پاکستان اور ازبکستان کے اقتصادی تعلقات میں وسعت: ایک خوش آئند پیش رفت.
اسلام آباد میں وزیر اعظم کے مشیر برائے صنعت و پیداوار ہارون اختر خان اور ازبک سفیر الیشر تُختایف کی ملاقات نے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کے نئے دروازے کھول دیے ہیں۔ ملاقات میں باہمی تجارت، سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کو فروغ دینے پر تبادلہ خیال ہوا، جس سے نہ صرف تجارتی حجم بڑھانے کی راہ ہموار ہو گی بلکہ علاقائی روابط بھی مضبوط ہوں گے۔
مخصوص شعبوں جیسے زراعت، ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، ٹرانسپورٹ اور مائننگ میں شراکت داری کے امکانات خوش آئند ہیں۔ ہارون اختر خان نے خاص طور پر زور دیا کہ پاکستان اور ازبکستان کو 2 ارب ڈالر کے تجارتی ہدف کے حصول کے لیے نئی راہیں تلاش کرنا ہوں گی۔ ازبکستان کی فارما صنعت میں پاکستانی مصنوعات کی شمولیت پاکستان کی برآمدی صلاحیت کو بڑھا سکتی ہے، جو دونوں ممالک کے لیے فائدہ مند ہو گا۔
یہ پیش رفت نہ صرف معیشت بلکہ ٹیکنالوجی کے شعبے میں بھی اہم ہوگی، جہاں مصنوعی ذہانت (AI) اور ای-کامرس جیسے جدید میدانوں میں تعاون پر غور کیا جا رہا ہے۔ ہارون اختر خان کی جانب سے ازبک سفیر کو روایتی تحفہ پیش کرنا اس بات کا اشارہ ہے کہ دونوں ممالک محض تجارتی شراکت دار نہیں بلکہ دوستانہ تعلقات کو بھی اہمیت دے رہے ہیں۔ اس ملاقات سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کی اقتصادی سفارت کاری علاقائی ہم آہنگی اور ترقی کی طرف گامزن ہے۔
Comments
Post a Comment