پاکستان کا غیر ملکی میڈیا کے لیے نیا اصول — تین شہروں سے باہر این او سی لازمی

 

پاکستان کی وزارت اطلاعات و نشریات نے غیر ملکی میڈیا کے لیے نئی ہدایات جاری کی ہیں، جن کے تحت تمام غیر ملکی صحافیوں اور میڈیا عملے کو اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے علاوہ کسی بھی دوسرے شہر میں نیوز کوریج کے لیے وزارتِ داخلہ سے این او سی (نو آبجیکشن سرٹیفکیٹ) حاصل کرنا لازمی ہوگا۔ یہ ہدایات فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔


کیا غیر ملکی صحافیوں کو این او سی کی ضرورت ہوگی؟

جی ہاں، نئی ہدایات کے مطابق تین بڑے شہروں سے باہر کسی بھی علاقے میں جانے کے لیے غیر ملکی صحافیوں کو این او سی لینا ہوگا۔ یہ شرط نہ صرف صحافیوں بلکہ کیمرہ مین، پروڈیوسرز اور دیگر معاون عملے پر بھی لاگو ہوگی۔ این او سی کے لیے درخواست وزارتِ داخلہ میں جمع کرانی ہوگی، جس پر کم از کم ۴۸ گھنٹے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ قومی سلامتی سے متعلق حساس علاقوں کے لیے مزید وقت بھی درکار ہو سکتا ہے۔


این او سی کے بغیر غیر ملکی صحافی کہاں جا سکتے ہیں؟

اسلام آباد، لاہور اور کراچی وہ تین شہر ہیں جہاں غیر ملکی صحافی بغیر این او سی کے نیوز کوریج کر سکتے ہیں۔ ان تینوں شہروں کو اس لیے چھوڑ دیا گیا ہے کیونکہ یہ پاکستان کے اہم سیاسی، اقتصادی اور ثقافتی مراکز ہیں، جہاں بیشتر بین الاقوامی میڈیا کے دفاتر موجود ہیں۔ تاہم ان شہروں میں بھی صحافیوں کو قوانین کی پابندی کرنی ہوگی اور سرکاری عمارتوں یا حساس تنصیبات کی کوریج کے لیے علیحدہ اجازت درکار ہوگی۔


پاکستان نے غیر ملکی میڈیا کے لیے نئے قوانین کیوں بنائے؟

حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام غیر ملکی میڈیا کی سرگرمیوں کو منظم کرنے اور قومی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اٹھایا گیا ہے۔ حالیہ برسوں میں کچھ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کو پاکستان کی اندرونی صورتحال کے بارے میں غلط یا غیر متوازن قرار دیا گیا تھا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد غیر ملکی میڈیا کو مکمل طور پر روکنا نہیں بلکہ اسے ایک واضح قانونی فریم ورک فراہم کرنا ہے تاکہ کوریج میں شفافیت اور ذمہ داری کو یقینی بنایا جا سکے۔

کیا پاکستان میں پریس کی آزادی پر پابندیاں ہیں؟

یہ سوال کہ آیا اس اقدام سے پریس کی آزادی متاثر ہوگی، میڈیا حلقوں میں زیر بحث ہے۔ پریس آزادی کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ اس طرح کی پابندیاں صحافیوں کی نقل و حرکت کو محدود کر سکتی ہیں اور انہیں ملک کے دور دراز علاقوں میں ہونے والے واقعات کی کوریج سے روک سکتی ہیں۔ دوسری جانب حکومت کا کہنا ہے کہ این او سی کا عمل شفاف ہے اور اس سے کسی بھی صحافی کو بلا جواز پابندی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ تاہم عالمی میڈیا تنظیموں نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔


اس فیصلے سے پاکستان کی بین الاقوامی تصویر پر کیا اثر پڑے گا؟

اس اقدام کے پاکستان کی بین الاقوامی امیج پر اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ عالمی میڈیا اور انسانی حقوق کی تنظیمیں پاکستان میں میڈیا کی آزادی پر نظر رکھتی ہیں، اور اس طرح کی پابندیاں پاکستان کو غیر جمہوری یا غیر آزاد قرار دینے والے بیانات کا باعث بن سکتی ہیں۔ تاہم حکومت کا موقف ہے کہ یہ اقدام بین الاقوامی اصولوں کے مطابق ہے اور دیگر ممالک بھی اسی طرح کی پابندیاں عائد کرتے ہیں۔


اکثر پوچھے جانے والے سوالات

سوال: کیا غیر ملکی صحافیوں کو اب پاکستان میں کہیں بھی جانے کے لیے این او سی لازمی ہے؟

جواب: نہیں، صرف اسلام آباد، لاہور اور کراچی سے باہر جانے کے لیے این او سی لازمی ہے۔ ان تین شہروں میں کوریج کے لیے الگ اجازت کی ضرورت نہیں۔

سوال: این او سی کا عمل کیسے کام کرتا ہے؟

جواب: صحافیوں کو وزارتِ داخلہ میں درخواست جمع کرانی ہوگی جس پر ۴۸ گھنٹے میں فیصلہ کیا جائے گا۔ تاہم حساس علاقوں کے لیے مزید وقت بھی لگ سکتا ہے۔

سوال: کیا اس اقدام سے پریس کی آزادی متاثر ہوگی؟

جواب: ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے صحافیوں کی نقل و حرکت متاثر ہو سکتی ہے، جبکہ حکومت کا کہنا ہے کہ یہ صرف ایک منظم کرنے کا عمل ہے۔

سوال: کیا غیر ملکی صحافی ان تینوں شہروں میں بغیر این او سی کے کوریج کر سکتے ہیں؟

جواب: جی ہاں، اسلام آباد، لاہور اور کراچی میں صحافی بغیر این او سی کے کوریج کر سکتے ہیں، تاہم دیگر قوانین کی پابندی کرنا ہوگی۔

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

امارات میں مقیم پاکستانیوں کے لیے Emirates ID کی فیس میں نئ اپڈیٹ ۔

ایران کا علاقائی عدم استحکام: پاکستان اور خلیج کو براہ راست خطرہ

آبنائے ہرمز میں نئی کشیدگی: ٹرمپ کی الٹی میٹم اور ایران کا سخت جواب