پاکستان اور چین نے غیر قانونی امیگریشن اور اسمگلنگ کے خلاف مشترکہ سرحدی ورکنگ گروپ تشکیل دے دیا

 

پاکستان اور چین نے غیر قانونی امیگریشن، اسلحہ سمگلنگ اور سرحدی جرائم کے خلاف اپنی مشترکہ کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک مشترکہ ورکنگ گروپ قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ یہ فیصلہ اسلام آباد میں وزیر داخلہ محسن نقوی اور چین کی نیشنل امیگریشن ایڈمنسٹریشن کے ڈائریکٹر جنرل کی قیادت میں آنے والے چینی وفد کے درمیان ملاقات میں کیا گیا ۔ اس ورکنگ گروپ کا مقصد دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام اور امیگریشن کے شعبے میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔


غیر قانونی امیگریشن کے خلاف پاکستان کا کیا موقف ہے؟

وزیر داخلہ محسن نقوی نے اس موقع پر کہا کہ پاکستان کی حکومت غیر قانونی امیگریشن، سرحدی تجاوزات اور سمگلنگ کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے ۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان جرائم میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے ۔ پاکستان نے چین کو یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ سرحدی جرائم اور غیر قانونی نقل و حرکت کو روکنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرے گا ۔


چین پاکستان سرحدی تعاون کیسے بڑھے گا؟

دونوں ممالک کے درمیان سرحدی انتظام اور امیگریشن کے شعبے میں تعاون کو مزید بڑھانے پر اتفاق کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں جلد ہی ایک معاہدہ طے پانے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ امیگریشن کے عمل کو تیز کیا جا سکے ۔ چینی وفد نے پاکستان کی جانب سے غیر قانونی سرحدی تجاوزات اور اسمگلنگ کی روک تھام کے لیے کیے گئے مؤثر اقدامات کو سراہا ۔

خنجراب پاس پر سیکورٹی کیسے مضبوط ہوگی؟

وزیر داخلہ محسن نقوی نے بتایا کہ خنجراب پاس پر سیکورٹی کو مزید مضبوط کرنے کے لیے گلگت بلتستان سکاؤٹس کا ایک چیک پوسٹ قائم کیا جا رہا ہے ۔ یہ قدم پاک چین سرحد کی حفاظت اور غیر قانونی سرحدی پار کرنے کی کوششوں کو روکنے کے لیے اٹھایا جا رہا ہے۔ خنجراب پاس دونوں ممالک کے درمیان ایک اہم زمینی راستہ ہے اور اس کی سیکورٹی کو یقینی بنانا دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔


چین پاکستان کی کس طرح مدد کرے گا؟

چینی ڈائریکٹر جنرل نے کہا کہ چین اور پاکستان اسٹریٹجک پارٹنر ہیں اور چین پاکستان کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط کرنا چاہتا ہے ۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ چین پاکستانی اداروں کی استعداد کار میں اضافے کے لیے تعاون جاری رکھے گا ۔ چین کی طرف سے پاکستانی پولیس افسران کو تربیت کے لیے چین مدعو کیا گیا ہے اور پاکستان میں اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں کو خصوصی چینی زبان کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ۔


پاکستان میں چینی شہریوں کی حفاظت کیسے ہوگی؟

پاکستان اور چین کے درمیان سیکورٹی تعاون کو مزید بڑھانے پر بھی اتفاق کیا گیا ہے ۔ اس سلسلے میں چینی شہریوں اور منصوبوں کی حفاظت کے لیے ایک اسپیشل پروٹیکشن پولیس فورس قائم کی گئی ہے ۔ دونوں ممالک کے وزرائے داخلہ نے اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر میں ہونے والی ملاقات میں دہشت گردی اور ابھرتے ہوئے سیکورٹی چیلنجوں کا مشترکہ طور پر مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا ۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: پاکستان اور چین کے درمیان ورکنگ گروپ کیوں قائم کیا گیا؟

جواب: یہ ورکنگ گروپ غیر قانونی امیگریشن، اسلحہ سمگلنگ اور سرحدی جرائم کے خلاف مشترکہ کارروائیوں کو مزید مؤثر بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے ۔

سوال: پاکستان کی غیر قانونی امیگریشن پالیسی کیا ہے؟

جواب: پاکستان غیر قانونی امیگریشن اور سرحدی تجاوزات کے خلاف صفر رواداری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے اور اس میں ملوث تمام عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جا رہی ہے ۔

سوال: خنجراب پاس پر کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟

جواب: خنجراب پاس پر سیکورٹی کو مزید مضبوط کرنے کے لیے گلگت بلتستان سکاؤٹس کا ایک نیا چیک پوسٹ قائم کیا جا رہا ہے ۔

سوال: چین پاکستان کو کس طرح کی تربیت فراہم کر رہا ہے؟

جواب: چین پاکستانی پولیس افسران کو تربیت کے لیے چین مدعو کر رہا ہے اور اسپیشل پروٹیکشن یونٹ کے اہلکاروں کو چینی زبان کی خصوصی تربیت فراہم کی جا رہی ہے ۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے Emirates ID کی فیس میں نئ اپڈیٹ ۔

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ

آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی: ٹرمپ کی الٹی میٹم اور ایران کا سخت جواب