کوئٹہ میں صحافیوں کا احتجاج: پیکا قانون کے خلاف آواز اور پریس آزادی کے لیے عزم


کوئٹہ میں عالمی یوم آزادی صحافت کے موقع پر صحافیوں کی بڑی تعداد نے پریس کلب کے باہر جمع ہو کر پیکا قانون کے خلاف زبردست احتجاج کیا اور پریس آزادی کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا عزم کیا ۔ کوئٹہ میں صحافیوں کا پریس آزادی کے لیے عزم ایک نئی مثال قائم کرتا ہے، جہاں صحافیوں نے “بلیک لاء” قرار دیئے جانے والے الیکٹرانک کرائمز ایکٹ (پیکا) کو مسترد کرتے ہوئے اسے فوری طور پر ختم کرنے کا مطالبہ کیا۔


پیکا قانون صحافیوں کے لیے کیوں خطرہ ہے؟

پیکا قانون، جو ظاہراً جعلی خبروں اور ڈیجیٹل دہشت گردی کے خلاف لایا گیا تھا، اب حقیقت میں صحافیوں کو خاموش کرنے کا ایک ہتھیار بن چکا ہے ۔ انٹرنیشنل فیڈریشن آف جرنلسٹس کی رپورٹ کے مطابق، پیکا میں کی گئی ترامیم نے اسے ریاستی نگرانی اور کنٹرول کا اہم ذریعہ بنا دیا ہے۔ صحافیوں کو آن لائن تبصروں کی بنیاد پر دہشت گردی کے مقدمات میں سزائیں سنائی جا رہی ہیں، حتیٰ کہ غیر حاضری میں عمر قید کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں ۔ کوئٹہ میں احتجاج کرنے والے صحافیوں کا کہنا تھا کہ یہ قانون ڈیجیٹل اسپیس کو محدود کرنے اور اختلافی آوازوں کو کچلنے کی ایک کھیل کود ہے۔


بلوچستان میں صحافیوں کو کن خطرات کا سامنا ہے؟

بلوچستان صحافیوں کے لیے پورے پاکستان میں سب سے زیادہ خطرناک علاقہ ہے ۔ فریڈم نیٹورک کی ایک رپورٹ کے مطابق، گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان میں ۴۰ صحافی ڈیوٹی کے دوران شہید ہوئے جن میں سے ۳۰ کو ٹارگٹ کِل کیا گیا ۔ کوئٹہ پریس کلب کے باہر احتجاج میں شریک صحافیوں نے ان شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی قربانیاں اس خطے میں آزاد صحافت کی اہمیت کو واضح کرتی ہیں ۔

صحافیوں کو ریاستی اور غیر ریاستی دونوں قسم کے عناصر کی طرف سے خطرات کا سامنا ہے۔ علیحدگی پسند گروپ، سیکیورٹی ادارے، سیاسی و قبائلی رہنما، اور یہاں تک کہ مشتعل ہجوم بھی صحافیوں پر تشدد کرتے ہیں ۔ خواتین صحافیوں کے لیے صورتحال اور بھی مشکل ہے، وہ نقل و حرکت کی پابندیوں، نیوز روم میں امتیازی سلوک، تنخواہوں میں عدم مساوات اور ہراسانی کا شکار ہیں ۔


حکومت کا موقف اور حقیقت

حکومت نے اپنی طرف سے وعدے کیے ہیں۔ وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ نے عالمی یوم آزادی صحافت پر اپنے بیان میں کہا کہ حکومت ایک آزاد، ذمہ دار اور متحرک میڈیا کی پابند ہے ۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا روایتی میڈیا جمہوری اقدار کا مضبوط ستون ہے اور ڈیجیٹل پلیٹ فارم پاکستان کی حقیقی تصویر پیش کرنے میں مدد دے رہے ہیں ۔

لیکن حقیقت اس بیان کے برعکس ہے۔ پاکستان پریس فاؤنڈیشن کی تازہ رپورٹ کے مطابق، جنوری ۲۰۲۵ سے اپریل ۲۰۲۶ کے درمیان صحافیوں کے خلاف تشدد، گرفتاریوں، اغواء اور مقدمات کے ۲۳۳ واقعات ریکارڈ کیے گئے ۔ ان میں ۶۷ فزیکل حملے، ۱۱ گرفتاریاں، ۳ اغواء اور ۳۱ مقدمات شامل ہیں ۔ یہ اعداد و شمار واضح کرتے ہیں کہ جمہوری حکومت میں بھی ماضی کی آمریتوں کے مقابلے میں میڈیا پر پابندیاں بڑھی ہیں۔

جمہوریت اور آزاد صحافت

آزاد صحافت جمہوریت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ گورنر بلوچستان نے بھی تسلیم کیا کہ آزادی اظہار آئینی حق ہے اور جمہوریت کی بنیاد ہے ۔ لیکن عملی طور پر یہ حق صحافیوں سے چھین لیا گیا ہے۔ پشتونخوا ملی عوامی پارٹی کے مطابق، پریس کلبوں کو سیل کیا جا رہا ہے، اخبارات اور میڈیا آفس بند ہو رہے ہیں، اور سینکڑوں ملازمین بے روزگار ہو چکے ہیں ۔

حزب اختلاف نے بھی اس صورتحال پر سخت تنقید کی ہے۔ قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی نے انٹیلیجنس ایجنسیوں کو سیاسی مداخلت سے باز رہنے کی تنبیہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کو اندرونی تنازع کی طرف دھکیلا جا رہا ہے ۔


صحافیوں کے مطالبات

کوئٹہ میں احتجاج کرنے والے صحافیوں نے مندرجہ ذیل مطالبات اٹھائے ہیں:

۱. پیکا قانون کو فوری طور پر ختم کیا جائے یا اس پر تمام اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نظر ثانی کی جائے ۔

۲. پریس آزادی پر تمام پابندیاں ختم کی جائیں ۔

۳. صحافیوں اور میڈیا ورکرز کی حفاظت کو یقینی بنایا جائے ۔

۴. کوئٹہ میں بند ہونے والے ٹی وی چینلز اور اخبارات کے بیورو آفس فوری طور پر بحال کئے جائیں ۔

۵. اپنی نوکریوں سے نکالے گئے صحافیوں کو بحال کیا جائے ۔

۶. ملازمت کی حفاظت اور تنخواہوں کی بروقت ادائیگی کو یقینی بنایا جائے ۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا پیکا قانون واقعی صحافیوں کے لیے خطرہ ہے؟

جی ہاں، IFJ کی ۲۰۲۵-۲۶ کی رپورٹ کے مطابق، پیکا قانون کو ترامیم کے بعد صحافیوں کے خلاف ریاستی نگرانی اور جبر کا اہم ذریعہ بنا دیا گیا ہے۔ صحافیوں کو آن لائن تبصروں پر دہشت گردی کے مقدمات میں سزائیں سنائی جا رہی ہیں ۔

سوال: بلوچستان میں کتنے صحافی شہید ہوئے ہیں؟

گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بلوچستان میں ۴۰ سے زائد صحافی اور میڈیا ورکر ڈیوٹی کے دوران شہید ہوئے۔ ان میں سے تقریباً ۳۰ کو ٹارگٹ کِل کیا گیا ۔

سوال: حکومت نے صحافیوں کے خلاف کیا کارروائیاں کی ہیں؟

پاکستان پریس فاؤنڈیشن کے مطابق، جنوری ۲۰۲۵ سے اپریل ۲۰۲۶ کے درمیان صحافیوں کے خلاف تشدد، گرفتاریوں، اغواء اور مقدمات کے ۲۳۳ واقعات ریکارڈ کئے گئے ۔

سوال: کیا جمہوری حکومت میں پریس آزادی بہتر ہے؟

نہیں، صحافیوں کے مطابق جمہوری حکومت میں بھی پابندیاں بڑھی ہیں، جو ماضی کی آمریتوں سے بھی زیادہ ہیں ۔

سوال: صحافیوں کا سب سے بڑا مطالبہ کیا ہے؟

صحافیوں کا سب سے بڑا مطالبہ پیکا قانون کو فوری طور پر ختم کرنا اور پریس آزادی پر تمام پابندیاں ہٹانا ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے Emirates ID کی فیس میں نئ اپڈیٹ ۔

آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی: ٹرمپ کی الٹی میٹم اور ایران کا سخت جواب

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ