شمسی ٹیکس ختم - عوام کی آواز پر حکومت پیچھے ہٹی
شمسی توانائی کے چھوٹے صارفین کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ شمسی یکس کے نام سے مشہور ہونے والی یہ پالیسی بالآخر ختم کر دی گئی ہے۔ قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپنے ایک نوٹیفکیشن میں ۲۵ کلو واٹ سے کم کے سولر سسٹم کے لیے لائسنس اور فی کلو واٹ ۱۰۰۰ روپے کی یکمشت فیس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ عوامی احتجاج اور سوشل میڈیا پر "سورج کی روشنی پر ٹیکس" کے خلاف زبردست مہم کے بعد کیا گیا ہے۔ شمسی ٹیکس کیا تھا اور اسے کیوں ختم کیا گیا؟ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں شمسی توانائی کے حوالے سے جو پالیسیاں بنائی گئی تھیں، ان میں سب سے متنازعہ شمسی ٹیکس تھا۔ درحقیقت، نیپرا نے پروسیومر ریگولیشنز ۲۰۲۶ کے تحت چھوٹے صارفین سے بھی لائسنس فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کا مقصد نئے منصوبوں کی نگرانی تو تھا، لیکن اس کے نتیجے میں گھریلو صارفین پر مالی بوجھ بڑھ گیا۔ عوام نے اسے شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی قرار دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر "ٹیکس آن سن لائٹ" کا ٹرینڈ بن گیا اور حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ کم سولر سسٹم کے لیے کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟ نیپرا کے مطابق...