اشاعتیں

جون, 2026 سے پوسٹس دکھائی جا رہی ہیں

پٹرولیم صنعت کا یکطرفہ قیمت کٹوتی پر احتجاج، ۱۰۵ ارب روپے کے نقصان کا خدشہ

تصویر
  حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں ۱۸ سے ۲۰ فیصد تک تاریخی کٹوتی نے تیل کی صنعت کو شدید مالی نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ اوئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے مطابق اس فیصلے سے ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو تقریباً ۱۰۵ ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ یہ نقصان کمپنیوں کی ورکنگ کیپیٹل، لیکویڈیٹی اور شیئر ہولڈرز کی قدروں پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔ صنعت نے اس فیصلے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پٹرولیم قیمتوں کا فارمولا کیوں تبدیل کیا گیا؟ صنعت کے مطابق وفاقی کابینہ نے گزشتہ تین ماہ کے دوران پٹرولیم قیمتوں کے تعین کا فارمولا چار بار تبدیل کیا ہے ۔ جب عالمی قیمتیں بڑھ رہی تھیں تو پندرہ روزہ اوسط کا فارمولا استعمال کیا گیا، پھر درآمدی پریمیم اور جنگی سربندی اضافے کی صورت میں ہفتہ وار اوسط پر منتقل ہو گئے، بعد ازاں مصنوعات کی درآمد کے بجائے خام تیل پر مبنی قیمتوں کا نظام اپنایا گیا ۔ تازہ ترین فیصلے میں تین ماہ کی اوسط پریمیم کو بنیاد بنایا گیا حالانکہ پاکستان اسٹیٹ آئل کا اصل بینچ مارک دستیاب نہیں تھا ۔ کیا پاکستان میں تیل کی کمپنیاں دیوالیہ ہو سکتی ہی...

پاکستان امریکہ ایران مذاکرات میں ثالث بن کر عالمی سفارتکاری کا نیا رخ

تصویر
پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی کو کم کرنے میں کلیدی ثالث کا کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان امریکہ ایران مذاکرات میں سفارتی کوششوں کے نتیجے میں "اسلام آباد مفاہمت نامے" پر دستخط ہوئے جس کے تحت دونوں ممالک نے جنگ بندی اور مزید مذاکرات پر اتفاق کیا۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اس سلسلے میں امریکی وائس پرذیڈنٹ جے ڈی وینس اور ایرانی رہنماؤں سے ملاقاتیں کیں۔ اسلام آباد مفاہمت نامہ کیا ہے اور اس کی کیا اہمیت ہے؟ یہ ۱۴ نکاتی معاہدہ پاکستان کی ثالثی میں طے پایا جس پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے دستخط کیے۔ اس معاہدے کے تحت ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا وعدہ کیا جبکہ امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کر دی۔ اس مفاہمت نامے کو پاکستان کی سفارتی تاریخ میں ایک سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کیسے ہوئی؟ فروری ۲۰۲۶ میں امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد کشیدگی عروج پر پہنچ گئی تھی۔ پاکستان نے اپریل ۲۰۲۶ میں پہلی جنگ بندی کرانے میں کامیابی...

چکوال المیہ: نو سالہ آسٹریلوی بچی حانیہ کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت

تصویر
  پنجاب کے ضلع چکوال میں ایک المناک واقعے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ چکوال المیہ آسٹریلوی بچی پولیس فائرنگ کے تحت ۹ سالہ حانیہ احمد نامی معصوم بچی اپنے خاندان کے ساتھ گاڑی میں سفر کر رہی تھی کہ پولیس کی مبینہ غلط فائرنگ نے اس کی جان لے لی۔ یہ واقعہ ۱۰ جون ۲۰۲۶ کو پیش آیا جب حانیہ اپنے والد عادل احمد، والدہ ڈاکٹر سدرہ خان اور ۱۰ سالہ بھائی عافان کے ساتھ چکوال سے گزر رہی تھی ۔ چکوال میں آسٹریلوی بچی کے قتل کا واقعہ کیا ہے؟ خاندان حج کی سعادت حاصل کرنے کے بعد پاکستان آیا تھا اور رشتہ داروں سے ملنے جا رہا تھا۔ راستے میں موٹر سائیکل پر سوار دو مسلح ڈاکوؤں نے ان کی گاڑی کو روک کر یرغمال بنا لیا ۔ عادل احمد نے فوری طور پر پولیس کو اطلاع دی جس پر کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ (سی سی ڈی) کے اہلکار موقع پر پہنچ گئے۔ An Australian family’s holiday has turned into a nightmare after a girl was mistakenly shot dead by police after a robbery in Pakistan. Breaking: https://t.co/0u9lijQJl8 pic.twitter.com/XsvsaZq9s5 — The Australian (@australian) June 14, 2026 پولیس کی مبینہ غلط فائرنگ کے پیچھے کی...

ایران کا پراکسی نظام: مشرق وسطیٰ کو تباہ کرنے والا ہتھیار

تصویر
اسی تناظر میں جب عالمی برادری ایران کے ساتھ مذاکرات کی راہیں تلاش کر رہی تھی، تہران نے اپنا چہرہ دکھا دیا۔ ایران کا پراکسی نیٹ ورک — جس میں حزب اللہ، حوثی، عراقی ملیشیا اور شام میں موجود گروپ شامل ہیں — خطے میں عدم استحکام کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے ۔ ایران کہتا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے پراکسی حملے کبھی نہیں رکتے۔ یہ دوہرا کردار خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ایران کا پراکسی نظام کیسے کام کرتا ہے؟ ایران کے پراکسی نیٹ ورک کو "مزاحمت کا محور" کہا جاتا ہے ۔ یہ نظام دراصل ایران کی "غیر متنازع دفاعی" حکمت عملی ہے — یعنی ایران اپنی کمزور روایتی افواج کی بجائے پراکسی گروپوں کے ذریعے اپنے دشمنوں کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ حزب اللہ لبنان میں ایران کا سب سے طاقتور پراکسی ہے، جو نہ صرف ایک مسلح گروہ ہے بلکہ لبنان کی سیاست پر بھی گہرا اثر رکھتا ہے ۔ یمن میں حوثی باغی، شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا، اور عراق میں کٹائب حزب اللہ جیسے گروپ — یہ سب ایران کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں ۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ گروپ "مزاحمت" کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہ...

گلگت بلتستان انتخابات ۲۰۲۶: ۱۳۰ امیدوار، ۲۴ نشستیں، کون جیتے گا عوام کا اعتماد؟

تصویر
  شمالی علاقوں کی خوبصورت وادیوں میں اس وقت ایک نیا سیاسی طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے۔ گلگت بلتستان انتخابات ۲۰۲۶ نے پورے علاقے کو سیاسی حرارت میں ڈال دیا ہے۔ کل ۱۳۰ امیدوار ۲۴ نشستوں کے لیے میدان میں اترے ہوئے ہیں۔ یہ انتخابات نہ صرف علاقے کی سیاسی تقدیر کا فیصلہ کریں گے بلکہ یہ بھی طے ہوگا کہ عوام کن مسائل کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ پورے پاکستان کی نظریں اس خوبصورت خطے پر جمی ہوئی ہیں۔ امیدواروں میں سے کون جیتے گا؟ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ان ۱۳۰ امیدواروں میں سے کون عوام کا دل جیت پائے گا؟ مختلف سیاسی جماعتوں نے اپنی بھرپور طاقت جھونک دی ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پاکستان پیپلز پارٹی، اور تحریک انصاف کے علاوہ کئی مقامی جماعتیں بھی انتخاب میں حصہ لے رہی ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس بار حقیقی مقابلہ روایتی جماعتوں اور نئے چہروں کے درمیان ہے۔ عوام نے تبدیلی کا مطالبہ کیا ہے اور دیکھنا یہ ہے کہ کون ان کے مطالبات پورے کرنے کا بھروسہ دلاتا ہے۔ Gilgit-Baltistan General Elections 2026: 958,480 Voters Turn Out Under Tight Security with 17,500 Personnel Deployed https://t.co/ubxQvJbzkA pic....

کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ: ایک المیہ اور ایک بہادرانہ داستان

تصویر
کوئٹہ کے سول ہسپتال میں پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے نے پوری قوم کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ ڈاکٹر ماہ نور پر تیزاب حملہ اس حوالے سے ایک عبرتناک مثال ہے کہ جب ڈیوٹی پر موجود ایک خاتون ڈاکٹر کو اسی ہسپتال کے ملازم نے نشانہ بنایا۔ یہ واقعہ نہ صرف خواتین کے خلاف بڑھتے ہوئے تشدد کی عکاسی کرتا ہے بلکہ اس میں انسانیت کا ایک روشن پہلو بھی سامنے آیا۔ کوئٹہ کے سول ہسپتال میں ڈاکٹر پر تیزاب کیوں پھینکا گیا؟ ابتدائی اطلاعات کے مطابق ملزم ہسپتال میں ملازم تھا اور اس نے ذاتی دشمنی کی بناء پر یہ وحشیانہ حرکت کی۔ ڈاکٹر ماہ نور اس وقت ڈیوٹی پر تھیں جب حملہ آور نے ان پر تیزاب پھینک دیا۔ پولیس نے واقعے کی مزید تحقیقات شروع کر دی ہیں اور بتایا گیا ہے کہ ملزم نے پیشہ ورانہ اختلافات کے باعث یہ اقدام کیا۔ An acid attack on a doctor inside a hospital is an attack on every woman who dares to study, work, and serve society. Dr. Mahnoor Nasar was treating patients, yet she became the victim of brutal violence. If a woman is not safe in a hospital, where is she safe? Women already… pic.twitter.com/uciEEpxLy5 ...

صحت عامہ کا چیلنج: تمباکو نوشی کے خلاف پنجاب کا نیا عزم

تصویر
تمباکو نوشی کے خلاف پنجاب میں سخت نفاذ کے لیے وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے بڑا اعلان کیا ہے۔ عالمی یوم تمباکو کے موقع پر جاری کردہ پیغام میں انہوں نے کہا کہ تمباکو نوشی اب کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی ، خاص طور پر تعلیمی اداروں، سرکاری دفاتر اور عوامی مقامات پر ۔ وزیراعلیٰ نے تمباکو نوشی کو ایک خاموش وبا قرار دیتے ہوئے اسے بہت سی مہلک بیماریوں سے بھی زیادہ خطرناک بتایا ۔ مریم نواز نے تمباکو نوشی کے خلاف کیا اقدامات اٹھانے کا عندیہ دیا ہے؟ وزیراعلیٰ مریم نواز شریف نے واضح کیا ہے کہ پنجاب حکومت تعلیمی اداروں میں تمباکو نوشی کی مکمل پابندی یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری دفاتر، پبلک ٹرانسپورٹ اور دیگر عوامی مقامات پر سگریٹ نوشی قابل سزا جرم ہے اور متعلقہ قوانین پر سختی سے عملدرآمد کرایا جائے گا ۔ وزیراعلیٰ نے عوام پر زور دیا کہ وہ تمباکو نوشی چھوڑ کر صحت مند طرز زندگی اپنائیں۔ Punjab Chief Minister @MaryamNSharif says the government is taking measures to ensure a complete ban on smoking in educational institutions @GovtofPunjabPK #News #RadioPakist...

روس اور طالبان: فوجی معاہدہ یا خطے میں نئی سرد جنگ کا آغاز؟

تصویر
ماسکو میں حال ہی میں روس طالبان معاہدہ طے پانے کے بعد پورے خطے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ یہ معاہدہ محض ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے جغرافیائی توازن کو بدلنے والا دھماکہ خیز مواد ہے۔ جہاں ایک طرف روس افغانستان میں اپنی کھوئی ہوئی پکڑ مضبوط کر رہا ہے ، وہیں پاکستان اور امریکہ کے لیے یہ ایک سنگین چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ آئیے اس معاہدے کی تمام پرتیں کھول کر دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آخر اس کے پیچھے کیا حکمت عملی پوشیدہ ہے۔ روس اور طالبان کے درمیان فوجی معاہدے کی شرائط کیا ہیں؟ اگرچہ اس معاہدے کی پوری تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں، لیکن دفاعی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ ‘ملیٹری ٹیکنیکل’ تعاون پر مبنی ہے۔ طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ ایک تکنیکی معاہدہ ہے جس کا مقصد افغانستان میں موجود پرانے روسی ہتھیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کرنا ہے۔ اس میں طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور دیگر فوجی ہارڈویئر کے پرزے اور تربیت شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم، خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں یہ معاہدہ جدید ہتھیاروں جیسے میگ ۲۹ یا دفاعی نظام ایس ۴۰۰ کی ...