خلیجی مسابقت کا نیا محاذ: سعودی عرب کی صومالیہ میں فوجی موجودگی
جب ۹ فروری ۲۰۲۶ کو سعودی عرب اور صومالیہ کے درمیان دفاعی تعاون کا معاہدہ ہوا تو اسے محض ایک معمولی سفارتی اقدام سمجھا گیا ۔ لیکن جب ۲۹ جون ۲۰۲۶ کو ایک سعودی فوجی وفد نے گوری ایل کے دو تربیتی کیمپوں کا دورہ کیا اور یہ انکشاف ہوا کہ سعودی فنڈنگ سے ۵,۱۰۷ صومالی فوجی نو ماہ کی تربیت حاصل کر رہے ہیں تو یہ واضح ہو گیا کہ یہ محض ایک معاہدہ نہیں بلکہ قرن افریقہ میں خلیجی مسابقت کا ایک نیا محاذ ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا صومالیہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ایک نیا یمن بننے والا ہے؟
پس منظر: صومالیہ میں خلیجی مفادات کا ٹکراؤ
صومالیہ کی اسٹریٹجک اہمیت کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ یہ ملک بحیرہ احمر، خلیج عدن اور بحر ہند کو آپس میں ملاتا ہے ۔ یہاں موجود آبی گزرگاہیں دنیا کی تجارت کا ایک بڑا حصہ اپنے اندر سے گزرتی ہیں۔
سعودی عرب کی صومالی فوجی امداد خطے میں کس طرح کی مسابقت کا باعث بن رہی ہے؟ اس سوال کا جواب اس حقیقت میں ہے کہ سعودی عرب کا یہ اقدام صومالیہ کی طرف متحدہ عرب امارات کی بڑھتی ہوئی رسائی کے جواب میں سامنے آیا ہے ۔ پچھلے کچھ سالوں میں متحدہ عرب امارات نے صومالی لینڈ کے ساتھ تعلقات کو ترجیح دی ہے اور اس نے صومالی لینڈ کے ساتھ تجارتی اور فوجی معاہدے کیے ہیں ۔
اسی تناظر میں جب صومالیہ نے متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے دفاعی معاہدے منسوخ کر دیے اور سعودی عرب کے ساتھ نیا معاہدہ کیا تو یہ واضح ہو گیا کہ صومالیہ خلیجی مسابقت کا ایک نیا میدان بن گیا ہے ۔
تجزیہ: پنٹ لینڈ سے ۲,۰۰۰ نوجوان — کیوں؟
پنٹ لینڈ سے ۲,۰۰۰ نوجوانوں کی بھرتی کیوں کی گئی؟ یہ ایک اہم سوال ہے۔ تربیت پانے والے کل ۵,۱۰۷ فوجیوں میں سے تقریباً ۲,۰۰۰ نوجوان پنٹ لینڈ سے بھرتی کیے گئے ہیں، جبکہ باقی ماندہ صومالیہ کے مختلف علاقوں سے آئے ہیں ۔
یہ بات خاص طور پر قابل غور ہے کیونکہ پنٹ لینڈ کی انتظامیہ اور وفاقی حکومت کے درمیان طویل عرصے سے سیاسی کشیدگی چلی آ رہی ہے ۔ پنٹ لینڈ نے وفاقی حکومت کی کئی پالیسیوں کو مسترد کیا ہے اور ایک خود مختار ریاست کی حیثیت سے کام کر رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پنٹ لینڈ سے ۲,۰۰۰ فوجیوں کی بھرتی ایک "دو دھاری تلوار" ہے — ایک طرف یہ قومی فوج کو مضبوط کر سکتی ہے، تو دوسری طرف یہ پنٹ لینڈ اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی کو بڑھا سکتی ہے، خاص طور پر اگر یہ فوجی تربیت کے بعد پنٹ لینڈ واپس نہیں لوٹتے ۔
گوری ایل کی اسٹریٹجک اہمیت
تربیتی کیمپوں کا مقام بھی اہم ہے۔ گوری ایل، جو گالگودوڈ ریجن میں واقع ہے، وسطی صومالیہ کا ایک اسٹریٹجک علاقہ ہے جو شباب کے عسکریت پسندوں کی سرگرمیوں کے قریب ہے ۔
یہاں ایک ہوائی اڈے کی موجودگی اس مقام کو اور بھی اہم بناتی ہے، کیونکہ یہ فوجی آپریشنز اور رسد کی فراہمی کے لیے ایک اہم مرکز بن سکتا ہے ۔
خطے میں مسابقت: صرف سعودی عرب نہیں
قرن افریقہ میں مسابقت صرف سعودی عرب تک محدود نہیں ہے۔ اس خطے میں ترکیہ، مصر، ایران، قطر اور اسرائیل بھی اپنے مفادات کے لیے سرگرم ہیں ۔
ترکیہ صومالیہ کا ایک بڑا فوجی شراکت دار ہے اور اس نے صومالیہ میں ایک فوجی اڈہ قائم کیا ہے ۔ مصر نے بھی صومالیہ کے ساتھ دفاعی تعاون کے معاہدے کیے ہیں ۔ اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کر لیا ہے، جس نے صومالیہ اور اسرائیل کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دیا ہے ۔
سوڈان کا عنصر: ایک سنگین الزام
کیا تربیت یافتہ صومالی فوجی سوڈان میں تعینات کیے جائیں گے؟ یہ سب سے سنگین سوال ہے جو اس پروگرام پر لگا ہے۔ اطلاعات کے مطابق سعودی عرب ان تربیت یافتہ فوجیوں کو سوڈان بھیجنا چاہتا ہے تاکہ وہ سوڈانی فوج کے ساتھ مل کر لڑ سکیں ۔
اگر یہ الزامات درست ہیں تو اس کے تباہ کن نتائج مرتب ہوں گے۔ پہلے تو یہ سوڈان کی خانہ جنگی کو مزید پیچیدہ بنا دے گا اور انسانی بحران کو مزید گہرا کر دے گا۔ دوسرے یہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے درمیان کشیدگی کو بڑھا دے گا، کیونکہ متحدہ عرب امارات پر سوڈان میں ریپڈ سپورٹ فورسز کی حمایت کا الزام ہے ۔
نتیجہ: صومالیہ — ایک نیا میدان جنگ
یہی وجہ ہے کہ صومالیہ میں سعودی عرب کا فوجی کردار محض ایک امدادی پروگرام نہیں بلکہ قرن افریقہ میں خلیجی مسابقت کا ایک نیا محاذ ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو صومالیہ، یمن اور سوڈان کے بعد ایک نیا میدان جنگ بن سکتا ہے جہاں علاقائی طاقتیں اپنے مفادات کے لیے آمنے سامنے ہوں گی۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سعودی عرب کی صومالی فوجی امداد خطے میں کس طرح کی مسابقت کا باعث بن رہی ہے؟
سعودی عرب کا یہ اقدام متحدہ عرب امارات کی صومالی لینڈ میں بڑھتی ہوئی موجودگی کے جواب میں سامنے آیا ہے، جس سے دونوں ممالک کے درمیان قرن افریقہ میں کشیدگی بڑھ گئی ہے ۔
پنٹ لینڈ سے ۲,۰۰۰ نوجوانوں کی بھرتی کیوں کی گئی؟
پنٹ لینڈ سے ۲,۰۰۰ فوجیوں کی بھرتی قومی فوج کو مضبوط کرنے کا حصہ ہے، لیکن یہ پنٹ لینڈ اور وفاقی حکومت کے درمیان کشیدگی کو بھی بڑھا سکتی ہے اگر یہ فوجی تربیت کے بعد واپس نہ لوٹیں ۔
کیا تربیت یافتہ صومالی فوجی سوڈان میں تعینات کیے جائیں گے؟
اطلاعات کے مطابق سعودی عرب ان فوجیوں کو سوڈان بھیجنا چاہتا ہے تاکہ وہ سوڈانی فوج کے ساتھ مل کر لڑ سکیں، جس سے سوڈان کی خانہ جنگی مزید پیچیدہ ہو جائے گی ۔
قرن افریقہ میں خلیجی ممالک کی مسابقت کیوں بڑھ رہی ہے؟
قرن افریقہ بحیرہ احمر، خلیج عدن اور بحر ہند کو آپس میں ملاتا ہے اور یہاں موجود آبی گزرگاہیں دنیا کی تجارت کا بڑا حصہ اپنے اندر سے گزرتی ہیں، جس کی وجہ سے تمام بڑی طاقتیں اس خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانا چاہتی ہیں ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں