ایران کا پراکسی نظام: مشرق وسطیٰ کو تباہ کرنے والا ہتھیار
اسی تناظر میں جب عالمی برادری ایران کے ساتھ مذاکرات کی راہیں تلاش کر رہی تھی، تہران نے اپنا چہرہ دکھا دیا۔ ایران کا پراکسی نیٹ ورک — جس میں حزب اللہ، حوثی، عراقی ملیشیا اور شام میں موجود گروپ شامل ہیں — خطے میں عدم استحکام کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے ۔ ایران کہتا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے پراکسی حملے کبھی نہیں رکتے۔ یہ دوہرا کردار خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ایران کا پراکسی نظام کیسے کام کرتا ہے؟ ایران کے پراکسی نیٹ ورک کو "مزاحمت کا محور" کہا جاتا ہے ۔ یہ نظام دراصل ایران کی "غیر متنازع دفاعی" حکمت عملی ہے — یعنی ایران اپنی کمزور روایتی افواج کی بجائے پراکسی گروپوں کے ذریعے اپنے دشمنوں کو نقصان پہنچاتا ہے ۔ حزب اللہ لبنان میں ایران کا سب سے طاقتور پراکسی ہے، جو نہ صرف ایک مسلح گروہ ہے بلکہ لبنان کی سیاست پر بھی گہرا اثر رکھتا ہے ۔ یمن میں حوثی باغی، شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا، اور عراق میں کٹائب حزب اللہ جیسے گروپ — یہ سب ایران کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں ۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ گروپ "مزاحمت" کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہ...