پٹرولیم صنعت کا یکطرفہ قیمت کٹوتی پر احتجاج، ۱۰۵ ارب روپے کے نقصان کا خدشہ
حکومت کی جانب سے ایندھن کی قیمتوں میں ۱۸ سے ۲۰ فیصد تک تاریخی کٹوتی نے تیل کی صنعت کو شدید مالی نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ اوئل کمپنیز ایڈوائزری کونسل کے مطابق اس فیصلے سے ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو تقریباً ۱۰۵ ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے ۔ یہ نقصان کمپنیوں کی ورکنگ کیپیٹل، لیکویڈیٹی اور شیئر ہولڈرز کی قدروں پر براہِ راست اثر ڈالے گا۔ صنعت نے اس فیصلے کو یکطرفہ قرار دیتے ہوئے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ پٹرولیم قیمتوں کا فارمولا کیوں تبدیل کیا گیا؟ صنعت کے مطابق وفاقی کابینہ نے گزشتہ تین ماہ کے دوران پٹرولیم قیمتوں کے تعین کا فارمولا چار بار تبدیل کیا ہے ۔ جب عالمی قیمتیں بڑھ رہی تھیں تو پندرہ روزہ اوسط کا فارمولا استعمال کیا گیا، پھر درآمدی پریمیم اور جنگی سربندی اضافے کی صورت میں ہفتہ وار اوسط پر منتقل ہو گئے، بعد ازاں مصنوعات کی درآمد کے بجائے خام تیل پر مبنی قیمتوں کا نظام اپنایا گیا ۔ تازہ ترین فیصلے میں تین ماہ کی اوسط پریمیم کو بنیاد بنایا گیا حالانکہ پاکستان اسٹیٹ آئل کا اصل بینچ مارک دستیاب نہیں تھا ۔ کیا پاکستان میں تیل کی کمپنیاں دیوالیہ ہو سکتی ہی...