پاکستان امریکہ-ایران ثالثی میں مصروف،کیا بھارت واقعی خاموش تماشائی بن کر رہ گیا؟
پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان ثالثی کیوں کر رہا ہے؟
پاکستان کا یہ کردار اچانک پیدا نہیں ہوا۔ یہاں دو اہم عوامل کارفرما ہیں۔ اول، پاکستان کا جغرافیائی محل وقوع۔ ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد اور خلیجی ممالک سے گہرے تعلقات پاکستان کو ایک منفرد حیثیت دیتے ہیں۔ پاکستان واحد سنی اکثریتی ملک ہے جس کا شیعہ اکثریتی ایران کے ساتھ مذہبی، ثقافتی اور تجارتی تعلقات ہیں ۔ دوم، "فیلڈ مارشل" عاصم منیر کی زیر قیادت پاکستانی فوج نے ثابت کیا ہے کہ وہ عالمی طاقتوں کے ساتھ کھیلنا جانتی ہے۔ ۱۹۷۱ میں امریکہ-چین روابط سے لے کر ۲۰۲۵ تک، پاکستان نے ہمیشہ اپنی افادیت ثابت کی ہے ۔
بھارتی وزیر خارجہ جے شنکر نے پاکستان کو "دلال" کیوں کہا؟
نئی دہلی میں پاکستان کے اس کردار نے ایک نفسیاتی جھٹکا دیا ہے۔ بھارتی وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایک اعلیٰ سطحی اجلاس میں پاکستان کو "دلال" کہہ کر مخاطب کیا ۔ یہ لفظ نہ صرف سفارتی آداب کے منافی ہے بلکہ اس سے بھارت کی مایوسی بھی جھلکتی ہے۔ جے شنکر نے کہا کہ "ہم دوسروں سے پوچھ کر دلالی نہیں کرتے" ۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ بھارت خود یوکرین جنگ میں ثالثی کے دعوے کر چکا ہے ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ "سور گریپس" والی صورتحال ہے — انگور کھٹے ہیں۔
Controversial diplomatic row.. Indian External Affairs Minister S. Jaishankar called #Pakistan a “dalal nation” (broker) amid debate over its mediation role in US‑Iran tensions, sparking strong reactions from politicians, bureaucrats and journalists in both countries.— Desi News Network (@network_de7) March 27, 2026
کیا مودی کی اسرائیل سے دوستی بھارت کو مہنگی پڑ رہی ہے؟
بھارت کے اس سفارتی عدم توازن کی ایک بڑی وجہ وزیراعظم نریندر مودی کی اسرائیل سے بڑھتی ہوئی قربت ہے ۔ جنگ شروع ہونے سے عین قبل مودی کا اسرائیل کا دورہ اور غزہ پر اسرائیلی کارروائیوں پر خاموشی نے تہران میں بھارت کے بارے میں شدید بدگمانی پیدا کر دی ہے ۔ ایک طرف بھارت نے ایران کے ساتھ چابہار بندرگاہ پر کام کیا، دوسری طرف اس نے اسرائیل کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون بھی کیا ۔ یہ دوہری پالیسی بھارت کو کسی بھی فریق کا بھروسہ مند ثالث نہیں بننے دیتی۔
ایران جنگ کے معاشی اثرات بھارت پر کیا ہیں؟
بھارت کے لیے یہ جنگ کوئی دور کی جنگ نہیں ہے۔ اس کے ۹۰ لاکھ سے زائد شہری خلیجی ممالک میں مقیم ہیں ۔ تیل کی قیمتوں میں اضافے نے بھارتی روپے پر دباؤ ڈال رکھا ہے۔ اندازے کے مطابق ۱۸ بھارتی تیل بردار بحری جہاز خلیج فارس میں پھنسے ہوئے ہیں ۔ اس کے برعکس، ایران نے پاکستان کے ۲۰ جہازوں کو آمدورفت کی اجازت دے دی ہے ۔ جہاں بھارت اپنی معیشت بچانے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے، وہاں پاکستان اپنی موجودگی منوا رہا ہے۔
کیا پاکستان کی سفارتی کامیابی بھارت کے لیے دیرپا خطرہ ہے؟
اگرچہ پاکستان اس وقت عالمی میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے، لیکن ماہرین اسے عارضی کامیابی قرار دیتے ہیں۔ اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگلمین کے مطابق، "یہ غلط فہمی ہے کہ بھارت اس دوڑ میں کبھی شامل تھا" ۔ بھارت کی معیشت پاکستان سے سات گنا بڑی ہے۔ بھارت کے پاس وسائل اور طاقت ہے، لیکن اس کے پاس اعتبار نہیں ہے۔ پاکستان کو یہ کامیابی اپنی جغرافیائی مجبوریوں کی وجہ سے ملی ہے ۔ تاہم، اگر پاکستان نے ثالثی میں کامیابی حاصل کر لی، تو یہ اس کی سفارتی صلاحیتوں کا ثبوت ہو گا اور بھارت کو اپنی حکمت عملی پر نظر ثانی کرنی پڑے گی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات (FAQs)
سوال: کیا پاکستان واقعی ایران اور امریکہ کے درمیاں جنگ روک سکتا ہے؟
پاکستان نے امن کے لیے ۵ نکاتی منصوبہ پیش کیا ہے اور مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ہے ۔ تاہم، ایران نے براہ راست مذاکرات سے انکار کر دیا ہے۔ پاکستان کا کردار فی الحال "پیغام رساں" کا ہے، فیصلہ ساز کا نہیں۔
سوال: بھارت اس ثالثی کا حصہ کیوں نہیں ہے؟
بھارت کی اسرائیل اور امریکہ سے زیادہ قربت اور ایران میں اعتماد کی کمی اسے ثالث نہیں بننے دیتی ۔ نیز، بھارت نے خود کبھی کسی بڑے عالمی تنازع میں کامیاب ثالثی نہیں کی۔
سوال: کیا اس سفارتی کامیابی سے پاکستان کی معیشت بہتر ہو گی؟
یہ طویل مدتی میں امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر کر سکتا ہے، جس سے مالی امداد کے امکانات بڑھتے ہیں۔ لیکن فوری طور پر معیشت پر کوئی خاص اثر نظر نہیں آتا۔

Comments
Post a Comment