ڈاکٹر نفیسہ شاہ کی مذمت: دہشت گردی کے خلاف PPP کا پختہ عزم.
اسلام آباد کی امام بارگاہ خدیجۃ الکبریٰ پر جمعہ کی نماز کے دوران ہونے والا خودکش دھماکہ ایک انتہائی افسوسناک اور دلخراش واقعہ ہے، جس میں کم از کم 31 معصوم لوگ شہید ہوئے اور تقریباً 169 زخمی ہوئے۔ یہ حملہ شیعہ برادری کی عبادت گاہ کو نشانہ بناتا ہے، جو ملک میں فرقہ وارانہ امن کو چیلنج کرتا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی رہنما اور ایم این اے ڈاکٹر نفیسہ شاہ نے اس دہشت گردانہ کارروائی کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ عناصر پاکستان کی ترقی اور خوشحالی کے دشمن ہیں اور وہ انسان نہیں بلکہ درندے ہیں۔ انہوں نے PPP کی تاریخ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ پارٹی نے ہمیشہ دہشت گردی کا مقابلہ کیا ہے اور آج بھی اسی عزم کے ساتھ کھڑی ہے۔ نفیسہ شاہ نے شہداء کے لیے دعا اور ان کے خاندانوں سے گہری ہمدردی کا اظہار کیا، جو ایک سیاسی رہنما کی طرف سے انسانی اور قومی ذمہ داری کا بھرپور مظاہرہ ہے۔ یہ بیان نہ صرف متاثرہ برادری کو تسلی دیتا ہے بلکہ پورے ملک کو یہ پیغام دیتا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کوئی فرق نہیں پڑتا، سب کو متحد ہو کر لڑنا ہے۔
یہ حملہ دارالحکومت اسلام آباد میں ایک طویل عرصے بعد ہونے والا سب سے بڑا خودکش دھماکہ ہے، جو سیکیورٹی اداروں کے لیے ایک سنگین سوال ہے۔ ڈاکٹر نفیسہ شاہ کا بیان اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سیاسی جماعتیں، چاہے حکومت میں ہوں یا اپوزیشن میں، دہشت گردی کے معاملے پر ایک آواز ہیں۔ PPP کی روایت رہی ہے کہ وہ دہشت گردی کے خلاف مزاحمت میں پیش پیش رہی ہے، اور یہ مذمت اسی تسلسل کا حصہ ہے۔ ملک میں شیعہ سنی ہم آہنگی کو فروغ دینے کی ضرورت ہے، اور ایسے بیانات اس سمت میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔ حکومت کو اب مزید چوکنا رہ کر عبادت گاہوں کی حفاظت کے انتظامات سخت کرنے ہوں گے، خاص طور پر نماز کے اوقات میں۔ نفیسہ شاہ کی طرف سے شہداء کی قربانی کو خراج تحسین پیش کرنا اور زخمیوں کی جلد صحت یابی کی دعا کرنا، اس سانحے میں متاثرین کے درد کو شیئر کرنے کا ایک خوبصورت طریقہ ہے۔
مجموعی طور پر یہ مذمت پاکستان کی سیاسی قیادت کی طرف سے دہشت گردی کے خلاف ایک مضبوط پیغام ہے، جو عوام کو یہ یقین دلاتی ہے کہ ملک تنہا نہیں ہے۔ امید ہے کہ اس طرح کے بیانات عملی اقدامات میں تبدیل ہوں گے، مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے گا اور ملک میں امن و امان کی صورتحال بہتر ہو گی۔ PPP سمیت تمام جماعتوں کو مل کر دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کام کرنا چاہیے، تاکہ معصوم لوگوں کی جانیں محفوظ رہیں اور پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن رہے۔ شہداء کی قربانی ضائع نہیں جائے گی اگر ہم سب مل کر اس کے خلاف لڑیں۔
Comments
Post a Comment