ایران جنگ کی لپیٹ میں پاکستان — مہنگائی، بجلی کا بحران اور عوامی مشکلات
پاکستان آج ایران اور مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کی وجہ سے نہ صرف سفارتی بلکہ معاشی اور معاشرتی طور پر بھی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ جوں جوں یہ جنگ طول پکڑ رہی ہے، اس کا اثر پاکستانی عوام کی روزمرہ زندگی پر گہرے زخم چھوڑ رہا ہے۔
حالیہ دنوں میں پاکستانی شہری جس تیزی سے بڑھتی ہوئی مہنگائی اور اشیائے ضروریہ کی قلت کا سامنا کر رہے ہیں، اس کی جڑیں براہ راست ایران اور مشرق وسطیٰ میں پھیلی ہوئی جنگ کی آگ سے ملتی ہیں۔ یہ جنگ جہاں خطے کے استحکام کو تباہ کر رہی ہے، وہیں پاکستان جیسے پہلے ہی کمزور معاشی ڈھانچے والے ملک کے لیے ایک ناقابلِ برداشت بوجھ بن چکی ہے۔ اس مضمون میں ہم انہی زاویوں کا جائزہ لیں گے کہ آخر یہ جنگ پاکستان کو کن کن اندرونی محاذوں پر نقصان پہنچا رہی ہے۔
ایران اسرائیل جنگ کے پاکستان پر کیا اثرات مرتب ہو رہے ہیں؟
یہ سوال آج ہر پاکستانی کے ذہن میں ہے۔ اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ اثرات ہر شعبے میں نمایاں ہیں۔ ایران اسرائیل جنگ کے پاکستان پر اثرات صرف سفارتی بیانات تک محدود نہیں رہے بلکہ یہ عوام کی جیبوں اور گھروں تک پہنچ چکے ہیں۔ دارالحکومت اسلام آباد اور کراچی سے لے کر بلوچستان کی سرحدی پٹی تک، ہر جگہ اس جنگ کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ میں بتایا گیا ہے کہ کس طرح وفاقی حکومت نے سفارتی محاذ کو گرم رکھا، لیکن ملکی سطح پر صورتحال بے قابو ہوتی جا رہی ہے۔
پاکستان میں پیٹرول کی قلت کی وجہ کیا ہے؟
پاکستان میں پیٹرول کی قلت کی سب سے بڑی وجہ بحری آمدورفت کا بند ہونا اور خلیجی ممالک سے سپلائی چین کا منقطع ہونا ہے۔ کے مطابق، وزیراعظم شہباز شریف کو خود اس بحران کا اعتراف کرتے ہوئے سخت کفایت شعاری کے اقدامات نافذ کرنے پڑے۔ ان اقدامات میں سرکاری گاڑیوں کے ایندھن میں ۵۰ فیصد کمی اور ۶۰ فیصد سرکاری گاڑیوں کا استعمال بند کرنا شامل ہے۔ اس کے علاوہ، صوبہ پنجاب کی وزیراعلیٰ مریم نواز نے بھی سرکاری افسران کی گاڑیوں کے لیے پیٹرول الاؤنس میں فوری ۵۰ فیصد کمی کا اعلان کیا ۔ صورتحال اتنی سنگین ہے کہ عام شہری لاہور اور کراچی کی پٹرول پمپوں پر لمبی قطاروں میں گھنٹوں کھڑے نظر آتے ہیں۔
ایران جنگ سے پاکستان کی معیشت کو کتنا نقصان پہنچا؟
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ایران جنگ سے پاکستان کی معیشت کو شدید دھچکا لگا ہے۔ کی رپورٹ کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں ہر ۱۰ ڈالر فی بیرل اضافے سے پاکستان میں افراطِ زر میں ۰.۵ سے ۰.۶ فیصد کا اضافہ ہو جاتا ہے۔ پاکستان بزنس کونسل کے سابق سربراہ احسن ملک کے مطابق، تیل کی قیمتوں میں اضافے سے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں ۱.۵ ارب ڈالر سے ۲ ارب ڈالر تک اضافہ ہو سکتا ہے۔ اگر قیمتیں ۱۰۰ ڈالر فی بیرل تک پہنچ جائیں تو یہ خسارہ ۵ سے ۷ ارب ڈالر تک جا سکتا ہے ۔ یہ وہ وقت ہے جب پاکستان نے حال ہی میں اکاؤنٹ سربلانسی کا سرپلس حاصل کیا تھا۔
پاکستانی حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے کیا اقدامات کیے؟
جنگ کے معاشی اثرات کو کم کرنے کے لیے پاکستانی حکومت نے ایندھن کی بچت کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے ہیں۔ کے مطابق، وفاقی حکومت نے دو ماہ کے لیے اراکین پارلیمنٹ کی تنخواہوں میں ۵۰ فیصد کمی کی ہے۔ سرکاری محکموں کے اخراجات میں ۲۰ فیصد کمی لائی گئی ہے اور نئی گاڑیوں، فرنیچر اور اے سیز کی خریداری پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ پاکستان بھر کے اسکول دو ہفتوں کے لیے بند کر دیے گئے ہیں جبکہ اعلیٰ تعلیمی اداروں میں آن لائن کلاسز کا انعقاد کیا جا رہا ہے ۔ پنجاب میں تمام سرکاری تقریبات اور ثقافتی میلوں کو ملتوی کر دیا گیا ہے۔
ایرانی سرحد بند ہونے سے بلوچستان میں کیا مسائل پیدا ہوئے؟
پاکستان اور ایران کے درمیان ۹۰۹ کلومیٹر طویل سرحد نہ صرف رسمی بلکہ غیر رسمی تجارت کا بھی مرکز رہی ہے۔ کے مطابق، ایرانی سرحد بند ہونے سے بلوچستان میں اشیائے ضروریہ کی قیمتیں دگنی ہو گئی ہیں۔ تفتان میں سبزی فروش کمال خان کے مطابق، جو اشیاء پہلے ۲۰۰ سے ۲۵۰ روپے کلو ملتی تھیں، اب ان کی قیمت ۲۵۰ سے ۴۰۰ روپے کلو ہو گئی ہے ۔ مقامی تاجر کامران خان کے مطابق، تفتان میں گھریلو استعمال کی اشیاء کی قلت پیدا ہو گئی ہے اور ایل پی جی کی سپلائی بھی شدید متاثر ہوئی ہے ۔
کیا پاکستانی طلباء ایران جنگ کی وجہ سے محفوظ ہیں؟
پاکستانی طلباء ایران جنگ میں پھنسے ہوئے ہیں اور ان کی واپسی کا عمل جاری ہے۔ کے مطابق، ایرانی بندرگاہ بندر عباس میں پھنسے ۱۵ پاکستانی ملاحوں کو واپس لانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ پاکستانی سفیر محمد مدثر تیپو کے مطابق، ان ملاحوں سے رابطہ کیا گیا ہے اور ان کی جلد وطن واپسی کے لیے کوشش کی جا رہی ہے ۔ اس سے قبل ۶۵۰ سے زائد پاکستانی شہریوں کو ایران سے نکالا جا چکا ہے ۔
آرمی چیف کا ایران جنگ پر بیان کیا ہے؟
اگرچہ آرمی چیف کا ایران جنگ پر بیان ابھی باقاعدہ جاری نہیں ہوا، تاہم کے مطابق، پارلیمنٹ کی خفیہ بریفنگ میں آرمی قیادت نے بتایا کہ وہ ایران سے مسلسل رابطے میں ہے اور غلط فہمیوں کو دور کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ وزیراعظم کے معاون رانا ثناء اللہ کے مطابق، اس بریفنگ میں بتایا گیا کہ پاکستان ایران کو سعودی عرب پر حملہ نہ کرنے پر راضی کرنے میں مصروف ہے ۔
FAQs
سوال: ایران اسرائیل جنگ پاکستان کو کیوں متاثر کر رہی ہے؟
جواب: پاکستان توانائی کی ضروریات کے لیے خلیجی ممالک پر انحصار کرتا ہے۔ جنگ کی وجہ سے آبنائے ہرمز سے تیل کی سپلائی خطرے میں ہے اور ایل این جی کی درآمدات متاثر ہوئی ہیں۔ اس کے علاوہ، خلیجی ممالک میں مقیم ۴۰ لاکھ پاکستانیوں کی ملازمتیں خطرے میں ہیں ۔
سوال: کیا پاکستان ایران جنگ میں شامل ہو سکتا ہے؟
جواب: پاکستان نے غیرجانبداری کی پالیسی اپنائی ہے اور سفارتی حل پر زور دیا ہے۔ وزیرخارجہ اسحاق ڈار نے سعودی عرب اور ایران سے مسلسل رابطے رکھے اور دونوں ممالک کے درمیان "شٹل ڈپلومیسی" کی ۔ تاہم، پاکستان کا سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدہ ہے جس کی وجہ سے صورتحال نازک ہے ۔
سوال: ایران جنگ سے پہلے پاکستانی مصنوعات پر کیا اثر پڑا؟
جواب: پاکستان کی برآمدات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ راولپنڈی چیمبر آف کامرس کے صدر عثمان شوکت کے مطابق، مشرق وسطیٰ میں برآمدات معطل ہیں اور حکومت کا ۶۰ ارب ڈالر برآمدات کا ہدف خطرے میں ہے ۔
سوال: ادویات کی قلت سے پاکستان کو کیا خطرہ ہے؟
جواب: کے مطابق، پاکستان کے پاس دواؤں کے خام مال کا صرف ڈیڑھ ماہ کا ذخیرہ ہے۔ اگر جنگ جاری رہی تو کینسر، دل اور ذیابیطس کی ادویات شدید قلت کا شکار ہو سکتی ہیں۔ بچوں کے فارمولا دودھ کی بھی قلت پیدا ہو سکتی ہے جو مکمل طور پر درآمد کیا جاتا ہے ۔
سوال: ایران جنگ کی وجہ سے پاکستان میں کتنے افراد ہلاک ہوئے؟
جواب: کے مطابق، ایران کے رہبر اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت کے خلاف پاکستان بھر میں ہونے والے مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز اور مظاہرین کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم ۲۳ افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے۔ گلگت بلتستان کے اضلاع گلگت، اسکردو اور شگر میں کرفیو نافذ کرنا پڑا ۔
سوال: کیا پاکستانی حکومت نے عوام کے لیے کوئی ریلیف پیکج دیا ہے؟
جواب: حکومت نے ابھی تک براہ راست ریلیف پیکج کا اعلان نہیں کیا ہے۔ تاہم، کے مطابق، کفایت شعاری کے اقدامات سے بچنے والی رقم عوام کی فلاح پر خرچ کرنے کا عندیہ دیا گیا ہے۔ پنجاب میں ضلعی انتظامیہ کو کرایوں اور نرخوں کی مانیٹرنگ کا حکم دیا گیا ہے ۔

Comments
Post a Comment