پاکستان-افغانستان کشیدگی ۲۰۲۶: برادرانہ جنگ جو خطے کا نقشہ تبدیل کر سکتی ہے

پاکستان اور افغانستان کے درمیان حالیہ کشیدگی نے ایک بار پھر اس خطے کو جغرافیائی سیاسی لحاظ سے انتہائی حساس بنا دیا ہے۔ مارچ ۲۰۲۶ کے دوسرے ہفتے میں راولپنڈی، کوہاٹ اور کوئٹہ پر افغان طالبان کی جانب سے کیے گئے ڈرون حملوں کی کوششوں کے بعد یہ تنازع محض سرحدی جھڑپوں سے نکل کر ایک ممکنہ "سایہ جنگ" میں تبدیل ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ پاکستان افغانستان کشیدگی ۲۰۲۶ کی اس نئی جہت نے علاقائی ماہرین کے درمیان یہ سوال ضرور پیدا کر دیا ہے کہ کیا یہ محض ایک عسکری جھڑپ ہے یا پھر پورے خطے کے سیکیورٹی نقشے کو نئے سرے سے ڈیزائن کرنے کی ایک منصوبہ بند کوشش؟
سفارتی جمود سے فوجی تصادم تک
پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں تلخی کوئی نئی بات نہیں، لیکن موجودہ صورتحال ماضی کی نسبت کہیں زیادہ سنگین نظر آتی ہے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان طالبان دوحہ معاہدے کی پاسداری کرنے میں ناکام رہے ہیں اور ان کی سرزمین کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) سمیت دیگر شدت پسند گروہوں کے خلاف کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہو رہی ۔ دوسری جانب افغان طالبان کا اصرار ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے اور وہ خود اسے حل کرنے سے قاصر ہے ۔
اس سفارتی تعطل کے نتیجے میں پہلے سرحدی تجارت معطل ہوئی اور اب صورتحال فوجی تصادم تک جا پہنچی ہے۔ ۱۳ مارچ ۲۰۲۶ کو افغان وزارت دفاع کی جانب سے راولپنڈی میں واقع "حمزہ کیمپ" کو ڈرونز کے ذریعے نشانہ بنانے کے دعوے نے پاکستان کی سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کو ہلا کر رکھ دیا ۔ اگرچہ آئی ایس پی آر نے ان حملوں کو ناکام بنانے کا دعویٰ کیا ہے، لیکن دارالحکومت کے قریب اس طرح کی کارروائی کی کوشش ایک نیا خطرناک رجحان ہے۔
کیا یہ ٹی ٹی پی کا معاملہ ہے یا ہندوستان کا کردار؟
پاکستانی ماہرین کا ایک بڑا طبقہ سمجھتا ہے کہ اسلام آباد کا اصل غصہ کابل اور نئی دہلی کے بڑھتے ہوئے تعلقات پر ہے۔ پاکستان میں یہ تاثر عام ہے کہ ہندوستان، پاکستان کے خلاف اپنی دشمنی کی وجہ سے افغان طالبان کی ٹی ٹی پی کی حمایت میں خاموشی یا پردہ پوشی کر رہا ہے ۔ اس کشیدگی کی ایک اور جہت پاکستان کی ماضی کی خارجہ پالیسی کی ناکامیوں سے بھی جڑی ہے۔
انڈپینڈنٹ اردو میں شائع ہونے والے ایک تجزیے کے مطابق، پاکستان نے ۶۰ اور ۷۰ کی دہائی میں پشتون قوم پرستوں سے لے کر ۹۰ کی دہائی میں طالبان تک، مختلف افغان گروہوں کی حمایت کر کے دوسری قومیتوں (تاجک، ازبک، ہزارہ) کو اپنا دشمن بنایا ۔ اب جبکہ افغانستان میں پشتون طالبان کی حکومت ہے، پاکستان ان سے بھی اختلافات کے دلدل میں پھنس گیا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے واضح کیا ہے کہ اب "کھلی جنگ" ہوگی اور ان کا صبر ختم ہو چکا ہے ۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان واقعی بھرپور جنگ کے لیے تیار ہے؟ دونوں ممالک کی معیشتیں پہلے ہی مشکلات کا شکار ہیں۔ افغانستان کی ایک کروڑ سے زائد آبادی بین الاقوامی امداد پر منحصر ہے، اور پاکستان کو بھی گزشتہ دو دہائیوں میں دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ۱۰۰ ارب ڈالرز سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا ہے ۔
علاقائی اور عالمی اثرات: کیا خطے کی سرحدیں بدل سکتی ہیں؟
اگر یہ کشیدگی جاری رہی تو صرف پاکستان اور افغانستان ہی نہیں، بلکہ پورا خطہ اس کی زد میں آ سکتا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ اگر افغانستان میں صورت حال بگڑتی ہے تو ہزارہ، تاجک اور ازبک طالبان کی پشتون حکومت کے خلاف دوبارہ مسلح ہو سکتے ہیں ۔ ایسی صورت میں پاکستان کے صوبوں بالخصوص بلوچستان اور خیبرپختونخوا میں علیحدگی پسند اور عسکری تنظیمیں مزید متحرک ہو سکتی ہیں ۔
دوسری جانب اس تنازع نے بین الاقوامی طاقتوں کو بھی متحرک کر دیا ہے۔ سعودی عرب اور قطر پاکستان اور افغانستان کے درمیان جنگ بندی کروانے کے لیے سرگرم سفارتی کوششیں کر رہے ہیں ۔ امریکہ اور چین بھی اس خطے میں استحکام چاہتے ہیں کیونکہ افغانستان میں داعش اور القاعدہ جیسی تنظیموں کی موجودگی عالمی امن کے لیے خطرہ ہے ۔
کیا مدارس ریاست کے ساتھ ہوں گے یا کابل کے ساتھ؟
پاکستان میں تقریباً ۳۶ ہزار رجسٹرڈ مدارس ہیں جن میں سے نصف سے زیادہ دیوبندی مکتبہ فکر سے تعلق رکھتے ہیں ۔ ۱۹۹۶ میں جب طالبان پہلی بار اقتدار میں آئے تو ان مدارس نے ان کا والہانہ استقبال کیا تھا۔ سوال یہ ہے کہ اگر پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان بھرپور جنگ ہوتی ہے تو ان مدارس کی ہمدردیاں کس کے ساتھ ہوں گی؟ یہ ایک ایسا سوال ہے جس نے پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو شدید پریشان کر رکھا ہے۔
نتیجہ: جنگ کوئی حل نہیں، سفارت کاری ہی واحد راستہ
پاکستان اور افغانستان کا باہمی تصادم نہ صرف دونوں ممالک کے عوام کے لیے تباہی کا باعث بن سکتا ہے بلکہ پورے خطے میں انتہا پسندی اور دہشت گردی کو فروغ دے سکتا ہے۔ ماضی میں امریکی حملے کے بعد پاکستان کے پاس موقع تھا کہ وہ عالمی برادری کے ساتھ مل کر انتہا پسندی کا خاتمہ کرتا، لیکن مبینہ طور پر "ڈبل گیم" کی پالیسی کی وجہ سے وہ موقع ضائع ہو گیا ۔
اب صورت حال بہت بدل چکی ہے۔ پاکستان کو امریکہ، چین اور دیگر عالمی طاقتوں کے ساتھ مل کر افغانستان میں انسانی حقوق کے تحفظ اور ایک پائیدار سیاسی نظام کے قیام کے لیے کام کرنا چاہیے۔ طاقت کا استعمال صرف صورتحال کو مزید پیچیدہ بنائے گا۔ سعودی عرب اور قطر کی ثالثی میں ہونے والی سفارتی کوششیں ایک امید کی کرن ہیں اور انھیں کامیاب بنانے کے لیے دونوں فریقوں کو اپنا صبر آزمانے کے بجائے مذاکرات کی میز پر واپس آنا ہوگا۔ ورنہ یہ "سایہ جنگ" پورے خطے کو ایک ایسی آگ میں بدل سکتی ہے جسے بجھانا کسی کے بس میں نہ ہو۔
سوالات و جوابات (FAQs)
س۱: پاکستان اور افغانستان میں جنگ کیوں ہو رہی ہے؟
پاکستان کا الزام ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین کو ٹی ٹی پی جیسی دہشت گرد تنظیموں کے خلاف استعمال ہونے سے نہیں روک رہا، جبکہ افغان طالبان کا کہنا ہے کہ دہشت گردی پاکستان کا داخلی مسئلہ ہے۔ حالیہ ڈرون حملوں اور فضائی کارروائیوں نے صورتحال کو مزید کشیدہ کر دیا ہے .
س۲: آپریشن غضب للحق کیا ہے؟
یہ پاکستانی فوج کا افغانستان میں شدت پسندوں کے خلاف جاری کردہ ایک ٹارگٹڈ آپریشن ہے۔ پاکستان کا دعویٰ ہے کہ اس آپریشن کے دوران کابل، پکتیا اور قندھار میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا ہے .
س۳: پاک افغان کشیدگی میں سعودی عرب اور قطر کا کیا کردار ہے؟
سعودی عرب اور قطر دونوں ممالک جنگ بندی کروانے کے لیے سفارتی کوششیں کر رہے ہیں۔ سعودی وزیر خارجہ نے پاکستانی وزیر خارجہ سے جبکہ قطری مذاکرات کار نے افغان وزیر خارجہ سے رابطے کیے ہیں .
س۴: کیا پاکستان اور افغانستان کے درمیان مکمل جنگ چھڑ جائے گی؟
اگرچہ صورتحال انتہائی کشیدہ ہے، لیکن دونوں ممالک کی معیشتیں کمزور ہیں اور بین الاقوامی دباؤ بھی ہے، اس لیے مکمل جنگ کے امکانات کم ہیں۔ تاہم سایہ جنگ یا پراکسی وار جاری رہ سکتی ہے.
س۵: پاکستان پر ڈرون حملے کس نے کیے؟
آئی ایس پی آر کے مطابق ۱۳ مارچ ۲۰۲۶ کو افغان طالبان نے پاکستان کے تین شہروں (راولپنڈی، کوہاٹ، کوئٹہ) پر ڈرون حملے کرنے کی کوشش کی جو ناکام بنا دی گئی .
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں