دریائے سندھ کا معاہدہ — ثالثی نے دہلی کے اختیارات کو کیوں محدود کر دیا؟
سنہ ۱۹۶۰ میں طے پانے والا دریائے سندھ کا معاہدہ برصغیر کی سیاسی تاریخ کا ایک منفرد باب ہے۔ یہ وہ معاہدہ ہے جس نے تین جنگوں اور کئی فوجی تناؤ کے باوجود پاکستان اور بھارت کے درمیان پانیوں کی تقسیم کو ممکن بنائے رکھا۔ لیکن مئی ۲۰۲۶ میں ہیگ کی مستقل ثالثی عدالت کے ایک تکمیلی فیصلے نے اس معاہدے کی نئی تشریح کرتے ہوئے بھارت کی ان مغربی دریاؤں پر کنٹرول حاصل کرنے کی صلاحیت کو سختی سے محدود کر دیا ہے جن کا پانی پاکستان کو ملنا تھا۔
انڈس واٹر ٹریٹی کیا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟
دریائے سندھ کا معاہدہ دراصل چھ دریاؤں پر مبنی ہے۔ تین مشرقی دریا — راوی، بیاس اور ستلج — بھارت کو دیے گئے جبکہ تین مغربی دریا — سندھ، جہلم اور چناب — پاکستان کو مختص ہوئے۔ اس معاہدے کی خوبی یہ ہے کہ اس نے نہ صرف پانیوں کی تقسیم کی بلکہ ایک مستقل کمیشن بھی قائم کیا جو تنازعات کو ابتدائی سطح پر حل کرے۔ ماہرین اسے دنیا کے کامیاب ترین آبی معاہدوں میں شمار کرتے ہیں، لیکن حالیہ برسوں میں اس کے نفاذ میں مشکلات آ رہی ہیں۔
پاکستان اور بھارت کے درمیانی آبی تنازع کی جڑ کیا ہے؟
موجودہ تنازع کی جڑ بھارت کی طرف سے کشمیر میں زیرِ تعمیر دو پن بجلی منصوبوں — کشن گنگا اور راٹلے — میں پوشیدہ ہے۔ پاکستان کا مؤقف تھا کہ بھارت ان منصوبوں کے ذریعے پانی کو روکنے والے ڈھانچے بنا رہا ہے، جو معاہدے کی روح کے خلاف ہے۔ پاکستان نے ۲۰۱۶ میں یہ معاملہ ثالثی عدالت میں اٹھایا، جس کے بعد تقریباً دس سال تک قانونی جنگ جاری رہی۔
Indus Waters Treaty (IWT), signed in 1960, allocates eastern rivers to India and western rivers to Pakistan. Pakistan’s agriculture, irrigation, and drinking water rely on these rivers, making water management a crucial issue amid climate change and rising demand.… pic.twitter.com/ZRxlZAxIKC
— P Connect (@ConnectingPak) May 19, 2026
پونڈیج کیا ہے اور یہ آبی معاہدے میں کیوں اہم ہے؟
لفظی طور پر "پونڈیج" سے مراد پانی کو عارضی طور پر روک کر رکھنا ہے۔ پن بجلی بنانے کے لیے پانی کو روکا تو جاتا ہے، لیکن معاہدے کی رو سے بھارت کو یہ اختیار نہیں کہ وہ اتنا پانی روکے کہ پاکستان کو بہاؤ میں کمی محسوس ہو۔ ہیگ کی عدالت نے اپنے تازہ فیصلے میں واضح کر دیا ہے کہ "پانی روکنے کی گنجائش" کو مصنوعی طور پر نہیں بڑھایا جا سکتا۔ عدالت نے کہا کہ یہ مقدار حقیقی منصوبہ جاتی ضروریات، مقامی ہائیڈرولوجی اور پاور سسٹم کی ضروریات پر مبنی ہونی چاہیے، نہ کہ محض بھارت کی مرضی پر۔
ہیگ کی عدالت نے سندھ کے پانیوں پر بھارت کے کنٹرول کو کیوں محدود کیا؟
عدالت نے اپنے فیصلے میں یہ اصول قائم کیا کہ یہ پابندیاں محض رسمی نہیں ہیں، بلکہ ان پر منصوبہ بندی کے مرحلے سے ہی عمل کرنا لازم ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بھارت اب یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ وہ آپریشن کے دوران بہاؤ کو بہتر بنا دے گا۔ درحقیقت، عدالت نے بھارت کے لیے یہ ثابت کرنا ضروری قرار دیا ہے کہ پانی روکنے کی جو مقدار وہ چاہتا ہے، وہ کیوں جائز ہے۔ اس فیصلے نے بھارت کے ہاتھ باندھ دیے ہیں۔ پاکستان حکومت نے اس فیصلے کو "حکمت عملی کے لحاظ سے مضبوطی" قرار دیا ہے۔
بھارت نے ثالثی عدالت کے فیصلے کو مسترد کیوں کیا؟
جہاں پاکستان نے اطمینان کا اظہار کیا، وہیں نئی دہلی نے غصے کا اظہار کیا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ نے اس عدالت کو "غیر قانونی" قرار دیتے ہوئے فیصلے کو کالعدم قرار دے دیا۔ بھارت کا کہنا ہے کہ وہ اس ثالثی عدالت کے وجود کو ہی تسلیم نہیں کرتا۔ بھارت نے اپریل ۲۰۲۵ میں پہلگام حملے کے بعد معاہدے کو "التوا" میں رکھنے کا اعلان کیا تھا، اور اب اس نے کہا ہے کہ یہ التوا ابھی تک برقرار ہے۔ تاہم قانونی ماہرین کے مطابق معاہدے میں یکطرفہ التوا کی کوئی شق موجود نہیں۔
بین الاقوامی قوانین میں بھارت کے موقف کی حیثیت کیا ہے؟
ماہرینِ قانون کے مطابق مستقل ثالثی عدالت کے فیصلے حتمی اور دونوں فریقوں پر لازم ہوتے ہیں۔ سابق پاکستانی سفیر منظور الحق نے بھارت کے رویے کو "بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی" قرار دیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بھارت نے اس فیصلے کو ماننے سے انکار کیا تو اس سے پوری عالمی معاہداتی نظام خطرے میں پڑ جائے گا۔ دوسری طرف ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کی غیر شرکت عدالت کے اختیارات کو ختم نہیں کرتی۔
دریائے سندھ کے معاہدے کی خلاف ورزی کے کیا اثرات ہوں گے؟
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ پانیوں کے معاملے میں بھارت کی مرضی سے چھیڑ چھاڑ خطے میں تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ پروفیسر ڈاکٹر اے ایچ ہلالی کے مطابق، "پانی کی سیاست دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان انتہائی حساس ہے۔ پانی روکنے کا مطلب زراعت، خوراک کی سلامتی اور پاکستان کی معیشت کو تباہ کرنا ہے۔" اگر بھارت نے یہ سلسلہ جاری رکھا تو یہ معاہدہ جو امن کا ضامن تھا، خود ایک تنازع کا باعث بن سکتا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا بھارت یکطرفہ طور پر انڈس واٹر ٹریٹی کو معطل کر سکتا ہے؟
جواب: نہیں، دریائے سندھ کے معاہدے میں یکطرفہ التوا یا انخلا کی کوئی شق موجود نہیں ہے۔ ماہرین کے مطابق معاہدے کو ختم کرنے یا معطل کرنے کے لیے دونوں ممالک کی باہمی رضامندی ضروری ہے۔
سوال: ہیگ کی عدالت کے فیصلے کے بعد پاکستان کو کیا فائدہ ہوا؟
جواب: اس فیصلے نے بھارت کی جانب سے مغربی دریاؤں پر پانی روکنے کی گنجائش کو محدود کر دیا ہے۔ اس سے پاکستان کو موسمِ خشکی میں بھی پانی کی مناسب مقدار ملتی رہے گی۔
سوال: بھارت نے ثالثی عدالت کو غیر قانونی کیوں کہا؟
جواب: بھارت کا کہنا ہے کہ ۲۰۱۶ میں بھارت نے نیوٹرل ایکسپرٹ طریقہ کار اپنانے کی درخواست کی تھی، جبکہ پاکستان نے عدالتِ ثالثی میں جانا چاہا۔ بھارت عدالت کے متوازی قیام کو غیر قانونی سمجھتا ہے۔
سوال: کیا نیوٹرل ایکسپرٹ کا طریقہ کار عدالت سے مختلف ہے؟
جواب: جی ہاں، نیوٹرل ایکسپرٹ تکنیکی اختلافات حل کرتا ہے جبکہ عدالتِ ثالثی قانونی تشریحات اور سنگین تنازعات کے لیے ہے۔
سوال: اس فیصلے کا ورلڈ بینک کا کیا کردار ہے؟
جواب: ورلڈ بینک معاہدے کا دستخط کنندہ اور سہولت کار ہے۔ اس نے اکتوبر ۲۰۲۲ میں نیوٹرل ایکسپرٹ اور ثالثی عدالت دونوں کے سربراہ مقرر کیے تھے۔
Comments
Post a Comment