امریکہ میں سیاسی تشدد کی نئی داستان: ٹرمپ کیخلاف تیسری قاتلانہ کوشش
واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ایسوسی ایشن کے سالانہ ڈنر کے دوران پیش آنے والا حملہ نہ صرف امریکی تاریخ کی ایک چونکا دینے والی واردات ہے بلکہ یہ اس بات کی بھی عکاسی کرتا ہے کہ سیاسی کشیدگی کس طرح تشدد کو جنم دیتی ہے۔ ۲۵ اپریل ۲۰۲۶ کی شام، جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ، خاتون اول میلانیا ٹرمپ، نائب صدر جے ڈی وینس اور کابینہ کے دیگر ارکان واشنگٹن ہلٹن ہوٹل کے عالیشان ہال میں نامور صحافیوں کے ہمراہ شام کے کھانے میں شریک تھے، اسی اثنا میں ایک مسلح شخص نے ہوٹل کی سیکیورٹی چیک پوسٹ پر حملہ کر دیا۔ یہ واقعہ ایسے وقت پیش آیا جب امریکہ پہلے ہی گہری سیاسی تقسیم اور بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کی لپیٹ میں تھا۔
پس منظر: ڈنر جو محض کھانے کی محفل نہیں تھا
وائٹ ہاؤس کرسپانڈنٹس ڈنر واشنگٹن کے معاشرتی کیلنڈر کا ایک اہم حصہ ہے، جہاں صدر، سیاستدان، صحافی اور مشاہیر جمع ہوتے ہیں۔ اس بار یہ ڈنر خاص تھا کیونکہ صدر ٹرمپ نے پہلی بار صدر منتخب ہونے کے بعد اس تقریب میں شرکت کی تھی، جبکہ گزشتہ برسوں میں وہ اسے بائیکاٹ کرتے رہے تھے۔ اس تقریب میں تقریباً ۲۶۰۰ مہمان شریک تھے، جنہیں خود ہوٹل میں داخل ہونے کے لیے صرف ٹکٹ دکھانا تھا، جبکہ مرکزی ہال میں جانے کے لیے میٹل ڈیٹیکٹرز سے گزرنا لازمی تھا۔
یہی کمزوری وہ نقطہ تھی جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حملہ آور ہوٹل میں گھس آیا۔
واقعہ کیسے پیش آیا: گھڑی کی سوئیاں جیسے تھم گئیں
مقامی وقت کے مطابق رات ۸:۳۵ بجے کے قریب، ۳۱ سالہ کول ٹامس ایلن نامی شخص نے ہوٹل کی چھت پر موجود سیکیورٹی چیک پوسٹ کو توڑنے کی کوشش کی۔ اس نے اپنے ساتھ ایک شاٹ گن، ایک ہینڈ گن اور متعدد چھریاں رکھی تھیں۔
ملزم نے سیکیورٹی عملے پر فائرنگ کی، جس سے ایک سیکرٹ سروس اہلکار کے جسم پر گولی لگی، مگر خوش قسمتی سے بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے وہ بال بال بچ گئے۔ اس کے بعد افراتفری پھیل گئی - لوگ "نیچے جھکو، نیچے جھکو" کی چیخیں لگانے لگے، مہمان ٹیبلوں کے نیچے چھپ گئے، اور سیکیورٹی اہلکاروں نے کابینہ کے ارکان کو زمین پر گرا دیا۔
سیکریٹ سروس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے صدر ٹرمپ، خاتون اول اور نائب صدر کو اسٹیج سے ہٹا کر باہر نکال لیا۔ تصور کیجیے - ٹکسڈو اور شاندار گاؤن میں ملبوس لوگ، چاندی کے برتن اور مہنگے پھول - ایک دم ایک جنگی علاقے میں تبدیل ہو گئے تھے۔
Firing at US President Donald Trump during dinner at the White House, Trump narrowly escapes, security personnel reported to have neutralized the attacker#Breaking #Trump #WhiteHouse #USNews #FactCheck pic.twitter.com/2wRxppSr60
— Sanjeev Yadav (@sanjeevyadav007) April 26, 2026
حملہ آور کون اور اس کا محرک کیا تھا؟
ملزم کول ٹامس ایلن کا تعلق کیلیفورنیا کے شہر ٹورینس سے تھا۔ حکام کے مطابق وہ ٹرین کے ذریعے لاس اینجلس سے شکاگو اور پھر واشنگٹن ڈی سی پہنچا تھا، اور اس نے حملے سے چار روز قبل ہوٹل میں کمرہ بُک کرایا تھا۔
سب سے خطرناک بات یہ ہے کہ اس نے حملے سے قبل اپنے رشتہ داروں کو ایک طویل منشور (اضافی بیان) ای میل کیا، جس میں اس نے خود کو "فرینڈلی فیڈرل اساسن" (دوست وفاقی قاتل) قرار دیا تھا۔ اس منشور میں ٹرمپ انتظامیہ کے عہدیداروں کو "نشانہ" قرار دیا گیا تھا، جنہیں سب سے اعلیٰ سے کم تر درجے پر ترجیح دی گئی تھی۔ اس نے لکھا:
"میں اندر آتا ہوں کئی ہتھیاروں کے ساتھ اور وہاں ایک بھی شخص اس امکان پر غور نہیں کرتا کہ میں خطرہ ہو سکتا ہوں"۔
صدر ٹرمپ نے خود اس منشور کو "مسیحی مخالف" قرار دیا، جس میں مذہبی منافرت کی جھلک تھی۔ بدقسمتی سے ایلن کی بہن نے حکام کو بتایا کہ وہ اکثر انتہائی بیانات دیتا تھا اور اس نے "نو کنگز" نامی ٹرمپ مخالف مظاہرے میں بھی شرکت کی تھی۔
عالمی اور سیاسی اثرات: کیا یہ صرف ایک پاگل شخص کا کام تھا یا نظام کا سقوط؟
وائٹ ہاؤس نے اس حملے کو "بائیں بازو کے نفرت کے کلچر" کا نتیجہ قرار دیا۔ پریس سیکرٹری کیرولین لیویٹ نے بریفنگ میں کہا کہ ڈیموکریٹک رہنماؤں کی "فاشسٹ"، "ہٹلر" اور "جمہوریت کے لیے خطرہ" جیسی زبان نے ایسا ماحول پیدا کیا ہے جو تشدد کو دعوت دیتا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے ڈیموکریٹک رہنماؤں کے متعدد بیانات کی فہرست بھی جاری کی، جن میں گیون نیوزم کا "ان کمینوں کے منہ پر مکے مارو" اور جے بی پریٹزکر کا "ریپبلکنز کو ایک لمحے کا سکون نہیں ملنا چاہیے" جیسے الفاظ شامل تھے۔
دوسری جانب، عالمی رہنماؤں نے حملے کی مذمت کی۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے کہا کہ "جمہوریت میں تشدد کی کوئی جگہ نہیں"، جبکہ نیٹو کے سربراہ مارک روٹے نے اسے "آزاد اور کھلے معاشروں پر حملہ" قرار دیا۔
مستقبل میں سیکیورٹی کے چیلنجز
یہ حملہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی سیکیورٹی نظام میں کھلی ہوئی دراڑیں موجود ہیں۔ صدر ٹرمپ نے خود ہوٹل کو "خاص طور پر محفوظ عمارت نہیں" قرار دیا، جو رونالڈ ریگن پر ۱۹۸۱ میں ہونے والے قاتلانہ حملے کی جگہ بھی تھی۔
وائٹ ہاؤس چلیف آف اسٹاف سوزی وائلز نے ہوم لینڈ سیکیورٹی اور سیکرٹ سروس کے اعلیٰ حکام کے ساتھ میٹریں طلب کر لی ہیں۔ صدر ٹرمپ نے ۳۰ دنوں میں دوبارہ ڈنر منعقد کرنے کا اعلان کیا ہے، لیکن اس بار سیکیورٹی میں کوئی کمی نہیں چھوڑی جائے گی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا واقعی صدر ٹرمپ اس حملے کا نشانہ تھے؟
جی ہاں، قائم مقام اٹارنی جنرل ٹوڈ بلانچے نے تصدیق کی کہ ابتدائی تحقیقات سے پتہ چلا ہے کہ ملزم نے انتظامیہ کے عہدیداروں کو نشانہ بنایا تھا، جس میں صدر ٹرمپ بھی شامل تھے۔
سوال: ٹرمپ کے خلاف قاتلانہ کوششوں کی تعداد کتنی ہے؟
وائٹ ہاؤس کے مطابق یہ ۲ سالوں میں صدر ٹرمپ کے خلاف تیسری بڑی قاتلانہ کوشش تھی۔ اس سے قبل پنسلوانیا میں جولائی ۲۰۲۴ اور فلوریڈا میں ستمبر ۲۰۲۴ میں کوششیں ہوئی تھیں۔
سوال: سیکرٹ سروس کا کیا کردار رہا؟
سیکرٹ سروس نے فوری ردعمل دیتے ہوئے صدر اور دیگر حکام کو محفوذ مقام پر منتقل کیا۔ ایک اہلکار زخمی ہوا مگر بلٹ پروف جیکٹ کی وجہ سے بچ گیا۔ حملہ آور کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا گیا۔
سوال: اس واقعے نے امریکی سیاست پر کیا اثر ڈالا؟
اس واقعے نے سیاسی کشیدگی کو مزید ہوا دی ہے، جہاں دونوں جماعتیں ایک دوسرے پر تشدد کی ترغیب دینے کا الزام لگا رہی ہیں۔ یہ امریکہ میں بڑھتے ہوئے سیاسی تشدد کی ایک کڑی ہے۔
.png)
Comments
Post a Comment