خیراتی اداروں کا پردہ: امریکہ نے اخوان المسلمون کے مالی نیٹ ورک کو کیوں نشانہ بنایا؟
۲۲ جولائی ۲۰۲۶ کو امریکی محکمہ خزانہ نے ایک ایسا فیصلہ کیا جو اخوان المسلمون کے عالمی نیٹ ورک کے لیے ایک سنگین دھچکا ثابت ہو سکتا ہے ۔ محمود الابیاری پر امریکی پابندیاں صرف ایک فرد کو نشانہ نہیں بناتیں بلکہ یہ اخوان المسلمون کی پوری مالی معاونت کے ڈھانچے کو توڑنے کی ایک منظم کوشش ہے ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ پابندیاں واقعی اخوان کے مالی نظام کو کمزور کر سکتی ہیں یا یہ محض ایک علامتی کارروائی ہے؟
پس منظر: محمود الابیاری کون ہے؟
امریکی محکمہ خزانہ کے دفتر برائے غیر ملکی اثاثوں کے کنٹرول کی جانب سے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق، محمود الابیاری مصر کے اخوان المسلمون کے ایک سینئر رہنما ہیں جو برطانیہ میں مقیم ہیں اور اخوان المسلمون کے سیکرٹریٹ کے سیکرٹری جنرل کے عہدے پر فائز ہیں ۔ انہیں اخوان کے اندر طویل عرصے سے قیادتی کردار ادا کرنے کی تاریخ ہے ۔
تجزیہ: مالی نیٹ ورک کیسے کام کرتا ہے؟
اخوان المسلمون کی مالی معاونت کا نظام کیسے کام کرتا ہے؟ امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق، اخوان المسلمون اور حماس سے منسلک فرنٹ آرگنائزیشنز بین الاقوامی سطح پر فنڈ ریزنگ چینلز چلاتی ہیں، جن میں خیراتی اداروں کے پردے اور زیر زمین بینکنگ نیٹ ورکس کا استعمال کیا جاتا ہے تاکہ مختلف ممالک میں رقم منتقل اور چھپائی جا سکے ۔
حماس کی مالی معاونت میں اخوان المسلمون کا کیا کردار ہے؟ محکمہ خزانہ کے مطابق، الابیاری نے ایسے اداروں کے لیے فنڈ ریزنگ کی حمایت کی جو پہلے ہی حماس سے تعلقات کی وجہ سے امریکی پابندیوں کا شکار تھے، اور انہوں نے اخوان المسلمون سے منسلک گروپوں کے ساتھ مل کر حماس کو مالی امداد فراہم کی ۔
🚨 U.S. SANCTIONS UK-BASED MUSLIM BROTHERHOOD LEADER OVER HAMAS FUNDINGThe U.S. has sanctioned London-based Muslim Brotherhood leader Mahmoud al-Abyari for funding Hamas. The measures also target Hamas fronts including Indonesia’s Tujah Bulah Global, Gaza’s Madad Palestine… pic.twitter.com/vH3okReaJa— ME24 - Middle East 24 (@MiddleEast_24) July 25, 2026
جعلی خیراتی ادارے: حماس کو فنڈنگ کا ذریعہ
جعلی خیراتی ادارے حماس کو فنڈنگ کیسے فراہم کرتے ہیں؟ اس کارروائی میں دو جعلی خیراتی اداروں کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے۔ انڈونیشیا میں قائم "توحہ بولہ گلوبل" — جو "سیون اسپائیکس گلوبل" کے نام سے بھی کام کرتا ہے — کو حماس نے اپنی فوجی ونگ کے لیے فنڈ ریزنگ اور آمدنی فراہم کرنے کے لیے بنایا تھا ۔ اسی طرح غزہ میں قائم "مداد فلسطین چیریٹیبل سوسائٹی" کو بھی حماس کی فوجی ونگ کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے کے لیے ایک فرنٹ کے طور پر بنایا گیا تھا ۔
خیال رہے کہ مبینہ طور پر یہ فنڈز عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے اکٹھے کیے جاتے تھے لیکن حماس نے انہیں جان بوجھ کر اپنی فوجی ضروریات کے لیے استعمال کیا ۔
بین الاقوامی نیٹ ورک: ترکیہ اور سویڈن کا کردار
یورپ اور افریقہ میں اخوان المسلمون کے مالی نیٹ ورک کیسے کام کرتے ہیں؟ ترکیہ میں قائم "الکاہرہ فار جنرل ٹریڈنگ" کو سینکڑوں ہزاروں ڈالر حماس کے لیے منتقل کرنے کے الزام میں نشانہ بنایا گیا ہے ۔ یہ کمپنی زیر زمین بینکنگ خدمات فراہم کرتی تھی، جس میں روایتی کرنسی اور کریپٹو کرنسی دونوں شامل تھے، اور اس کا تعلق سویڈن میں فاکسٹراٹ نیٹ ورک جیسے منظم جرائم پیشہ گروپوں سے بھی تھا ۔
امریکی ٹریژری سکریٹری سکاٹ بیسنٹ نے کہا: "ٹرمپ انتظامیہ بے رحمی سے دہشت گردوں اور ان کے مالی معاونین کا پیچھا کرے گی۔ خیراتی اداروں، کاروباروں، یا زیر زمین مالی نیٹ ورکس کے پردے میں کام کریں، جو بھی حماس کو قابل بنائے گا اسے بے نقاب، سزا یافتہ، اور جوابدہ بنایا جائے گا ۔"
نتیجہ: تنظیمی ڈھانچے کے خلاف کارروائی
یہی وجہ ہے کہ امریکی کارروائی ایک واضح پیغام ہے کہ واشنگٹن نے اخوان المسلمون کے مالی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی حکمت عملی اپنا لی ہے۔ یہ صرف کسی فرد کی پیروی نہیں بلکہ ایک پوری تنظیم کی مالی معاونت کو تباہ کرنے کی کوشش ہے۔ اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مستقبل میں مزید پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں، جس کا اثر اخوان المسلمون کے عالمی نیٹ ورک پر پڑے گا۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
محمود الابیاری پر امریکی پابندیاں کیوں عائد کی گئیں؟
امریکہ کا الزام ہے کہ الابیاری نے حماس کو فنڈنگ فراہم کرنے والے اداروں کے لیے فنڈ ریزنگ کی حمایت کی اور اخوان المسلمون سے منسلک گروپوں کے ساتھ مل کر حماس کو مالی امداد فراہم کی ۔
امریکی محکمہ خزانہ نے کون سے اداروں کو نشانہ بنایا؟
انڈونیشیا میں قائم توحہ بولہ گلوبل، غزہ میں مداد فلسطین چیریٹیبل سوسائٹی، اور ترکیہ میں الکاہرہ فار جنرل ٹریڈنگ کو حماس کی مالی معاونت کے الزام میں نشانہ بنایا گیا ۔
کیا اخوان المسلمون کو عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا جا سکتا ہے؟
امریکہ نے جنوری ۲۰۲۶ میں مصر، اردن، اور لبنان کی اخوان المسلمون شاخوں کو دہشت گرد تنظیم قرار دیا تھا ۔ یہ کارروائی اس پالیسی کا تسلسل ہے اور مستقبل میں مزید پابندیاں عائد ہو سکتی ہیں ۔
جعلی خیراتی ادارے حماس کو فنڈنگ کیسے فراہم کرتے ہیں؟
یہ ادارے عام شہریوں کی فلاح و بہبود کے لیے عطیات اکٹھے کرنے کا دعویٰ کرتے تھے لیکن حماس نے ان فنڈز کو اپنی فوجی ضروریات کے لیے استعمال کیا ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں