ووٹنگ کی عمر ۲۵ سال: ایک غیر جمہوری سوچ یا نوجوانوں کو خاموش کرنے کی سازش؟


اسلام آباد: پاکستان میں ووٹنگ کی عمر ۱۸ سے ۲۵ سال کرنے کی تجویز نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزیرِ اعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ کے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس تجویز کا ذکر کرتے ہی اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کی تنظیموں نے اسے غیر جمہوری اور آئینی بنیادوں پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔


رانا ثناء اللہ نے ووٹنگ کی عمر بڑھانے کی بات کیوں کی؟

رانا ثناء اللہ نے جیو نیوز کے پروگرام 'جرگہ' میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر الیکشن لڑنے کی کم از کم عمر ۲۵ سال ہے تو ووٹ ڈالنے کی عمر پر بھی غور کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ "عقلمندی کی عمر ۲۵ سال ہے، اسی لیے نمائندگی اور ووٹ کاسٹ کرنا دونوں ذمہ داریاں ہیں"۔ تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ یہ تجویز 'سرکاری پالیسی' نہیں ہے اور نہ ہی ان کی جماعت نے اس کی حمایت کی ہے۔


کیا حکومت واقعی ووٹنگ کی عمر بڑھانے جا رہی ہے؟

اس الجھن میں مزید اضافہ اس وقت ہوا جب وفاقی وزراء نے اس خبر کی تردید کی۔ اطلاعات و نشریات کے وزیر اسلام آباد: پاکستان میں ووٹنگ کی عمر ۱۸ سے ۲۵ سال کرنے کی تجویز نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ وزیرِ اعظم کے سیاسی امور کے مشیر رانا ثناء اللہ کے ایک ٹی وی انٹرویو میں اس تجویز کا ذکر کرتے ہی اپوزیشن جماعتوں، سول سوسائٹی اور نوجوانوں کی تنظیموں نے اسے غیر جمہوری اور آئینی بنیادوں پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔

پاکستان میں ووٹنگ کی عمر سے متعلق آئین کیا کہتا ہے؟

آئین پاکستان کے آرٹیکل ۱۰۶ (۲) کے مطابق پاکستان کا کوئی بھی شہری جو ۱۸ سال یا اس سے زائد عمر کا ہو، ووٹ کا حقدار ہے۔ سن ۲۰۰۲ء میں پرویز مشرف کے دور میں ووٹنگ کی عمر ۲۱ سے کم کرکے ۱۸ سال کی گئی تھی۔ اسے تبدیل کرنے کے لیے آئینی ترمیم کی ضرورت ہوگی جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت چاہیے۔


نوجوانوں پر کیا اثر پڑے گا؟ کتنے نوجوان ووٹ سے محروم ہوں گے؟

لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز (ایل یو ایم ایس) کے محقق علی حسنین نے سوشل میڈیا پر ایک چارٹ شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ ۱۸ سے ۲۴ سال کی عمر کے ۳ کروڑ ۱ لاکھ پاکستانی ہیں جو ووٹنگ کی عمر بڑھنے کی صورت میں ووٹ کا حق کھو دیں گے۔ یہ تعداد کل ووٹروں کا ۲۳.۷ فیصد بنتی ہے۔


سیاسی جماعتوں کا ردِعمل: کیا یہ 'گھبراہٹ' کی چال ہے؟

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے سیکرٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم نے اس تجویز کو "سیاسی گھبراہٹ کا شاہکار قرار دیا جو آئینی حکمت کے روپ میں پیش کیا جا رہا ہے"۔ انہوں نے کہا کہ "وہی حکمران اشرافیہ جو ۱۸ سال کے نوجوانوں کو ملکی دفاع کے لیے بھرتی کرتی ہے، انہیں شادی اور خاندان کی اجازت دیتی ہے، اچانک یہ دریافت کر لیتی ہے کہ یہ شہری حکومت چننے کے لیے بہت کم عمر ہیں"۔

جے یو آئی (ف) کے سینیٹر کامران مرتضیٰ نے کہا کہ اگر ۱۸ سال کا شہری قانونی طور پر بالغ ہے اور شادی کر سکتا ہے تو اسے ووٹ کا حق بھی ہونا چاہیے۔


عالمی منظرنامہ: دنیا کے ممالک میں ووٹنگ کی کیا عمر ہے؟

دنیا کے بیشتر جمہوری ممالک میں ووٹنگ کی عمر ۱۸ سال ہے۔ امریکہ میں ویت نام جنگ کے دوران "اتنا بوڑھا کہ لڑ سکے، اتنا بوڑھا کہ ووٹ دے سکے" کے اصول پر ۲۶ویں آئینی ترمیم کے ذریعے ووٹنگ کی عمر ۲۱ سے کم کرکے ۱۸ کی گئی تھی۔ متحدہ عرب امارات واحد ملک ہے جہاں ووٹنگ کی عمر ۲۵ سال ہے۔

شیخ وقاص اکرم کے مطابق: "جب مہذب دنیا نے دہائیوں پہلے اس منطق کو اپنا لیا، ہمارا روشن خیال اتحاد اب پیچھے کی طرف مارچ کرنا چاہتا ہے"۔


بین الاقوامی قوانین: کیا یہ تجویز عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی ہے؟

بیرسٹر ابوزر سلمان نیازی کے مطابق یہ تجویز بین الاقوامی قانون کی ممکنہ خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر لکھا: "ووٹنگ کی عمر ۲۵ کرنا جمہوری اصلاحات نہیں بلکہ آئینی اخراج ہے جو قانون سازی کا روپ دھار رہا ہے۔ آئی سی سی پی آر کا آرٹیکل ۲۵ جس کا پاکستان رکن ہے، عالمی اور مساوی رائے دہی کے حق کا تحفظ کرتا ہے"۔


سول سوسائٹی کا مؤقف: 'نو ٹیکسیشن ود آؤٹ رپریزنٹیشن'

سماجی کارکن اسامہ کھلجی نے سوشل میڈیا پر سوال اٹھایا: "اگر حکومت ووٹنگ کی عمر ۲۵ سال کرنا چاہتی ہے تو کیا ۲۵ سال سے کم عمر افراد ٹیکسوں سے مستثنیٰ ہوں گے؟ نمائندگی کے بغیر ٹیکس نہیں ہونا چاہیے"۔

محقق علی حسنین نے مطالبہ کیا کہ اس قسم کی تبدیلی ریفرنڈم کے بغیر ممکن نہیں ہونی چاہیے۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا پاکستان میں ووٹنگ کی عمر ۱۸ سے ۲۵ کرنے کی تجویز منظور ہو چکی ہے؟

جواب: نہیں، یہ تجویز منظور نہیں ہوئی۔ وفاقی وزراء نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی سطح پر ایسی کوئی تجویز زیرِ غور نہیں ہے۔ رانا ثناء اللہ نے اسے ممکنہ ۲۸ویں آئینی ترمیم کے تحت بحث کا موضوع قرار دیا تھا۔

سوال: رانا ثناء اللہ نے ووٹنگ کی عمر بڑھانے کی تجویز کیوں دی؟

جواب: ان کا کہنا تھا کہ الیکشن لڑنے کی کم از کم عمر ۲۵ سال ہے اس لیے ووٹنگ کی عمر پر بھی غور ہونا چاہیے۔ انہوں نے اسے 'عقلمندی کی عمر' سے جوڑ کر پیش کیا۔

سوال: ووٹنگ کی عمر بڑھنے سے کتنے نوجوان متاثر ہوں گے؟

جواب: پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کے اعداد و شمار کے مطابق ۱۸ سے ۲۴ سال کی عمر کے ۳ کروڑ ۱ لاکھ نوجوان ووٹ کا حق کھو دیں گے۔

سوال: دنیا کے کتنے ممالک میں ووٹنگ کی عمر ۱۸ سال ہے؟

جواب: تقریباً تمام جمہوری ممالک میں ووٹنگ کی عمر ۱۸ سال ہے۔ متحدہ عرب امارات واحد ملک ہے جہاں ۲۵ سال کی عمر میں ووٹ ڈالنے کا حق ملتا ہے۔

سوال: کیا ووٹنگ کی عمر میں تبدیلی کے لیے ریفرنڈم درکار ہے؟

جواب: یہ تبدیلی آئینی ترمیم کے تحت ہوگی جس کے لیے پارلیمنٹ میں دو تہائی اکثریت درکار ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس قسم کی بڑی تبدیلی ریفرنڈم کے بغیر نہیں ہونی چاہیے۔

Comments

Popular posts from this blog

امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے Emirates ID کی فیس میں نئ اپڈیٹ ۔

آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی: ٹرمپ کی الٹی میٹم اور ایران کا سخت جواب

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ