ٹرمپ کا وہ بیان جس نے سعودی عرب میں ہلچل مچا دی



امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ روز میامی میں منعقدہ سعودی فنڈڈ سرمایہ کاری کانفرنس (ایف آئی آئی) سے خطاب کرتے ہوئے ایسے بیانات دیئے جنہوں نے سفارتی حلقوں میں ہلچل مچا دی۔ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ "اب مجھ سے اچھا بننے پر مجبور ہیں" اور یہ کہ وہ شروع میں سمجھتے تھے کہ ٹرمپ "صرف ایک اور ہارے ہوئے امریکی صدر" ہوں گے ۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایران کے ساتھ امریکا اور اسرائیل کی جنگ جاری ہے اور سعودی عرب پر ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافہ ہوچکا ہے ۔

ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کے بارے میں کیا کہا؟

ٹرمپ نے اپنے خطاب میں ولی عہد محمد بن سلمان کے بارے میں کہا: "انہوں نے نہیں سوچا تھا کہ ایسا ہوگا۔ انہوں نے نہیں سوچا تھا کہ وہ میری چاٹنے پر مجبور ہوں گے۔ وہ واقعی نہیں سوچتے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ میں صرف ایک اور ہارا ہوا امریکی صدر ہوں جس کے تحت ملک زوال پذیر ہو رہا ہے۔ لیکن اب انہیں مجھ سے اچھا بننا ہوگا" ۔

صدر نے اپنے اس سخت بیان کے فوراً بعد نرم لہجہ اختیار کرتے ہوئے ولی عہد کو "بہت ذہین" اور "ایک عام آدمی" قرار دیا اور کہا کہ انہوں نے ایک سال قبل کہا تھا کہ امریکا "ایک مردہ ملک" تھا جو اب "دنیا کا گرم ترین ملک" بن چکا ہے۔


ایران جنگ میں سعودی عرب کا کردار کیا ہے؟

ٹرمپ کے ان بیانات کا پس منظر ایران کے ساتھ جاری کشیدگی ہے۔ گزشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران نے سعودی عرب میں موجود امریکی فوجی اڈوں پر متعدد میزائل اور ڈرون حملے کئے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق پرنس سلطان ایئر بیس پر حالیہ حملے میں ۱۲ امریکی اہلکار زخمی ہوئے جبکہ دو کے سی-۱۳۵ ریفیولنگ طیارے کو نقصان پہنچا ۔

اگرچہ سعودی حکومت نے سرکاری طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی حملوں کے لیے اپنی سرزمین یا فضائی حدود استعمال نہیں ہونے دے رہی، لیکن ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ "سعودی عرب ہمارے ساتھ لڑ رہا ہے"۔ انہوں نے قطر، متحدہ عرب امارات، بحرین اور کویت کو بھی اسی زمرے میں شامل کیا ۔

ٹرمپ نے نیٹو پر کیوں تنقید کی؟

اسی کانفرنس میں ٹرمپ نے نیٹو اتحاد پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "نیٹو ایک کاغذی شیر ہے"۔ انہوں نے شکایت کی کہ جہاں خلیجی ممالک ایران جنگ میں امریکا کے ساتھ کھڑے ہیں، وہیں نیٹو کے اتحادیوں نے کوئی مدد نہیں کی۔ ٹرمپ نے کہا: "میں نیٹو کی مدد کرتا ہوں لیکن وہ کبھی ہماری مدد نہیں کرتے" ۔

صدر نے کویت کا نام لیتے ہوئے مزاحیہ انداز میں کہا کہ انہوں نے "تین امریکی طیارے غلطی سے مار گرائے" جس پر انہوں نے کہا کہ "ہم اس کے بغیر بھی کام چلا سکتے تھے" ۔

خاشقجی قتل کے بعد سعودی عرب کے ساتھ امریکی تعلقات کیسے ہیں؟

ٹرمپ اور ولی عہد محمد بن سلمان کے تعلقات ہمیشہ سے متنازعہ رہے ہیں۔ صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بعد ٹرمپ نے ولی عہد کو براہ راست ذمہ دار ٹھہرانے سے گریز کیا تھا اور کہا تھا کہ انہوں نے "ان کی جان بچائی" ۔

۲۰۱۸ میں سینیٹ کی جانب سے خاشقجی قتل میں ولی عہد کو ذمہ دار قرار دینے والی قرارداد کے بعد بھی ٹرمپ انتظامیہ نے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات برقرار رکھے ۔ نیشنل ریویو کے مطابق ٹرمپ نے گزشتہ سال سعودی عرب کو "میجر نان نیٹو الائی" کا درجہ دینے کا اعلان کیا تھا اور سعودی عرب کو تحفظ کی ضمانت دی تھی ۔

ٹرمپ کے بیان سے امریکا اور سعودی تعلقات متاثر ہوں گے؟

ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے اس بیان کے باوجود امریکا اور سعودی عرب کے اسٹریٹجک تعلقات میں کوئی خاص تبدیلی آنے کا امکان نہیں ہے۔ سعودی عرب خطے میں ایران کے خلاف امریکا کا سب سے بڑا اتحادی ہے اور دونوں ممالک کے درمیان دفاعی معاہدوں کی مالیت ۱۴۲ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے ۔

تاہم، کچھ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ٹرمپ کی اس طرح کی غیر سفارتی زبان سعودی عوام میں امریکا مخالف جذبات کو ہوا دے سکتی ہے۔ ۱۹۹۰ کی دہائی میں جب پہلی خلیجی جنگ کے دوران امریکی فوجی سعودی عرب میں تعینات ہوئے تھے تو اس کے نتیجے میں شدید ردعمل سامنے آیا تھا ۔

ٹرمپ نے سعودی عرب کو اسرائیل تسلیم کرنے کی کیوں ترغیب دی؟

میامی کانفرنس سے خطاب میں ٹرمپ نے سعودی عرب پر زور دیا کہ وہ ابراہیمی معاہدوں میں شامل ہو کر اسرائیل کو تسلیم کرے۔ انہوں نے کہا: "میرا خواب ہے کہ آپ جلد یا بدیر ابراہیمی معاہدے میں شریک ہو کر اسرائیل کو تسلیم کر لیں" ۔

یہ پہلی بار نہیں ہے جب ٹرمپ نے سعودی عرب کو اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کی ترغیب دی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ولی عہد محمد بن سلمان نے اس کے لیے کچھ شرائط رکھی ہیں جن میں فلسطینی مسئلے کا حل اور امریکا کی طرف سے مزید سیکیورٹی گارنٹیز شامل ہیں ۔


ٹرمپ کا یہ بیان اگرچہ ان کی مخصوص غیر روایتی سفارتی طرز کا حصہ ہے، لیکن یہ اس وقت سامنے آیا ہے جب پورا خطہ آگ کے شعلوں میں جھلس رہا ہے۔ ایران جنگ، غزہ میں جاری بربریت، اور خلیجی ممالک کی اندرونی کشیدگی — ایسے میں ٹرمپ کے یہ جملے نہ صرف سعودی قیادت کو غیر ضروری طور پر نشانہ بنا رہے ہیں بلکہ اسٹریٹجک اتحاد کو بھی نقصان پہنچا سکتے ہیں۔

سعودی عرب آج امریکا کے لیے اتنا ہی اہم ہے جتنا کہ امریکا سعودی عرب کے لیے۔ لیکن ٹرمپ کے اس انداز سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا واشنگٹن اپنے اتحادیوں کی عزت نفس کا خیال رکھنا بھول گیا ہے؟ یا پھر یہ سب کچھ صرف ایک "ڈیل" کا حصہ ہے جس میں ہر چیز خرید و فروخت کی جاسکتی ہے؟

وقت ہی بتائے گا کہ ولی عہد محمد بن سلمان اس "چاٹنے" والے طنز کو کس طرح لیتے ہیں۔ لیکن اتنا طے ہے کہ مشرق وسطیٰ میں امریکی اثر و رسوخ کے لیے یہ اندازِ گفتگو کسی بڑی قیمت پر ہی آسکتا ہے۔

FAQs

سوال: ٹرمپ نے سعودی ولی عہد کے بارے میں کیا کہا؟
جواب: ٹرمپ نے میامی میں سعودی فنڈڈ کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ولی عہد محمد بن سلمان "اب مجھ سے اچھا بننے پر مجبور ہیں" اور انہوں نے سوچا تھا کہ ٹرمپ "صرف ایک اور ہارے ہوئے امریکی صدر" ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ولی عہد "ان کی چاٹنے پر مجبور ہیں" ۔

سوال: ٹرمپ کے بیان کے بعد سعودی عرب کا ردعمل کیا ہے؟
جواب: سعودی حکومت کی طرف سے ابھی تک کوئی سرکاری ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم، سعودی میڈیا اور سفارتی حلقوں میں اس بیان پر تشویش پائی جاتی ہے۔ بعض ذرائع کے مطابق ولی عہد کے قریبی مشیر اس بیان کو غیر سفارتی قرار دے رہے ہیں ۔

سوال: ایران جنگ میں سعودی عرب کا کردار کیا ہے؟
جواب: سعودی عرب نے سرکاری طور پر کہا ہے کہ وہ ایران کے خلاف امریکی حملوں میں اپنی سرزمین استعمال نہیں ہونے دے رہا۔ تاہم، ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ سعودی عرب امریکا کے ساتھ "لڑ رہا ہے"۔ سعودی سرزمین پر موجود امریکی فوجی اڈوں پر ایران کے حملے جاری ہیں ۔

سوال: ٹرمپ نے نیٹو پر کیوں تنقید کی؟
جواب: ٹرمپ نے میامی کانفرنس میں نیٹو کو "کاغذی شیر" قرار دیا اور کہا کہ خلیجی ممالک کے برعکس نیٹو اتحادیوں نے ایران جنگ میں امریکا کی کوئی مدد نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ نیٹو ہمیشہ امریکا کی مدد کرنے میں ناکام رہا ہے ۔

سوال: کیا ٹرمپ کا بیان امریکا اور سعودی تعلقات کو متاثر کرے گا؟
جواب: ماہرین کے مطابق اس بیان کے باوجود اسٹریٹجک تعلقات میں کوئی خاص تبدیلی نہیں آئے گی۔ دونوں ممالک کے درمیان ۱۴۲ ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے اور مشترکہ مفادات تعلقات کو مضبوط رکھیں گے۔ تاہم، سفارتی سطح پر کچھ کشیدگی پیدا ہوسکتی ہے ۔

Comments

Popular posts from this blog

امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے Emirates ID کی فیس میں نئ اپڈیٹ ۔

آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی: ٹرمپ کی الٹی میٹم اور ایران کا سخت جواب

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ