، جہاں روزانہ سینکڑوں زخمیوں کا علاج کیا جا رہا ہے۔ اسی تناظر میں یو اے ای نے ۲۰۲۴ء میں ’گیلنٹ نائٹ ۳‘ آپریشن شروع کیا، جس کے تحت اب تک ۲۰,۰۰۰ ٹ...