ایران کا پراکسی نظام: مشرق وسطیٰ کو تباہ کرنے والا ہتھیار
اسی تناظر میں جب عالمی برادری ایران کے ساتھ مذاکرات کی راہیں تلاش کر رہی تھی، تہران نے اپنا چہرہ دکھا دیا۔ ایران کا پراکسی نیٹ ورک — جس میں حزب اللہ، حوثی، عراقی ملیشیا اور شام میں موجود گروپ شامل ہیں — خطے میں عدم استحکام کا سب سے بڑا ذریعہ بن چکا ہے ۔ ایران کہتا ہے کہ وہ مذاکرات کے لیے تیار ہے، لیکن اس کے پراکسی حملے کبھی نہیں رکتے۔ یہ دوہرا کردار خطے کے لیے سنگین خطرہ ہے۔
ایران کا پراکسی نظام کیسے کام کرتا ہے؟
ایران کے پراکسی نیٹ ورک کو "مزاحمت کا محور" کہا جاتا ہے ۔ یہ نظام دراصل ایران کی "غیر متنازع دفاعی" حکمت عملی ہے — یعنی ایران اپنی کمزور روایتی افواج کی بجائے پراکسی گروپوں کے ذریعے اپنے دشمنوں کو نقصان پہنچاتا ہے ۔
حزب اللہ لبنان میں ایران کا سب سے طاقتور پراکسی ہے، جو نہ صرف ایک مسلح گروہ ہے بلکہ لبنان کی سیاست پر بھی گہرا اثر رکھتا ہے ۔ یمن میں حوثی باغی، شام میں ایرانی حمایت یافتہ ملیشیا، اور عراق میں کٹائب حزب اللہ جیسے گروپ — یہ سب ایران کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مصروف ہیں ۔
ایران کا کہنا ہے کہ یہ گروپ "مزاحمت" کر رہے ہیں، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ ایران کی جیب سے چلنے والی کرائے کی فوجیں ہیں جو تہران کے حکم پر حملے کرتی ہیں۔
کیا ایران پراکسی وار کے ذریعے سفارت کاری کو سبوتاژ کر رہا ہے؟
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران واقعی مذاکرات چاہتا ہے؟ جواب ہے — نہیں۔ ایران مذاکرات کو صرف وقت خریدنے کے لیے استعمال کرتا ہے ۔ جب عالمی طاقتیں ایران کے ساتھ ۲۰۱۵ کے جوہری معاہدے پر بات کر رہی تھیں، ایران نے اپنے پراکسی حملے جاری رکھے۔ جب امریکہ نے ۲۰۱۸ میں معاہدہ توڑا، تو ایران نے یورینیم کی افزودگی تیز کر دی۔ اب ۲۰۲۶ میں، جب ٹرمپ انتظامیہ ایران کو موقع دے رہی تھی، ایران نے کویت اور بحرین پر حملے کر دیے ۔
ماہرین کے مطابق، ایران کا مقصد واضح ہے: متعدد محاذوں پر بحران پیدا کر کے عالمی توجہ اپنے ایٹمی پروگرام سے ہٹانا ۔ جب دنیا خلیج میں حملوں پر توجہ دے رہی ہوگی، ایران خاموشی سے اپنی جوہری صلاحیتوں کو آگے بڑھاتا رہے گا۔ یہ ایک پرانی چال ہے، لیکن ایران اسے بار بار استعمال کرتا ہے۔
کیا خلیجی ممالک اس کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں؟
دلچسپ بات یہ ہے کہ ایران کے حملوں نے خلیجی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لا دیا ہے ۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جو پہلے اقتصادی مقابلہ تھا، وہ اب ایک مشترکہ خطرے کے سامنے پیچھے ہٹ گیا ہے ۔
الجزیرہ سینٹر فار اسٹڈیز کی ایک رپورٹ کے مطابق، ترکی، پاکستان، سعودی عرب اور مصر ایک نئے علاقائی سیکیورٹی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں ۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ستمبر ۲۰۲۵ میں ایک اسٹریٹجک دفاعی معاہدہ بھی ہوا ۔ یہ سب اس بات کی علامت ہے کہ خلیجی ممالک اب اپنی سلامتی کے لیے صرف امریکہ پر انحصار نہیں کرنا چاہتے۔
ایران کو سمجھنے کا ایک ہی طریقہ ہے — طاقت
یہی وجہ ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی قسم کی سفارت کاری کو طاقت کی پشت پناہی حاصل ہونی چاہیے ۔ ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ کمزوری کا احترام نہیں کرتا۔ وہ صرف اس وقت سمجھتا ہے جب اسے قیمت چکانی پڑے۔
امریکہ اور اس کے اتحادیوں کو واضح کر دینا چاہیے کہ شہری انفراسٹرکچر پر حملوں کی قیمت چکانی پڑے گی، آبنائے ہرمز میں بحری راہداریوں کی حفاظت غیر متزلزل ہے، اور ایران اپنے پراکسی نیٹ ورکس سے الگ نہیں ۔
اگر عالمی برادری نے ابھی کارروائی نہ کی، تو ایران اپنی مافیا طرز حکمرانی کو جاری رکھے گا، اور مشرق وسطیٰ میں امن اور استحکام ایک خواب ہی رہ جائے گا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ایران کا پراکسی نیٹ ورک کیا ہے؟
یہ ایران کی حمایت یافتہ مسلح گروپوں کا نیٹ ورک ہے، جس میں حزب اللہ، حوثی، عراقی اور شامی ملیشیا شامل ہیں۔ یہ گروپ ایران کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کے لیے کام کرتے ہیں ۔
کیا ایران پراکسی وار کے ذریعے سفارت کاری کو سبوتاژ کر رہا ہے؟
جی ہاں، ایران مذاکرات کو وقت خریدنے کے لیے استعمال کرتا ہے جبکہ اس کے پراکسی حملے جاری رہتے ہیں۔ یہ دوہرا کردار خطے میں عدم استحکام کا سبب ہے ۔
کیا خلیجی ممالک ایران کے خلاف متحد ہو سکتے ہیں؟
جی ہاں، ایران کے حالیہ حملوں نے خلیجی ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لا دیا ہے۔ ترکی، پاکستان، سعودی عرب اور مصر ایک نئے سیکیورٹی فریم ورک پر کام کر رہے ہیں ۔
کیا ایران صرف طاقت کی زبان سمجھتا ہے؟
ماہرین کے مطابق، ایران نے بارہا ثابت کیا ہے کہ وہ کمزوری کا احترام نہیں کرتا۔ ایران کے ساتھ کامیاب مذاکرات کے لیے طاقت کی پشت پناہی ضروری ہے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں