پاکستان جسے دہشت گردی کا گھر کہا جاتا تھا، آج دنیا کے کا امن سفیر


جب اپریل ۲۰۲۶ میں اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات ہوئے تو دنیا نے حیرت سے دیکھا کہ ایک ملک جو کبھی دہشت گردی کا مرکز سمجھا جاتا تھا، آج دو بڑی طاقتوں کے درمیان ثالث بن کر ابھرا ہے۔ پاکستان عالمی امن ثالث کے طور پر اپنی نئی شناخت بنا رہا ہے ۔


پاکستان نے امریکہ-ایران جنگ میں ثالثی کیسے کی؟

ستم ظریفی دیکھیے کہ جس پاکستان پر ماضی میں دہشت گردی کے فروغ کا الزام لگایا جاتا تھا، آج وہی پاکستان امریکہ اور ایران کے درمیان امن قائم کرنے میں مصروف ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ میں وزیراعظم شہباز شریف نے عوام کے سامنے امریکہ-ایران مذاکرات کی میزبانی کی پیشکش کی ۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس پیشکش کو سوشل میڈیا پر ری پوسٹ کیا، جسے سفارتی حلقوں میں واشنگٹن کی جانب سے گرین سگنل قرار دیا گیا۔ چوبیس گھنٹے بعد ہی پاکستان نے جنگ بندی کروانے میں کامیابی حاصل کر لی ۔

یہ صرف اتفاق نہیں تھا۔ پاکستان نے مئی ۲۰۲۵ میں بھارت کے ساتھ مختصر مگر شدید جنگ لڑی اور افغانستان کے ساتھ بھی دو مرتبہ تصادم کیا ۔ ان مقابلوں نے پاکستان کی عسکری صلاحیتوں کو دنیا کے سامنے ثابت کیا۔


فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار امن مذاکرات میں کیا ہے؟

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں پاکستان کی فوجی قیادت نے ایک نئی سوچ اپنائی ہے۔ وائٹ ہاؤس نے انہیں "فیلڈ مارشل صاحب" کہہ کر مخاطب کیا ۔

اپریل ۲۰۲۶ میں جب فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچے تو ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا۔ وائٹ ہاؤس کی پریس سیکرٹری کرولین لیویٹ نے کہا:

"پاکستانی اس پورے عمل میں ناقابلِ یقین ثالث رہے ہیں۔ ہم واقعی ان کی دوستی اور اس معاہدے کو ممکن بنانے کی کوششوں کی تعریف کرتے ہیں" ۔

یہ وہی پاکستان ہے جسے ماضی میں دہشت گردی کا مرکز کہا جاتا تھا۔ آج یہی پاکستان عالمی امن کے لیے کام کر رہا ہے۔

پاکستان کو عالمی امن کا سفیر کیوں کہا جا رہا ہے؟

بین الاقوامی تعلقات کے ماہرین کے مطابق پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب ایک "عالمی کھلاڑی" بن چکا ہے ۔ اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات نے پوری دنیا کو پیغام دیا کہ پاکستان اب سفارت کاری کے میدان میں بھی مہارت رکھتا ہے۔

راجہ قیصر احمد، جو اسلام آباد کی قائداعظم یونیورسٹی میں پروفیسر ہیں، کہتے ہیں:

"بین الاقوامی سیاست میں کرنسی طاقت ہے۔ جب آپ نے اسے آپریشنل طور پر دکھا دیا، تو اب آپ اسے سفارتی طور پر استوار کر رہے ہیں" ۔

پاکستان کی جغرافیائی اہمیت بھی اس کامیابی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ پاکستان ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے اور چین کا قریبی دوست بھی ہے۔ یہ انوکھی پوزیشن پاکستان کو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ثالث بناتی ہے ۔


اسلام آباد مذاکرات کے نتائج کیا تھے؟

اگرچہ پہلے دور کے مذاکرات میں کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا، لیکن یہ خود ایک بڑی کامیابی تھی۔ اکیس گھنٹے تک جاری رہنے والے ان مذاکرات میں امریکہ اور ایران ایک ہی میز پر بیٹھے ۔

امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ کوئی معاہدہ نہیں ہوا، لیکن شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے "حیرت انگیز کام کیا" ۔

ذرائع کے مطابق اب دوسرے دور کے مذاکرات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ کا ایک نیا تجویز لے کر تہران گئے ہیں ۔


کیا پاکستان واقعی ایک قابل اعتماد ثالث ہے؟

اٹلانٹک کونسل کے سینئر فیلو مائیکل کوگلمان کے مطابق پاکستان کو "اسٹریٹجک خود مختاری کے معاملے میں ایک غیر معروف کامیابی کی کہانی" کہا جا سکتا ہے ۔

ان کا مزید کہنا ہے کہ اگر جنگ دوبارہ شروع بھی ہو جائے تو پاکستان کی ساکھ کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔ بلکہ اس نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ اس میں اس قسم کی سفارت کاری کرنے کی صلاحیت موجود ہے ۔


بھارت پاکستان کے ابھرتے ہوئے کردار پر کیوں پریشان ہے؟

یہ بات دلچسپ ہے کہ جہاں پوری دنیا پاکستان کی سفارتی کامیابی کی تعریف کر رہی ہے، وہاں بھارتی میڈیا منفی پروپیگنڈا کر رہا ہے ۔

بھارتی تجزیہ کار سنیل پلی پاکا نے ایک رپورٹ میں لکھا کہ امریکہ اور ایران نے پاکستان کو ایک مخصوص جغرافیائی سیاسی سیاق و سباق میں ثالث چنا ہے ۔

مگر حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی بڑھتی ہوئی سفارتی اہمیت بھارت کو پریشان کر رہی ہے۔ مودی حکومت اس حقیقت کو ہضم نہیں کر پا رہی کہ اس کا پڑوسی ملک اب عالمی امن کے لیے کام کر رہا ہے ۔


پاکستان کی معیشت پر سفارتی کامیابی کے کیا اثرات ہوں گے؟

پاکستان کی سفارتی کامیابی کا براہ راست اثر معیشت پر بھی پڑے گا۔ جب پاکستان عالمی امن کا سفیر بنے گا تو غیر ملکی سرمایہ کاری بڑھے گی۔

ماہرین کے مطابق پاکستان کی معیشت اب بحالی کی جانب گامزن ہے۔ سفارتی کامیابیاں اور معاشی استحکام ایک دوسرے کو تقویت دیتے ہیں ۔

پاکستان اب اپنی سفارتی اہمیت کو عوام کے لیے خوشحالی میں تبدیل کرنے کی پوزیشن میں ہے۔ استحکام تجارتی راہداریاں کھولتا ہے، سرمایہ کاری لاتا ہے، اور ترقی کے مواقع پیدا کرتا ہے ۔


مستقبل میں پاکستان کا عالمی کردار کیسا ہو گا؟

پاکستان نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ اب عالمی سیاست میں ایک "اسٹیبلائزر" کے طور پر ابھر رہا ہے ۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی تہران آمد اور وزیراعظم شہباز شریف کا سعودی عرب، قطر اور ترکی کا دورہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان اب علاقائی امن کے لیے سنجیدہ ہے ۔

پاکستان اور ترکی نے جناح-۱۳ مشترکہ فوجی مشقیں مکمل کی ہیں، جس سے علاقائی دفاعی تعاون کو فروغ ملا ہے ۔

مستقبل قریب میں اسلام آباد میں ایک امن سمٹ منعقد ہونے کی توقع ہے جو خطے میں مستقل امن کی بنیاد رکھ سکتی ہے ۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا پاکستان واقعی دہشت گردی کے مرکز سے امن کا سفیر بن گیا ہے؟

جی ہاں، پاکستان نے گزشتہ چند ماہ میں اپنی سفارتی صلاحیتوں کا لوہا منوایا ہے۔ امریکہ اور ایران جیسی بڑی طاقتوں کے درمیان ثالثی کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ وائٹ ہاؤس اور تہران دونوں نے پاکستان کے کردار کو سراہا ہے ۔

سوال: پاکستان کو امریکہ اور ایران نے ثالث کیوں چنا؟

پاکستان کی منفرد جغرافیائی حیثیت، ایران کے ساتھ ۹۰۰ کلومیٹر طویل سرحد، چین کے ساتھ گہرے تعلقات، اور امریکہ کے ساتھ اسٹریٹجک شراکت داری نے پاکستان کو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ثالث بنا دیا ہے ۔

سوال: فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کردار امن مذاکرات میں کیا ہے؟

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے امریکہ اور ایران کے درمیان پل کا کام کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس نے انہیں "فیلڈ مارشل صاحب" کہہ کر مخاطب کیا اور ان کی کاوشوں کو سراہا ۔ وہ تہران بھی گئے اور امریکہ کا نیا تجویز ایرانی رہنماؤں تک پہنچایا ۔

سوال: کیا بھارت پاکستان کے بڑھتے ہوئے کردار سے پریشان ہے؟

جی ہاں، بھارتی میڈیا اور حکومت پاکستان کی سفارتی کامیابی کو ہضم نہیں کر پا رہی۔ بھارت کے برعکس جہاں مودی فرقہ وارانہ سیاست کر رہے ہیں، وہاں پاکستان عالمی امن کے لیے کام کر رہا ہے ۔

سوال: کیا پاکستان کی معیشت پر اس کامیابی کے مثبت اثرات مرتب ہوں گے؟

ماہرین کے مطابق سفارتی کامیابیوں کا براہ راست اثر معیشت پر پڑتا ہے۔ استحکام سرمایہ کاری لاتا ہے اور تجارتی راہداریاں کھولتا ہے۔ پاکستان اب اپنی سفارتی اہمیت کو عوام کی خوشحالی میں تبدیل کرنے کی پوزیشن میں ہے ۔

سوال: کیا مزید مذاکرات ہوں گے؟

جی ہاں، ذرائع کے مطابق دوسرے دور کے مذاکرات کے امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران سے امریکہ کا ایک تجویز لے کر گئے ہیں اور توقع ہے کہ جلد ہی اسلام آباد میں ایک اور دور مذاکرات ہو گا ۔

Comments

Popular posts from this blog

امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے Emirates ID کی فیس میں نئ اپڈیٹ ۔

آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی: ٹرمپ کی الٹی میٹم اور ایران کا سخت جواب

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ