سی پیک کا دوسرا مرحلہ: پاکستان اور چین کے معاشی تعاون میں نئی جہتیں.

 

اسلام آباد میں وزیر منصوبہ بندی احسن اقبال اور چین کے سفیر جیانگ ژائی ڈونگ کے درمیان ہونے والی ملاقات میں سی پیک کے جاری منصوبوں پر پیش رفت اور آئندہ جے سی سی اجلاس کی تیاریوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ وزیر بحری امور جنید انور چوہدری بھی اس اہم اجلاس میں شریک تھے۔ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سی پیک کا پہلا مرحلہ کامیابی سے مکمل ہو چکا ہے، اور اب دوسرا مرحلہ صنعتی تعاون، زراعت، آئی ٹی اور سماجی ترقی جیسے شعبوں پر مرکوز ہوگا۔


احسن اقبال نے وسطی ایشیائی ریاستوں کو سی پیک سے منسلک کرنے کے عزم کا اظہار کیا، جس سے خطے میں معاشی استحکام اور رابطہ کاری کو فروغ ملے گا۔ گوادر بندرگاہ کی مکمل استعداد کو بروئے کار لانے، خصوصی اقتصادی زونز کے قیام، اور جدید انفرااسٹرکچر کی تعمیر جیسے موضوعات کو حکومتی ترجیحات میں شامل رکھا گیا ہے۔ یہ وژن نہ صرف پاکستان کی معیشت کو وسعت دے گا بلکہ اسے علاقائی تجارتی مرکز میں بدلنے کی بنیاد رکھے گا۔


زراعت اور ماحولیاتی تبدیلی کے شعبے میں چین کے ساتھ اشتراک عمل، اور پاکستان اسپیس سینٹر جیسے منصوبوں میں چینی تعاون کو بروقت تکمیل کا ضامن قرار دیا گیا۔ چین کے سفیر نے پاکستان کے ترقیاتی منصوبوں میں مکمل حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ دوطرفہ تعاون آئندہ برسوں میں مزید وسعت اختیار کرے گا۔ یہ پیش رفت اس حقیقت کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اور چین کی شراکت داری صرف معاشی مفادات تک محدود نہیں، بلکہ ایک جامع اور طویل المدتی تعلق میں تبدیل ہو چکی ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے Emirates ID کی فیس میں نئ اپڈیٹ ۔

آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی: ٹرمپ کی الٹی میٹم اور ایران کا سخت جواب

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ