ایران کے سابق رہبر معظم کا جنازہ، تہران میں لاکھوں افراد کی شرکت اور انتقام کے نعرے
ایران کے سابق رہبر معظم آیت اللہ علی خامنہ ای ۲۸ فروری ۲۰۲۶ کو امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فضائی حملے میں شہید ہو گئے تھے ۔ ان کا ۳۵ سال سے زائد عرصہ پر محیط دور حکومت ایران کی جدید تاریخ کا ایک اہم باب تھا ۔ ان کی شہادت کے بعد ایران نے ۸ مارچ ۲۰۲۶ کو ان کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا رہبر معظم مقرر کیا ۔
تہران میں خامنہ ای کے جنازے میں کتنے لوگ شریک ہوئے؟
برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کے مطابق ایران کے حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ جنازے کی مختلف تقریبات میں ۱.۲ کروڑ سے ۲ کروڑ افراد شرکت کریں گے جسے وہ "صدی کا جنازہ" قرار دے رہے ہیں ۔ سوموار ۶ جولائی ۲۰۲۶ کو تہران کی سڑکوں پر ہزاروں افراد نے جنازے کے جلوس میں شرکت کی اور میت کو خراج عقیدت پیش کیا ۔ تہران کے انقلاب چوک اور دیگر مرکزی مقامات پر لاکھوں افراد جمع تھے ۔
🔴 ایرانی ذرائع کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای کے جنازے میں شریک افراد کی تعداد 90 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔ pic.twitter.com/OSiNN00oEb
— RTEUrdu (@RTEUrdu) July 5, 2026
خامنہ ای کے جنازے میں پاکستانی وفد نے شرکت کی؟
جنازے کی ابتدائی تقریب میں پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف، آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی شرکت کی ۔ پاکستان نے ایران امریکہ جنگ کے خاتمے کے لیے ثالثی کے کردار میں اہم کردار ادا کیا تھا اور اس موقع پر پاکستانی وفد کی شرکت دوطرفہ تعلقات کی اہمیت کو ظاہر کرتی ہے ۔
مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جنازے میں کیوں نہیں آئے؟
نئے رہبر معظم مجتبیٰ خامنہ ای اپنے والد کے جنازے میں شریک نہیں ہوئے جس نے سیاسی حلقوں میں قیاس آرائیوں کو جنم دیا ۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق وہ ۲۸ فروری کے حملے میں زخمی ہوئے تھے جس میں ان کے والد شہید ہوئے اور ان کی اہلیہ بھی شہید ہو گئی تھیں ۔ اسرائیل نے ان کے خلاف ہدف بنائے جانے کے خطرے کا اظہار کیا ہے جس کی وجہ سے ان کی عدم موجودگی سیکیورٹی خدشات سے منسوب کی جا رہی ہے ۔
خامنہی کو کہاں دفن کیا جائے گا؟
سوموار کو تہران میں جنازے کے جلوس کے بعد میت کو قم لے جایا جائے گا جہاں ۷ جولائی کو تقریبات ہوں گی ۔ اس کے بعد میت کو عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا لے جایا جائے گا جہاں ۸ جولائی کو رسمیں ادا کی جائیں گی ۔ حتمی تدفین ۹ جولائی کو آیت اللہ خامنہ ای کے آبائی شہر مشہد میں امام رضا کے مزار پر کی جائے گی ۔
خامنہ ای کے جنازے میں انتقام کے نعرے کیوں لگائے گئے؟
جنازے میں شرکت کرنے والے لاکھوں افراد نے سرخ جھنڈے لہرائے جو انتقام اور خون کا بدلہ لینے کی علامت ہیں ۔ "انتقام، انتقام" کے نعرے لگائے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے خلاف غیظ و غضب کا اظہار کیا ۔ ایک سوگوار نے کہا کہ "ہم الوداع کہنے نہیں آئے، ہم انتقام لینے آئے ہیں" ۔ ایران کی سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل نے بھی خامنہ ای کے خون کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا ہے ۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا خامنہ ای کے جنازے میں عالمی رہنماؤں نے شرکت کی؟
جواب: جی ہاں، روس کے سابق صدر دمتری میدویدیف، چین کے سینئر نمائندے اور افغانستان کے وزیر خارجہ سمیت ۳۰ سے زائد ممالک کے وفود نے شرکت کی ۔ پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف بھی موجود تھے ۔
سوال: جنازے کے دوران تہران میں کیا پابندیاں تھیں؟
جواب: تہران میں فضائی حدود کو مکمل طور پر بند کر دیا گیا، تمام سرکاری اور نجی دفاتر بند تھے اور شہر کے مرکز میں ٹریفک کی پابندیاں عائد تھیں ۔
سوال: کیا خامنہ ای کے جنازے میں بھگدڑ مچی؟
جواب: ایرانی میڈیا نے بھگدڑ کے خطرے سے خبردار کیا تھا اور ۴,۰۰۰ سے زائد افراد نے طبی مراکز کا رخ کیا تاہم کسی ہلاکت کی اطلاع نہیں ۔
سوال: کیا خامنہ ای کی شہادت کے بعد ایران امریکہ مذاکرات متاثر ہوئے؟
جواب: امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ جنازے کی تقریبات کے دوران مذاکرات کو ایک ہفتے کے لیے روک دیا گیا ہے ۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی اب بھی برقرار ہے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں