روس اور طالبان: فوجی معاہدہ یا خطے میں نئی سرد جنگ کا آغاز؟


ماسکو میں حال ہی میں روس طالبان معاہدہ طے پانے کے بعد پورے خطے میں ہلچل مچ گئی ہے۔ یہ معاہدہ محض ایک رسمی دستاویز نہیں بلکہ جنوبی ایشیا کے جغرافیائی توازن کو بدلنے والا دھماکہ خیز مواد ہے۔ جہاں ایک طرف روس افغانستان میں اپنی کھوئی ہوئی پکڑ مضبوط کر رہا ہے، وہیں پاکستان اور امریکہ کے لیے یہ ایک سنگین چیلنج بن کر ابھرا ہے۔ آئیے اس معاہدے کی تمام پرتیں کھول کر دیکھتے ہیں اور جانتے ہیں کہ آخر اس کے پیچھے کیا حکمت عملی پوشیدہ ہے۔

روس اور طالبان کے درمیان فوجی معاہدے کی شرائط کیا ہیں؟

اگرچہ اس معاہدے کی پوری تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں، لیکن دفاعی ماہرین کے مطابق یہ معاہدہ ‘ملیٹری ٹیکنیکل’ تعاون پر مبنی ہے۔ طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب نے واضح کیا ہے کہ یہ کوئی دفاعی معاہدہ نہیں بلکہ ایک تکنیکی معاہدہ ہے جس کا مقصد افغانستان میں موجود پرانے روسی ہتھیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کرنا ہے۔ اس میں طیاروں، ہیلی کاپٹروں اور دیگر فوجی ہارڈویئر کے پرزے اور تربیت شامل ہو سکتی ہے۔ تاہم، خدشہ یہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مستقبل میں یہ معاہدہ جدید ہتھیاروں جیسے میگ ۲۹ یا دفاعی نظام ایس ۴۰۰ کی فراہمی تک جا سکتا ہے۔


روس نے طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

روسی صدر ولادیمیر پوٹن طالبان کو ‘دہشت گردی کے خلاف جنگ میں اتحادی’ قرار دے چکے ہیں۔ درحقیقت، روس کا یہ اقدام محض ہمدردی پر مبنی نہیں بلکہ سفاکانہ حقیقت پسندی کا نتیجہ ہے۔ ماسکو کی اولین ترجیح اپنی جنوبی سرحدوں، خاص طور پر وسطی ایشیائی ریاستوں، کو دہشت گردی بالخصوص آئی ایس آئی ایس کے کے بڑھتے ہوئے خطرے سے بچانا ہے۔ روس کو شدید تشویش ہے کہ امریکہ اور نیٹو کے انخلا کے بعد جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے آئی ایس آئی ایس کے استعمال کر سکتا ہے۔ اس لیے روس نے طالبان کو اس خلا کو پر کرنے والی طاقت کے طور پر دیکھا۔

روس طالبان معاہدہ پاکستان کے لیے کیوں خطرہ ہے؟

یہ معاہدہ پاکستان کے لیے ایک بڑے ‘جیوپولیٹیکل سر درد’ سے کم نہیں۔ پاکستان طویل عرصے سے الزام لگا رہا ہے کہ طالبان کی حکومت تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو اپنی سرزمین استعمال کرنے کی اجازت دے رہی ہے۔ اب اگر روس طالبان کو فوجی مدد فراہم کرتا ہے تو افغانستان میں طالبان کی حکومت مزید مضبوط ہو جائے گی، جس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے ان پر دباؤ ڈالنا مشکل ہو جائے گا۔ اس سے پاک بھارت سرحد پر بھی نئی پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں، کیونکہ روس اور بھارت بھی تاریخی دوست ہیں۔


کیا روس طالبان کو جدید طیارے اور ایس ۴۰۰ فراہم کرے گا؟

فی الحال تو یہ قیاس آرائیاں ہی ہیں کہ کیا طالبان کو روس کی طرف سے مگ ۲۹ یا ایس ۴۰۰ جیسے جدید نظام دیے جائیں گے۔ تاہم، بعض تجزیہ کار اسے زیادہ تر علامتی اقدام قرار دے رہے ہیں۔ روس خود یوکرین جنگ میں مصروف ہے اور مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے، جس کی وجہ سے وہ بڑے پیمانے پر ہتھیاروں کی فراہمی سے قاصر ہو سکتا ہے۔ لیکن روس کی حکمت عملی یہ ہے کہ وہ طالبان کو بتدریج اپنا محتاج بنائے۔ موجودہ معاہدہ پرانے ہتھیاروں کی مرمت کا ہے، لیکن یہ مستقبل میں بڑے سودوں کی راہ ہموار کر سکتا ہے۔


اس فوجی معاہدے سے خطے کے توازن پر کیا اثر پڑے گا؟

اس معاہدے نے خطے میں طاقت کے نئے مساوات قائم کر دیے ہیں۔ درحقیقت، روس نے امریکہ اور نیٹو کو یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ افغانستان میں تنہا فیصلہ ساز ہے۔ ماسکو میں ہونے والے سیکیورٹی فورم میں روس نے مغربی ممالک پر زور دیا کہ وہ افغانستان کے منجمد اثاثے واپس کریں اور تعمیر نو میں حصہ لیں۔ یہ اقدام دراصل روس کی اس کوشش کا حصہ ہے کہ وہ افغانستان کو اپنے اثر و رسوخ کے دائرے میں لا کر چین اور ایران کے ساتھ مل کر ایک نیا علاقائی بلاک تشکیل دے، جس میں پاکستان کو بعد میں شامل کیا جا سکتا ہے یا اسے نظر انداز کر دیا جائے۔


روس کی یہ اقدام امریکہ اور نیٹو کے خلاف کیوں اہم ہے؟

امریکہ کے لیے یہ ایک سخت سیاسی شکست ہے کہ جس طالبان سے اس نے ۲۰ سال جنگ لڑی، آج اسی کے ساتھ روس ہاتھ ملا رہا ہے۔ سیکیورٹی کونسل کے سیکرٹری سیرگی شوئیگوا نے کھل کر کہا کہ روس افغانستان یا پڑوسی ممالک میں امریکی یا نیٹو فورسز کی واپسی کے خلاف ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روس نے اپنے اثر و رسوخ سے مغربی ممالک کو اس خطے سے باہر نکالنے کی پالیسی اپنا لی ہے، جس سے افغانستان میں امریکی انٹیلیجنس نیٹ ورک کی بحالی کے امکانات ختم ہو گئے ہیں۔


طالبان کے لیے روس کے ساتھ یہ معاہدہ کیا معنی رکھتا ہے؟

طالبان کے لیے یہ معاہدہ ‘قانونی حیثیت’ کی سند ہے۔ ۲۰۲۱ میں اقتدار سنبھالنے کے بعد طالبان عالمی سطح پر شدید تنہائی کا شکار تھے۔ روس نے نہ صرف انہیں تسلیم کیا بلکہ اب ان کے ساتھ فوجی معاہدہ کر کے دنیا کو یہ پیغام دیا ہے کہ طالبان ایک مستقل حقیقت ہیں۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے واضح کیا ہے کہ یہ معاہدہ کسی کے خلاف نہیں ہے اور وہ دیگر ممالک کے ساتھ بھی ایسے معاہدے کرنے کو تیار ہیں۔ اس سے طالبان کو بین الاقوامی سطح پر اپنی پوزیشن مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا روس اور طالبان کے درمیان معاہدہ دفاعی معاہدہ ہے؟

جواب: نہیں، طالبان کے وزیر دفاع ملا محمد یعقوب اور ترجمان کے مطابق یہ ایک ‘ملیٹری ٹیکنیکل’ یا تکنیکی معاہدہ ہے، جس کا مقصد پرانے روسی ہتھیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال کرنا ہے، یہ کوئی دفاعی اتحاد نہیں ہے۔

سوال: روس نے طالبان کے ساتھ معاہدہ کر کے کون سے اہداف حاصل کرنے کی کوشش کی ہے؟

جواب: روس کا بنیادی ہدف افغانستان سے وسطی ایشیا میں پھیلنے والے دہشت گردی خاص طور پر آئی ایس آئی ایس کے کے خطرے کو روکنا ہے، ساتھ ہی امریکہ کے بغیر خطے میں اپنے اثر و رسوخ کو بحال کرنا ہے۔

سوال: کیا اس معاہدے سے پاکستان کو کوئی خطرہ لاحق ہے؟

جواب: جی ہاں، ماہرین کے مطابق اس معاہدے سے طالبان کی حکومت مضبوط ہو گی، جس سے پاکستان کے لیے ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی کے لیے طالبان پر دباؤ ڈالنا مشکل ہو جائے گا۔

سوال: کیا روس طالبان کو جدید جنگی طیارے فراہم کرے گا؟

جواب: اس معاہدے کی موجودہ شرائط میں جدید طیاروں کی فراہمی شامل نہیں ہے، لیکن مستقبل میں اگر تعلقات مزید گہرے ہوئے تو اس کے امکانات مسترد نہیں کیے جا سکتے۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے Emirates ID کی فیس میں نئ اپڈیٹ ۔

آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی: ٹرمپ کی الٹی میٹم اور ایران کا سخت جواب

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ