امریکہ نے ایران پر حملے روک دیے، ٹرمپ کو فوجی کمانڈرز کے مشورے پر عمل
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ۲۴ جولائی ۲۰۲۶ کو ایران پر فضائی حملوں کو روکنے کا حکم دے دیا ۔ یہ فیصلہ ۱۳ مسلسل شبہ حملوں کے بعد آیا جب امریکی فوجی کمانڈرز نے مشورہ دیا کہ مزید بمباری کا کوئی فائدہ نہیں رہا ۔ امریکی سفیر مائیک والٹز نے کہا کہ ٹرمپ مذاکرات کو موقع دینا چاہتے ہیں اور ان کا ترجیح سفارتکاری ہے ۔
ٹرمپ کو ایران حملے روکنے کا مشورہ کس نے دیا؟
امریکی سنٹرل کمانڈ کے سربراہ ایڈمرل بریڈ کوپر نے صدر ٹرمپ کو سفارش کی کہ ہارمز آبنائے کے گرد بمباری روک دی جائے کیونکہ اس کی افادیت ختم ہو چکی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں کی بمباری سے ایران کی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کی صلاحیت کافی کم ہو چکی ہے اور طے شدہ اہداف ختم ہو چکے ہیں ۔ اس کے علاوہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل ڈین کین اور نائب صدر جے ڈی وینس نے بھی تشویش کا اظہار کیا ۔
کیا ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے؟
اگرچہ باقاعدہ جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا، تاہم امریکہ نے دو ہفتوں میں پہلی بار حملے روک دیے اور ایران نے بھی جوابی حملے بند کر دیے ۔ ایک ایرانی فوجی ترجمان نے کہا کہ "ہماری حکمت عملی جوابی ہے، اس لیے جب حملے رک گئے تو ہم نے بھی جوابی کارروائیاں روک دیں" ۔ تاہم ایک ایرانی ذرائع نے کہا کہ تہران اس پوزیشن پر قائم ہے کہ اگر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو وہ بھی جواب دیں گے ۔
Donald Trump has paused plans to escalate the war on Iran after being warned that the US is running low on missiles.
— The Telegraph (@Telegraph) July 26, 2026
For the first time in nearly two weeks, the US president called off strikes on the Islamic Republic over the weekend and has set aside plans to return to major… pic.twitter.com/HsqA3nI1Ls
امریکی فوجی کمانڈر کا ایران حملوں پر کیا مؤقف ہے؟
ایڈمرل کوپر نے وضاحت کی کہ اگر وہ بڑے پیمانے پر جنگی کارروائیوں پر واپس نہیں جاتے تو پچھلے دو ہفتوں کی بمباری کو جاری رکھنے کا کوئی مطلب نہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ممکنہ قدم بڑے پیمانے پر کارروائی کر کے باقی ۲۰ فیصد اہداف کو نشانہ بنانا ہے، لیکن اس فیصلے کے بغیر معمولی حملے بے اثر ہیں ۔ ان کی رائے نے صدر کے فیصلے کو متاثر کرنے میں اہم کردار ادا کیا ۔
کیا امریکہ کے پاس ایران کے لیے میزائل ختم ہو رہے ہیں؟
نیویارک ٹائمز اور سی این این کے مطابق ٹرمپ کے مشیروں نے تشویش ظاہر کی کہ ایران کے حملوں سے امریکی اڈوں کا دفاع کرنے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہو رہے ہیں ۔ جنرل کین نے نجی طور پر صدر کو خبردار کیا کہ فضائی دفاعی میزائلوں کی کمی مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجیوں اور اتحادیوں کی حفاظت کو متاثر کر سکتی ہے ۔
ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں کیا کیا؟
ایران نے امریکی حملوں کے جواب میں پڑوسی ممالک میں امریکی اڈوں پر حملے کیے جس میں اردن اور عراق میں امریکی اہلکار ہلاک ہوئے ۔ ایرانی فوج نے خبردار کیا کہ اگر امریکہ نے حملے دوبارہ شروع کیے تو تنازع مزید بڑھ جائے گا ۔ ایران کا موقف "حملے کے بدلے حملہ" ہے اور اس نے امریکہ کو پیغام بھیج دیا ہے کہ اگر حملے رک گئے تو وہ بھی اپنی کارروائیاں روک دیں گے ۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
سوال: کیا امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہو گئی ہے؟
جواب: فی الحال حملے رک گئے ہیں لیکن باقاعدہ جنگ بندی کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے دو روز سے حملے روک رکھے ہیں اور سفارتی کوششیں جاری ہیں ۔
سوال: ٹرمپ نے حملے روکنے کا فیصلہ کیوں کیا؟
جواب: فوجی کمانڈرز کی رائے، میزائل ذخائر میں کمی، اور سفارتی کوششوں کو فروغ دینے کی خواہش نے اس فیصلے کو متاثر کیا ۔
سوال: کیا ایران نے حملے روکنے کا عندیہ دیا ہے؟
جواب: ایران نے کہا ہے کہ جب تک امریکہ حملے نہیں کرتا، وہ بھی جوابی کارروائیاں نہیں کرے گا۔ تاہم انہوں نے خبردار کیا ہے کہ اگر حملے دوبارہ شروع ہوئے تو وہ بھی جواب دیں گے ۔
سوال: کیا امریکی میزائل ذخائر خطرے میں ہیں؟
جواب: میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی مشیروں نے تشویش ظاہر کی ہے کہ فضائی دفاعی میزائلوں کے ذخائر کم ہو رہے ہیں جو امریکی اڈوں کے دفاع کے لیے ضروری ہیں ۔

تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں