Posts

Showing posts from April, 2026

شمسی ٹیکس ختم - عوام کی آواز پر حکومت پیچھے ہٹی

Image
شمسی توانائی کے چھوٹے صارفین کے لیے ایک بڑی خبر سامنے آئی ہے۔ شمسی یکس کے نام سے مشہور ہونے والی یہ پالیسی بالآخر ختم کر دی گئی ہے۔ قومی الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے اپنے ایک نوٹیفکیشن میں ۲۵ کلو واٹ سے کم کے سولر سسٹم کے لیے لائسنس اور فی کلو واٹ ۱۰۰۰ روپے کی یکمشت فیس ختم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ فیصلہ عوامی احتجاج اور سوشل میڈیا پر "سورج کی روشنی پر ٹیکس" کے خلاف زبردست مہم کے بعد کیا گیا ہے۔ شمسی ٹیکس کیا تھا اور اسے کیوں ختم کیا گیا؟ حالیہ مہینوں میں پاکستان میں شمسی توانائی کے حوالے سے جو پالیسیاں بنائی گئی تھیں، ان میں سب سے متنازعہ شمسی ٹیکس تھا۔ درحقیقت، نیپرا نے پروسیومر ریگولیشنز ۲۰۲۶ کے تحت چھوٹے صارفین سے بھی لائسنس فیس وصول کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ اس فیصلے کا مقصد نئے منصوبوں کی نگرانی تو تھا، لیکن اس کے نتیجے میں گھریلو صارفین پر مالی بوجھ بڑھ گیا۔ عوام نے اسے شمسی توانائی کی حوصلہ شکنی قرار دیا، جس کے بعد سوشل میڈیا پر "ٹیکس آن سن لائٹ" کا ٹرینڈ بن گیا اور حکومت کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ کم سولر سسٹم کے لیے کیا تبدیلیاں آئی ہیں؟ نیپرا کے مطابق...

امریکہ میں سیاسی تشدد کی نئی داستان: ٹرمپ کیخلاف تیسری قاتلانہ کوشش

Image
واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کے دوران پیش آنے والا حملہ نہ صرف امریکی تاریخ کی ایک چونکا دینے والی واردات ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی کشیدگی کس طرح تشدد کو جنم دیتی ہے۔ ۲۵ اپریل ۲۰۲۶ کی شام، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کے دیگر ارکان واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے عالیشان ہال میں نامور صحافیوں کے ہمراہ شام کے کھانے میں شریک تھے، اسی اثنا میں ایک مسلح شخص نے ہوٹل کی سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکہ پہلے ہی گہری سیاسی تقسیم اور بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کی لپیٹ میں تھا۔ پس منظر: ڈنر جو محض کھانے کی محفل نہیں تھا وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر واشنگٹن کے معاشرتی کیلنڈر کا ایک اہم حصہ ہے، جہاں صدر، سیاستدان، صحافی اور مشاہیر جمع ہوتے ہیں۔ اس بار یہ ڈنر خاص تھا کیونکہ صدر ٹرمپ نے پہلی بار صدر منتخب ہونے کے بعد اس تقریب میں شرکت کی تھی، جبکہ گزشتہ برسوں میں وہ اسے بائیکاٹ کرتے رہے تھے۔ اس تقریب میں تقریباً ۲۶۰۰ مہمان شریک تھے، جنہیں خود ہوٹل میں داخل ہونے کے لیے صرف ...

متحدہ عرب امارات کا پاکستان میں انسانی امداد کا سفر: بحران سے دیکھ بھال تک

Image
جب بھی پاکستان پر کوئی مصیبت آتی ہے، تو متحدہ عرب امارات کی پاکستان میں انسانی ہمدردی کی امداد دلوں کو چھو لینے والی مثال بن کر سامنے آتی ہے ۔ یہ وہ رشتہ ہے جو سرکاری سفارت کاری سے بڑھ کر حقیقی برادری اور بھائی چارے پر مبنی ہے۔ آئیے دیکھتے ہیں کہ کس طرح امارات بحران کے لمحات میں پاکستان کے ساتھ کھڑا ہے۔ پاکستان میں سیلاب متاثرین کی مدد: ایک فوری اور موثر جواب جب ۲۰۲۲ء میں پاکستان میں تباہ کن سیلاب آیا، تو متحدہ عرب امارات نے فوری طور پر حرکت میں آکر اپنی امداد کو یقینی بنایا۔ اس عظیم مصیبت کے موقع پر متحدہ عرب امارات نے امدادی سامان سے بھرے ۲۰ طیاروں کے ذریعے فلڈ رلیف بھیجنے کا وعدہ کیا۔ یہ اقدام اس بات کی واضح دلیل ہے کہ بحران کے وقت متحدہ عرب امارات صرف وعدوں پر نہیں بلکہ عملی اقدامات پر یقین رکھتا ہے۔ رمضان ۲۰۲۶ میں خوراک کی تقسیم: برکتوں کا سفر ماہِ رمضان کے مقدس مہینے میں متحدہ عرب امارات کی طرف سے غریب اور ضرورت مند خاندانوں کے لیے خوراک کی تقسیم کا سلسلہ جاری رہا۔ ایمریٹس ریڈ کریسنٹ کی ٹیموں نے سندھ اور بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں رمضان کے کھانے کے پارسل تقسیم کیے، جن میں ک...

پاکستان خوراک کے بحران میں شامل — ایک سنگین صورتحال

Image
پاکستان ان ۱۰ ممالک میں شامل ہے جہاں خوراک کا بحران انتہائی سنگین صورت اختیار کر چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ گلوبل رپورٹ آن فوڈ کرائسز ۲۰۲۶ کے مطابق، پاکستان خوراک کے بحران میں شامل ان ممالک میں سے ایک ہے جہاں تقریباً ایک کروڑ دس لاکھ افراد شدید فوڈ انسیکیوریٹی کا شکار ہیں۔ یہ صورتحال نہ صرف قومی سلامتی کے لیے خطرہ ہے بلکہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کو بھی تاریک کر رہی ہے۔ پاکستان خوراک کے بحران میں شامل کیوں ہے؟ اس سوال کا جواب ڈھونڈنے کے لیے ہمیں رپورٹ کی تفصیلات کا جائزہ لینا ہوگا۔ رپورٹ کے مطابق، پاکستان میں تہانوے لاکھ افراد "بحران" اور سترہ لاکھ "ایمرجنسی" کے زمرے میں آتے ہیں، جو قحط سے ایک قدم پہلے کی کیفیت ہے۔ انٹیگریٹڈ فوڈ سیکیورٹی فیز کلاسیفکیشن (آئی پی سی) کے نظام کے مطابق، خوراک کا بحران اس وقت پیدا ہوتا ہے جب خوراک تک رسائی اتنی محدود ہو جائے کہ بقا خطرے میں پڑ جائے۔ Pakistan among top 10 countries facing acute food crisis https://t.co/2WCrd731do — Dawn.com (@dawn_com) April 25, 2026 پاکستان میں خوراک کی کمی کی بڑی وجوہات کیا ہیں؟ درحقیقت، پاکست...

پنجاب کے بنجر علاقے: مریم نواز کا معاشی انقلاب کا نیا وژن

Image
پنجاب کی وسیع و عریض بنجر زمینیں، جو کبھی ویران ہونے کی وجہ سے پہچانی جاتی تھیں، اب معاشی ترقی کی نئی راہیں ہموار کر رہی ہیں۔ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے پنجاب میں بنجر زمینوں کو معاشی زونز میں تبدیل کرنے کے منصوبے کا اعلان کرتے ہوئے ایک تاریخی قدم اٹھایا ہے۔ یہ منصوبہ بلو اکانومی پروگرام کا حصہ ہے جس کے تحت صوبے کی غیر استعمال شدہ اراضی کو جدید جھینگا فارمنگ کے ذریعے نہ صرف قابل کاشت بنایا جائے گا بلکہ اسے بین الاقوامی معیار کا معاشی مرکز بھی بنایا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے، برآمدات میں اضافہ ہوگا اور پنجاب کی پسماندہ اراضی کو قومی معیشت میں شامل کیا جاسکے گا۔ درحقیقت یہ منصوبہ صوبے میں اپنی نوعیت کا پہلا سرکاری اقدام ہے جس میں سائنسی طریقہ کار کے تحت جھینگا فارمنگ کو فروغ دیا جا رہا ہے ۔ مریم نواز کا بلو اکانومی پروگرام کیا ہے؟ مریم نواز کا بلو اکانومی پروگرام دراصل ایک جامع حکمت عملی ہے جس کے تحت پنجاب کی بنجر اور غیر آباد اراضی کو آبی زراعت کے ذریعے استعمال کیا جائے گا۔ یہ پروگرام جدید سائنسی اصولوں پر مبنی ہے جس میں ماہرین کی ...

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ

Image
مشرق وسطیٰ کا خطہ ایک بار پھر شدید خطرے سے دوچار ہے۔ ایران کا علاقائی عدم استحکام اب صرف سیاسی بیان بازی تک محدود نہیں رہا بلکہ یہ عملی طور پر خلیج عرب کی سلامتی کے لیے براہِ راست خطرہ بن چکا ہے۔ ایرانی انقلابی گارڈز کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جارحانہ سرگرمیاں اور تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانے کی دھمکیاں عالمی توانائی کی فراہمی میں خلل ڈال رہی ہیں ۔ یہ وہی آبنائے ہے جہاں سے دنیا کی ایک چوتھائی تیل کی طلب پوری ہوتی ہے ۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو خلیجی ممالک، جو ترقی اور پرامن تعمیر کی مثال ہیں، کو اپنی سرحدوں کے تحفظ کے لیے سخت اقدامات اٹھانے پڑیں گے۔ آبی گزرگاہوں میں ایران کی بڑھتی ہوئی جارحیت کے معاشی اثرات کیا ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ عالمی منڈیوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔ اقوام متحدہ کی تجارتی رپورٹ کے مطابق، آبنائے ہرمز میں معمولی خلل نے برینٹ کروڈ کی قیمت ۹۰ ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر دی ہے ۔ اس کے نتیجے میں شپنگ انشورنس کی لاگت میں آسمان سے باتیں کر لی ہیں۔ خلیج عرب کے پرامن اور مستحکم ممالک، جیسے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات، نے عالمی منڈیوں کو سپلائی برقرار رکھنے کی کوشش تو کی ہے، ل...

پاکستان جسے دہشت گردی کا گھر کہا جاتا تھا، آج دنیا کے کا امن سفیر

Image
جب اپریل ۲۰۲۶ میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے تو دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ ایک ملک جو کبھی دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج دو بڑی طاقتوں کے درمیان ثالث بن کر ابھرا ہے۔ پاکستان عالمی امن ثالث کے طور پر اپنی نئی شناخت بنا رہا ہے ۔ پاکستان نے امریکہ-ایران جنگ میں ثالثی کیسے کی؟ ستم ظریفی دیکھیے کہ جس پاکستان پر ماضی میں دہشت گردی کے فروغ کا الزام لگایا جاتا تھا، آج وہی پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان امن قائم کرنے میں مصروف ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ میں وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کے سامنے امریکہ-ایران مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشکش کو سوشل میڈیا پر ری پوسٹ کیا، جسے سفارتی حلقوں میں واشنگٹن کی جانب سے گرین سگنل قرار دیا گیا۔ چوبیس گھنٹے بعد ہی پاکستان نے جنگ بندی کروانے میں کامیابی حاصل کر لی ۔ یہ صرف اتفاق نہیں تھا۔ پاکستان نے مئی ۲۰۲۵ میں بھارت کے ساتھ مختصر مگر شدید جنگ لڑی اور افغانستان کے ساتھ بھی دو مرتبہ تصادم کیا ۔ ان مقابلوں نے پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے ثابت کیا۔ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار امن مذاکرات میں...

اسلام آباد مذاکرات ناکام، ثالثوں نے دوڑ تیز کر دی — دروازہ ابھی بند نہیں

Image
اسلام آباد میں ۲۱ گھنٹے طویل اور تاریخی براہ راست مذاکرات کے باضابطہ طور پر نتیجہ خیز نہ ہونے کے باوجود، سفارتی حلقوں میں ایک بار پھر سرگرمیاں تیز ہو گئی ہیں۔ ثالثوں کا کہنا ہے کہ " دروازہ ابھی بند نہیں ہوا " اور دونوں فریقین اب بھی سودے بازی کی میز پر موجود ہیں ۔ امریکہ ایران مذاکرات کیوں ناکام ہوئے؟ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے تصدیق کی ہے کہ ایران نے ان کی شرائط کو قبول کرنے سے انکار کر دیا، خاص طور پر جوہری ہتھیاروں کے حصول کی راہ ہمیشہ کے لیے بند کرنے کے حوالے سے ۔ ان کا کہنا تھا کہ "بری خبر یہ ہے کہ ہم کسی معاہدے پر نہیں پہنچے، اور میرے خیال میں یہ ایران کے لیے بری خبر ہے" ۔ دوسری طرف ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا دعویٰ ہے کہ وہ معاہدے سے "انچوں" دور تھے لیکن امریکہ نے شرائط تبدیل کر دیں ۔ امریکہ ایران مذاکرات میں پاکستان کا کیا کردار تھا؟ پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اس عمل کو " تاریخی سفارتی کامیابی " قرار دیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان اعلیٰ سطح پر براہ راست مذاکرات کو ممکن بنایا ۔ تاہم مذاکرا...

اسلام آباد مذاکرات کی ناکامی: امریکہ کے "حد سے زیادہ" مطالبے یا ایران کی "اسٹریٹجک ضد"؟

Image
 حالیہ تاریخ کے سب سے اہم سفارتی مقابلوں میں سے ایک، امریکہ اور ایران کے درمیان اسلام آباد میں ہونے والے ایران امریکہ امن مذاکرات ، ۲۱ گھنٹے سے زائد طویل اور شدید گفت و شنید کے بعد بغیر کسی معاہدے کے ختم ہو گئے۔ یہ مذاکرات ۲۸ فروری کو شروع ہونے والی امریکی اسرائیلی جنگ کے بعد ایک عارضی دو ہفتے کی جنگ بندی کے دوران ہوئے ۔ جہاں ایک طرف امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسے ایران کے لیے "بری خبر" قرار دیا، وہیں ایران نے امریکہ کی "حد سے زیادہ" اور "غیر قانونی" مطالبات کو ناکامی کی بنیادی وجہ ٹھہرایا ۔ کیا امریکہ کی "حد سے زیادہ مطالبات" مذاکرات کی ناکامی کی اصل وجہ تھی؟ ایرانی ذرائع ابلاغ اور حکام کے مطابق، امریکی وفد نے گفت و شنید کے دوران ایسے مطالبات اٹھا دیے جو کہ ایران کے لیے کسی بھی صورت قابل قبول نہ تھے۔ ایران کے قونصلر جنرل ممبئی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارفم ایکس پر اس حوالے سے پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ "ایران نے ایک بڑا نہیں کہا، مذاکرات ختم" ۔ ایرانی ترجمان نے واضح کیا کہ جب تک امریکہ اپنے "حد سے زیادہ" مطالبوں سے باز نہیں آتا، اس ...

پاکستان امریکہ-ایران ثالثی میں مصروف،کیا بھارت واقعی خاموش تماشائی بن کر رہ گیا؟

Image
 جب مشرق وسطیٰ میں ایران اور امریکہ-اسرائیل اتحاد کے درمیان کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تو عالمی طاقتیں اپنی اپنی پوزیشن واضح کرنے میں مصروف ہو گئیں۔ لیکن سب کی توجہ ایک غیر متوقع دعویدار کی طرف مبذول ہوئی: پاکستان۔ ایک ایسا ملک جسے گزشتہ چند برسوں میں معاشی مشکلات اور سیاسی عدم استحکام کا سامنا تھا، آج واشنگٹن اور تہران کے درمیان رابطے کا اہم ذریعہ بن کر ابھرا ہے ۔ یہ صورتحال دیکھ کر جنوبی ایشیا کے سب سے بڑے ملک بھارت میں ہلچل مچ گئی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا واقعی بھارت کو اس سفارتی کھیل میں نظر انداز کر دیا گیا ہے؟ پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کیوں کر رہا ہے؟ پاکستان کا یہ کردار اچانک پیدا نہیں ہوا۔ یہاں دو اہم عوامل کارفرما ہیں۔ اول، پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع۔ ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد  اور خلیجی ممالک سے گہرے تعلقات پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔ پاکستان واحد سنی اکثریتی ملک ہے جس کا شیعہ اکثریتی ایران کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور تجارتی تعلقات ہیں ۔ دوم، "فیلڈ مارشل" عاصم منیر کی زیر قیادت پاکستانی فوج نے ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ کھ...

سوڈان مسلم برادرہڈ: ایک خطرناک تنظیم کی کہانی اور اس کا انجام

Image
سولہ مارچ دو ہزار چھبیس کو امریکی محکمہ خارجہ نے ایک ایسا تاریخی فیصلہ کیا جس نے مشرق وسطیٰ اور شمال مشرقی افریقہ کی سیاسیات میں ایک نیا موڑ پیدا کر دیا۔ سوڈان میں مسلم برادرہڈ کو باضابطہ طور پر "خصوصی طور پر نامزد کردہ عالمی دہشت گرد" قرار دے دیا گیا۔ یہ فیصلہ نہ صرف سوڈان بلکہ پورے خطے میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ سوڈان میں مسلم برادرہڈ کا تاریخی پس منظر کیا ہے؟ سوڈان میں مسلم برادرہڈ کی جڑیں اکیسویں صدی کی آخری دہائیوں میں پھیلی ہوئی ہیں۔ سن انیس سو اناسی میں عمر البشیر کی فوجی بغاوت کے بعد یہ تنظیم بتدریج سوڈانی ریاست کے کلیدی اداروں میں داخل ہوتی گئی۔ تین دہائیوں کے طویل عرصے میں اس گروپ نے سوڈان کی سیاسی، عسکری اور عدالتی نظاموں کو اپنے نظریاتی ایجنڈے کے تابع کر دیا۔ دارفور اور جنوبی سوڈان میں ہونے والے مظالم اور بین الاقوامی جرائم اس گروپ کی سیاسی تشدد پر مبنی سوچ کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ امریکہ نے سوڈان کی مسلم برادرہڈ کو دہشت گرد کیوں قرار دیا؟ امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، سوڈان کی مسلم برادرہڈ اور اس کی مسلح شاخ "البراء بن مال...