بلاگ آرٹیکل: چینی کمپنی آئی بی آئی کا پاکستان میں ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر: ایک نیا ڈیجیٹل دور


مئی ۲۰۲۶ء پاکستان کی ڈیجیٹل تاریخ کا ایک اہم سنگ میل ثابت ہوا جب چینی صنعتی دیو آئی بی آئی (بیجنگ یونائیٹڈ انفارمیشن ٹیکنالوجی) نے اسلام آباد میں اپنا پاکستان ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹر قائم کر دیا۔ یہ منصوبہ محض ایک کاروباری معاہدہ نہیں بلکہ پاکستان کو ڈیجیٹل دور میں داخل کرنے کی ایک جرات مندانہ کوشش ہے۔ ڈپٹی وزیراعظم اسحاق ڈار نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان اب عالمی ٹیک ریس میں اپنے لمحے کا انتظار نہیں کر رہا بلکہ اس نے ڈیجیٹل تبدیلی کا سفر شروع کر دیا ہے۔


پس منظر: سی پیک ۲.۰ اور ڈیجیٹل سلک روڈ

جب ۲۰۱۳ء میں چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کا آغاز ہوا تو اس کا فوکس روڈ، ریل اور توانائی کے منصوبوں پر تھا۔ لیکن آج سی پیک اپنے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جسے سی پیک ۲.۰ کا نام دیا گیا ہے۔ اس نئے مرحلے میں مصنوعی ذہانت، سمارٹ سٹیز، اور ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی کو ترجیح دی جا رہی ہے۔ اسحاق ڈار نے اسے "ڈیجیٹل سلک روڈ" قرار دیا، جہاں فزیکل انفراسٹرکچر سے ڈیجیٹل آرکیٹیکچر کی طرف منتقلی ہو رہی ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ستمبر ۲۰۲۵ء میں بیجنگ کے دورے کے دوران اس منصوبے کی بنیاد رکھی تھی، اور اب مئی ۲۰۲۶ء میں اس کا باقاعدہ افتتاح ہوا۔


تجزیہ: آئی بی آئی کا پاکستان میں قیام کیوں اہم ہے؟

آئی بی آئی کوئی عام کمپنی نہیں ہے۔ یہ ایک فورچون ۵۰۰ کمپنی ہے جو شنگھائی اسٹاک ایکسچینج میں درج ہے اور چین میں ۱۰۰ سے زائد صنعتی شعبوں میں لاکھوں کاروباروں کو خدمات فراہم کر رہی ہے۔ اس کمپنی کی خاصیت یہ ہے کہ یہ بی ٹو بی (کاروبار سے کاروبار) پلیٹ فارم ہے، جسے سفیر خلیل ہاشمی نے ایمیزون اور علی بابا کے صنعتی ہم منصب کے طور پر بیان کیا۔

یہی وجہ ہے کہ اس کمپنی کا پاکستان میں آنا ہماری چھوٹی اور درمیانی صنعتوں (ایس ایم ایز) کے لیے سنہری موقع ہے۔ یہ پلیٹ فارم پاکستانی کاروباروں کو چین کی وسیع مارکیٹ تک براہ راست رسائی فراہم کرے گا۔

عالمی اور مقامی اثرات: ڈیجیٹل انقلاب کے معاشی فوائد

وفاقی وزیر برائے آئی ٹی شزہ فاطمہ کھواجہ کے مطابق، پاکستان کی معیشت کا حجم ۴۰۰ ارب ڈالر سے تجاوز کر چکا ہے، لیکن اس کا تقریباً نصف حصہ غیر رسمی معیشت پر مشتمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ڈیجیٹلائزیشن کو فروغ دیا جائے تو ۲۰۳۰ء تک جی ڈی پی میں ۵ سے ۷ فیصد تک اضافہ ممکن ہے۔

پاکستان میں اس وقت ۲۰ کروڑ سے زائد موبائل صارفین ہیں اور ۱۵ کروڑ ۷۰ لاکھ سے زائد موبائل انٹرنیٹ استعمال کرتے ہیں۔ یہ ڈیجیٹل اکانومی کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔


ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ: نئے دور کی راہ ہمواری

حکومت نے ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ متعارف کرایا ہے، جو تین ستونوں پر مبنی ہے: ڈیجیٹل اکانومی، ڈیجیٹل سوسائٹی، اور ڈیجیٹل گورننس۔ شزہ فاطمہ نے اسپیشل ٹیکنالوجی زون میں اس ہیڈکوارٹر کے قیام کو حکومتی عزم کی علامت قرار دیا۔


وزیراعظم کا وژن اور مستقبل کی راہ

وزیراعظم شہباز شریف نے خود آئی بی آئی کے وفد سے ملاقات کی اور اس اقدام کو خوش آئند قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین "آل ویدر اسٹریٹجک کوآپریٹو پارٹنرز" ہیں اور یہ ڈیجیٹل تعاون دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کی نئی جہت ہے۔


اکثر پوچھے گئے سوالات

سوال: آئی بی آئی کیا ہے اور یہ کیوں خاص ہے؟

آئی بی آئی ایک چینی صنعتی بی ٹو بی پلیٹ فارم ہے جو شنگھائی اسٹاک ایکسچینج میں لسٹڈ فورچون ۵۰۰ کمپنی ہے۔ یہ چین میں ۱۰۰ سے زائد صنعتی شعبوں میں لاکھوں کاروباروں کو خدمات فراہم کرتا ہے۔

سوال: کیا پاکستانی ایس ایم ایز اس سے مستفید ہو سکیں گے؟

جی ہاں، یہ پلیٹ فارم پاکستانی چھوٹی اور درمیانی صنعتوں کو چین کی وسیع مارکیٹ تک براہ راست رسائی فراہم کرے گا، جس سے ان کی برآمدات میں اضافہ ہو گا۔

سوال: کیا سی پیک ۲.۰ صرف ڈیجیٹل منصوبوں تک محدود ہے؟

نہیں، سی پیک ۲.۰ میں قابل تجدید توانائی، الیکٹرک گاڑیاں، جدید کیمیکلز، اور ٹیکسٹائل انجینئرنگ بھی شامل ہیں۔

سوال: ڈیجیٹل نیشن پاکستان ایکٹ کیا ہے؟

یہ ایک قانون ہے جو ڈیجیٹل اکانومی، ڈیجیٹل سوسائٹی اور ڈیجیٹل گورننس کو فروغ دینے کے لیے بنایا گیا ہے، جس کا مقصد پاکستان کو ڈیجیٹل دور میں تبدیل کرنا ہے۔

Comments

Popular posts from this blog

امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے Emirates ID کی فیس میں نئ اپڈیٹ ۔

آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی: ٹرمپ کی الٹی میٹم اور ایران کا سخت جواب

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ