فیک نیوز کا پھیلاؤ اور حقیقت کی بازیابی ملیشین وزیراعظم کی کتاب کے معاملے سے سبق"
ڈیجیٹل میڈیا کے اس دور میں، جہاں خبریں لمحوں میں وائرل ہو جاتی ہیں، تصدیق اور تحقیق کی اہمیت پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ گئی ہے۔ حال ہی میں ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر تیزی سے پھیلی جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ ملیشین وزیراعظم داتو سری انور ابراہیم نے پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کو ان کے دورۂ ملیشیا کے دوران عمران خان کے بارے میں لکھی گئی کتاب تحفے میں دی۔ یہ دعویٰ لاکھوں بار دیکھا اور ہزاروں بار شیئر کیا گیا، لیکن جلد ہی یہ بات سامنے آئی کہ ویڈیو کو ایڈیٹ کر کے حقیقت کو مسخ کیا گیا تھا۔ دراصل، وزیراعظم شہباز کو انور ابراہیم کی اپنی تصنیف “اسکرپٹ: فار اے بیٹر ملیشیا” کا اردو ترجمہ پیش کیا گیا تھا۔
حکومتِ پاکستان کے آفیشل سوشل میڈیا اکاؤنٹس، برنامہ (ملیشیا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی) اور اے پی پی (پاکستان کی سرکاری نیوز ایجنسی) نے وضاحت کی کہ تقریب کا مقصد ملیشین وزیراعظم کی کتاب کے اردو ترجمے کی رونمائی تھا۔ مزید برآں، پی ٹی وی نیوز نے تقریب کی براہِ راست نشریات دکھائیں جن میں واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے کہ وزیراعظم شہباز کو انور ابراہیم کی تصنیف دی جا رہی ہے، نہ کہ عمران خان سے متعلق کوئی کتاب۔ اس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ بعض عناصر نے سوشل میڈیا پر ایڈیٹ شدہ مواد کے ذریعے گمراہ کن تاثر پیدا کیا۔
یہ واقعہ نہ صرف پاکستانی سیاست میں سوشل میڈیا کے اثرات کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس امر کی بھی یاد دہانی کراتا ہے کہ فیک نیوز کا پھیلاؤ صرف سیاسی نقصان کا باعث نہیں بنتا بلکہ عوامی شعور اور میڈیا کی ساکھ کے لیے بھی خطرہ بن جاتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا صارفین، صحافی، اور سرکاری ادارے معلومات کی درستگی کے عمل کو مضبوط کریں۔ فیکٹ چیکنگ یونٹس کا کردار یہاں کلیدی ہے، جو نہ صرف غلط بیانی کی نشاندہی کرتے ہیں بلکہ عوام کو باخبر رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ سچائی کی تلاش اگر بروقت اور منظم انداز میں جاری رکھی جائے تو فیک نیوز کے سیلاب میں بھی حقیقت کی روشنی بجھنے نہیں پائے گی۔
Comments
Post a Comment