کوئٹہ ٹرین دھماکہ: ۲۴ لاشیں، ۷۰ زخمی، ایک سوال — کیا پاکستان میں عید منانا حرام ہو گیا؟
کوئٹہ ٹرین دھماکہ نے جہاں ایک مرتبہ پھر ملک کو ہلا کر رکھ دیا، وہیں عید الفطر کی خوشیاں ماتم میں بدل کر رہ گئیں۔ صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے مقام پر ایک مسافر ٹرین کو نشانہ بنا کر اتنی بڑی سازش کی گئی کہ اس کے اثرات ریلوے لائن کے آس پاس کی عمارتوں اور گاڑیوں تک پھیل گئے۔ یہ حملہ صرف کسی ٹرین کا پٹڑی سے اترنا نہیں بلکہ پاکستان کے اندرونِ ملک سلامتی کے نظام پر ایک سنگین ضرب ہے۔
کوئٹہ میں ٹرین دھماکے کے پیچھے کون سی تنظیم ہے؟
اس وحشیانہ کارروائی کی ذمہ داری علاحدگی پسند تنظیم بلوچ لبریشن آرمی نے قبول کر لی ہے۔ تنظیم کے ترجمان نے دعویٰ کیا کہ ان کے خودکش دستے نے حفاظتی اہلکاروں کو لے جانے والی ٹرین کو نشانہ بنایا۔ اگرچہ اس تنظیم کا یہ مؤقف ہے، لیکن جاں بحق ہونے والوں میں زیادہ تر معصوم شہری، خواتین اور بچے شامل ہیں جو عید منانے اپنے گھر جا رہے تھے۔ یہ تنظیم طویل عرصے سے بلوچستان میں وفاقی حکومت کے خلاف مسلح بغاوت کر رہی ہے اور وسائل کی لوٹ مار کا الزام لگاتی ہے۔
ٹرین پر خودکش حملے میں کتنے افراد جاں بحق ہوئے؟
ابتدائی طبی امدادی معلومات کے مطابق، اس ٹرین پر خودکش حملے میں کم از کم ۲۴ افراد جاں بحق جبکہ ۷۰ سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ زخمیوں میں سے متعدد کی حالت تشویشناک ہے جس کی وجہ سے خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ اس حملے کی تباہ کاریاں اس قدر شدید تھیں کہ ٹرین کے دو ڈبے مکمل طور پر الٹ گئے اور آگ کی لپیٹ میں آگئے۔ دھماکے کی شدت سے قریبی مکانات اور درجنوں کھڑی گاڑیاں بھی تباہ ہوگئیں۔
کوئٹہ میں چمن پھاٹک کے قریب دہشتگردوں کا حملہ pic.twitter.com/cF1pfJvDDQ
— Geo News Urdu (@geonews_urdu) May 25, 2026
بلوچستان میں ٹرینوں کو نشانہ بنانے کا مقصد کیا ہے؟
ماہرین کے مطابق، بلوچستان میں ٹرینوں کو نشانہ بنانے کا مقصد ریاست کو اقتصادی اور نفسیاتی طور پر کمزور کرنا ہے۔ ریلوے لائن کو قومی معیشت کی شہ رگ تصور کیا جاتا ہے اور ان پر حملے کر کے عوام میں خوف و ہراس پھیلایا جاتا ہے۔ گزشتہ چند ماہ کے دوران یہ پہلا موقع نہیں ہے جب ٹرینوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ اس سے قبل مارچ ۲۰۲۵ میں اس تنظیم نے جعفر ایکسپریس کو اغواء کر کے سینکڑوں مسافروں کو یرغمال بنا لیا تھا، جس کے بعد فوج کی کارروائی میں شدید جانی نقصان ہوا تھا۔ ان حملوں کا بنیادی مقصد پاکستان فوج کے خلاف مزاحمت کو فروغ دینا اور عالمی توجہ مبذول کروانا ہے۔
پاکستان فوج کا ٹرین دھماکے پر اہم ردعمل کیا ہے؟
پاکستان کے سیاسی اور عسکری قیادت نے اس حملے کو بزدلانہ حرکت قرار دیتے ہوئے سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اپنے بیان میں کہا کہ دہشتگردوں کی یہ حرکت قوم کے حوصلے پست نہیں کر سکتی اور ان کے خلاف کارروائی جاری رہے گی۔ صدر آصف علی زرداری نے کہا کہ دہشتگردوں کے پشت پناہ پاکستان کو خطے میں غیر مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا کہنا ہے کہ حفاظتی دستوں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا ہے اور زخمیوں کی مدد جاری ہے، ساتھ ہی اس کارروائی میں ملوث افراد کو پکڑنے کے لیے آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔
کیا اس حملے کا تعلق عید کی چھٹیوں سے ہے؟
یہ عید کی چھٹیوں کے حوالے سے ایک اہم سوال ہے۔ ذرائع کے مطابق ٹرین میں سوار زیادہ تر افراد فوجی اہلکار اور ان کے خاندان تھے جو چھٹیاں گزارنے چھاؤنی کے علاقے سے شہر جا رہے تھے تاکہ وہاں سے لمبی دوری کی ٹرین پکڑ کر اپنے آبائی شہروں جا سکیں۔ اس لیے یہ حملہ عید کی خوشیوں کے موقع پر اپنی حکمت عملی کے مطابق کیا گیا تاکہ قومی جذبے کو ٹھیس پہنچائی جا سکے۔ دہشتگردوں نے شاید اسی لیے اس وقت کا انتخاب کیا جب حفاظتی انتظامات میں معمول کی سی سختی ہوتی ہے اور لوگ زیادہ تعداد میں سفر کر رہے ہوتے ہیں۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا بلوچ لبریشن آرمی نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے؟
جی ہاں، بلوچ لبریشن آرمی نے اپنے ایک بیان میں اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ خودکش حملہ تھا۔
سوال: پاکستان میں مسافر ٹرین پر حملے کی کیا وجوہات ہیں؟
یہ حملے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریک کا حصہ ہیں۔ ان کا مقصد ریاستی اثاثوں کو تباہ کرنا، معیشت کو نقصان پہنچانا اور فوجی اہلکاروں کو نشانہ بنا کر عوام میں خوف پیدا کرنا ہے۔
سوال: ٹرین دھماکے میں زخمیوں کی تعداد کتنی ہے؟
ابتدائی اطلاعات کے مطابق اس دھماکے میں ۷۰ سے زائد افراد زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک ہے۔
سوال: کیا حکومت نے اس واقعے کا نوٹس لیا ہے؟
وزیراعظم اور آرمی چیف نے واقعے کا فوری نوٹس لیتے ہوئے زخمیوں کی مدد اور جاں بحق افراد کے لواحقین کے لیے مالی امداد کا اعلان کیا ہے۔
سوال: کیا اس سے پہلے بھی ٹرین پر حملے ہو چکے ہیں؟
جی ہاں، اس سے قبل مارچ ۲۰۲۵ میں اس تنظیم نے جعفر ایکسپریس کو ہائی جیک کیا تھا جس میں بہت سے افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں