پاک–سعودی عسکری تعاون کا نیا مرحلہ: علاقائی سلامتی میں مشترکہ تیاریوں کی اہمیت
پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تبوک میں منعقد ہونے والی مشترکہ فوجی مشق ’’البتار۔II‘‘ دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے دفاعی تعاون کا اہم اظہار ہے۔ ایک ہفتے تک جاری رہنے والی اس مشق میں پاکستان آرمی کے ایس ایس جی کمانڈوز اور سعودی فوج کی خصوصی ٹیموں نے حصہ لیا، جنہوں نے شہری علاقوں میں لڑائی، انسدادِ دہشت گردی، اور جدید حربی مشقوں کے ذریعے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ دونوں ممالک کے درمیان حال ہی میں طے پانے والے اسٹریٹجک میوچل ڈفنس معاہدے کے پس منظر میں یہ مشق خاص طور پر نمایاں ہے، جو خطے میں مشترکہ دفاعی تیاریوں کی ضرورت کو اجاگر کرتی ہے۔
مشق کے دوران مربوط تربیت، آئی ای ڈیز کا مقابلہ کرنے کی حکمتِ عملی، اور مربوط ٹیکٹیکل ڈرلز پر خصوصی توجہ دی گئی، جس کا مقصد نہ صرف عملی مہارت بہتر بنانا تھا بلکہ انٹرآپریبلٹی کو بھی مزید مضبوط بنانا تھا۔ پاک–سعودی فوجی تعلقات پہلے ہی مضبوط بنیادوں پر قائم ہیں، جن میں مشترکہ زمینی، فضائی اور بحری مشقیں شامل ہیں۔ سعودی افواج کے کیڈٹس کا پاکستان کے عسکری اداروں میں تربیت حاصل کرنا بھی اس دیرینہ اعتماد اور تعاون کی علامت ہے۔ حالیہ اعلیٰ سطحی عسکری ملاقاتیں اس تعلق کی وسعت اور اسٹریٹجک ہم آہنگی کو مزید واضح کرتی ہیں۔
علاقائی سکیورٹی کی بدلتی صورتحال میں اس نوعیت کی مشترکہ مشقیں دونوں ممالک کے لیے نہ صرف دفاعی تیاریوں کو بہتر بنانے کا ذریعہ ہیں بلکہ علاقائی امن و استحکام کے فروغ میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔ سعودی جنگی جہازوں کی AMAN بحری مشقوں میں شرکت، ملتان میں گزشتہ سال ہونے والی زمینی تربیت، اور پاکستان میں سعودی فوجی قیادت کے مسلسل دورے یہ ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں ممالک اپنے تعاون کو مستقبل میں مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔ ایسے اقدامات نہ صرف عسکری اعتماد کو بڑھاتے ہیں بلکہ خطے میں امن، سکیورٹی اور مشترکہ ترجیحات کے تحفظ کے لیے بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتے ہیں۔
Comments
Post a Comment