**عمران خان کا پی آئی ایم ایس ہسپتال میں آنکھ کے فالو اپ علاج: طبی دیکھ بھال اور انسانی حقوق کا توازن**

پاکستان تحریک انصاف کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کو اڈیالہ جیل سے پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسلام آباد لایا گیا جہاں ان کی دائیں آنکھ کے فالو اپ علاج کے طور پر اینٹی وی ای جی ایف انٹرا وٹریل انجیکشن کی دوسری خوراک دی گئی۔ ہسپتال انتظامیہ کے مطابق یہ طریقہ کار ڈے کیئر سرجری کے طور پر آپریشن تھیٹر میں ماہر امراض چشم اور ویٹریو ریٹینل سرجن کی نگرانی میں مکمل کیا گیا، جس سے پہلے ماہرین کی بورڈ نے تفصیلی معائنہ کیا۔ کارڈیالوجسٹ کی جانب سے ایکو کارڈیوگرافی اور ای سی جی بھی نارمل رہے، اور علاج کے بعد عمران خان کو فالو اپ ہدایات اور نسخوں کے ساتھ ڈسچارج کر دیا گیا۔ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جیل میں قید سیاسی رہنماؤں کی طبی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے حکومتی ادارے فعال ہیں، اور یہ عمل طبی پروٹوکول کے مطابق انجام پایا۔ غیر جانبدار نقطہ نظر سے دیکھا جائے تو یہ طبی سہولیات کی فراہمی ایک مثبت قدم ہے جو ریاست کی ذمہ داری کو ظاہر کرتا ہے کہ ہر قیدی کو مناسب علاج میسر ہو۔


یہ فالو اپ علاج عمران خان کی آنکھ کی حالت کے تسلسل میں ہے جس کی تشخیص مرکزی ریٹینل وین اوکلوژن کے طور پر کی گئی تھی، اور پہلی انجیکشن جنوری میں دی گئی تھی۔ میڈیکل رپورٹس سے پتہ چلتا ہے کہ علاج سے بینائی میں جزوی بہتری آئی ہے، جیسا کہ حالیہ معائنوں میں دائیں آنکھ کی بینائی 6/24 سے بہتر ہو کر 6/9 پارشل تک پہنچی۔ تاہم سیاسی حلقوں میں اس معاملے پر مختلف آراء موجود ہیں؛ ایک طرف پی ٹی آئی کی جانب سے مطالبہ رہا ہے کہ علاج ذاتی معالجین کی موجودگی میں یا مطلوبہ ہسپتال میں ہو، جبکہ دوسری طرف حکومتی ذرائع اسے باقاعدہ طبی عمل قرار دیتے ہیں۔ یہ صورتحال پاکستان کی سیاسی اور عدالتی تاریخ میں قیدیوں کی صحت کے مسائل کو بار بار اجاگر کرتی ہے، جہاں عدالتوں نے بھی ماہرین سے علاج اور فیملی سے رابطے کی ہدایات جاری کیں۔ ایک غیر جانبدار تجزیہ یہ ہے کہ طبی معاملات کو سیاسی تنازعات سے الگ رکھ کر دیکھنا چاہیے تاکہ انسانی حقوق اور صحت کی دیکھ بھال کے بنیادی اصولوں کی پاسداری یقینی ہو۔


مجموعی طور پر یہ واقعہ یہ پیغام دیتا ہے کہ جیل کی حدود میں بھی طبی امداد ممکن ہے، لیکن شفافیت اور اعتماد کی کمی بعض اوقات تنازعات کو جنم دیتی ہے۔ عمران خان کی عمر 74 سال اور ان کی آنکھ کی حالت کو دیکھتے ہوئے باقاعدہ فالو اپ ضروری ہے، اور پی آئی ایم ایس جیسے ادارے کی جانب سے ماہرین کی ٹیم اور جدید طریقہ کار کا استعمال اطمینان بخش ہے۔ غیر جانبدار رائے یہ ہے کہ ایسی صورتحال میں تمام فریقین کو طبی ماہرین کی رائے کو فوقیت دینی چاہیے اور سیاسی اختلافات کو صحت کے معاملے پر حاوی نہ ہونے دیں۔ اگر یہ تسلسل برقرار رہا تو نہ صرف عمران خان کی صحت بہتر ہو سکتی ہے بلکہ پاکستان میں قیدیوں کی طبی سہولیات کے نظام کو بھی مزید موثر بنانے کا موقع مل سکتا ہے، جو ایک جمہوری معاشرے کے لیے ناگزیر ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے Emirates ID کی فیس میں نئ اپڈیٹ ۔

آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی: ٹرمپ کی الٹی میٹم اور ایران کا سخت جواب

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ