ٹیکساس اور فلوریڈا کے بعد اوکلاہوما: اخوان المسلمون کے خلاف امریکی ریاستوں کا سلسلہ جاری
پس منظر: ٹیکساس اور فلوریڈا کا آغاز
اوکلاہوما کی یہ کارروائی کوئی اچانک فیصلہ نہیں ہے۔ نومبر ۲۰۲۵ میں ٹیکساس کے گورنر گریگ ایبٹ نے اخوان المسلمون اور کیر کو "غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں" اور "بین الاقوامی مجرمانہ گروہوں" کے طور پر نامزد کیا ۔ دسمبر ۲۰۲۵ میں فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس نے بھی ایسا ہی اقدام کیا ۔
یہ کارروائیاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ۲۴ نومبر ۲۰۲۵ کے ایگزیکٹو آرڈر نمبر ۱۴۳۶۲ کے بعد کی گئیں، جس نے اخوان المسلمون کی بعض شاخوں — خاص طور پر مصر، اردن اور لبنان میں — کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کرنے کا عمل شروع کیا ۔
🔗 اوکلاہوما گورنر کا ایگزیکٹو آرڈر
تجزیہ: کیر تنظیم پر الزامات
کیر ایک امریکی مسلم سول رائٹس تنظیم ہے جو ۱۹۹۴ میں قائم ہوئی اور اپنے آپ کو "امریکی مسلمانوں کے سول رائٹس کو آگے بڑھانے" کے لیے وقف قرار دیتی ہے ۔ لیکن اسٹیٹ کے ایگزیکٹو آرڈر میں کیر پر الزام لگایا گیا ہے کہ اس کا تعلق "فلسطین کمیٹی" سے ہے — جو اخوان المسلمون سے منسلک ایک تنظیم ہے اور حماس کی مالی معاونت کے لیے بنائی گئی تھی ۔
آرڈر کے مطابق، یہ کمیٹی "حماس کے لیے مالی اور اخلاقی حمایت بڑھانے" کے لیے کام کرتی تھی اور حماس کے لیے رقم جمع کرنے والی فرنٹ آرگنائزیشنز کی نگرانی کرتی تھی ۔
گورنر اسٹیٹ نے کہا: "ریاست ہائے متحدہ پہلے ہی حماس کو ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم تسلیم کر چکی ہے، اور حماس اخوان المسلمون سے وجود میں آئی۔ اوکلاہوما ان تنظیموں یا نیٹ ورکس کو نظر انداز نہیں کرے گا جو دہشت گردی کی حمایت کر سکتے ہیں" ۔
کیر کا ردعمل: آئینی حقوق کا دفاع
کیر-اوکلاہوما کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر ویرونیکا لائزور نے ایک بیان میں کہا: "اوکلاہوما میں کیر کی طویل تاریخ کے دوران، ہماری سول رائٹس تنظیم نے آئین کی طرف سے ضمانت دی گئی آزادی اظہار، مذہبی آزادی اور قانون کے تحت مساوات کے تحفظ کے لیے کام کیا ہے" ۔
انہوں نے مزید کہا: "اوکلاہوما میں ہمارا کامیاب سول رائٹس کا کام ہی ہے جس کی وجہ سے گورنر اسٹیٹ ہماری تنظیم کو بے بنیاد سازشی نظریات کے ساتھ نشانہ بنا رہے ہیں" ۔
عالمی اثرات: امریکی ریاستوں کا بڑھتا ہوا رجحان
یہ کارروائیاں صرف تین ریاستوں تک محدود نہیں ہیں۔ لوزیانا اور ایریزونا نے بھی اسی طرح کے بل پیش کیے ہیں جو حکام کو تنظیموں کو دہشت گرد قرار دینے کا اختیار دیں گے ۔
اسٹیٹ کے ایگزیکٹو آرڈر کی بنیاد ۲۰۰۸ کے مقدس سرزمین کیس میں پائی جاتی ہے، جس میں کیر کو ۲۰۰ دیگر اداروں کے ساتھ "غیر الزام یافتہ ساتھی سازش کار" کے طور پر نامزد کیا گیا تھا ۔ اگرچہ کیر پر کبھی کوئی جرم ثابت نہیں ہوا، لیکن یہ نامزدگی ریاستی حکام کے لیے ایک قانونی بنیاد بن گئی ۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو مزید امریکی ریاستیں بھی اخوان المسلمون اور اس سے منسلک تنظیموں کے خلاف کارروائی کر سکتی ہیں، جس سے امریکہ میں اس تنظیم کی موجودگی شدید خطرے میں پڑ جائے گی۔
نتیجہ: ایک نیا دور
یہی وجہ ہے کہ اوکلاہوما کی کارروائی محض ایک ریاستی فیصلہ نہیں بلکہ امریکہ میں اخوان المسلمون کے خلاف ایک بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے۔ صدارتی ایگزیکٹو آرڈر سے لے کر ریاستی اقدامات — یہ سب مل کر ایک ایسی تصویر پیش کرتے ہیں جس میں اخوان المسلمون کو امریکہ میں دہشت گردی سے منسلک ایک تنظیم کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
اوکلاہوما میں اخوان المسلمون کی تحقیقات کیوں شروع کی گئیں؟
گورنر اسٹیٹ نے ۱۲ اگست ۲۰۲۶ کو ایگزیکٹو آرڈر ۲۰۲۶-۲۹ جاری کیا، جس میں اخوان المسلمون اور کیر تنظیم کی سرگرمیوں کا جائزہ لینے کا حکم دیا گیا تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ آیا یہ تنظیمیں دہشت گردی یا عوامی تحفظ کے لیے کوئی خطرہ ہیں ۔
کیر تنظیم کیا ہے اور اس پر کیا الزامات ہیں؟
کیر ۱۹۹۴ میں قائم ہونے والی ایک امریکی مسلم سول رائٹس تنظیم ہے۔ اسٹیٹ کے ایگزیکٹو آرڈر میں الزام لگایا گیا ہے کہ کیر کا تعلق "فلسطین کمیٹی" سے ہے، جو اخوان المسلمون سے منسلک ایک تنظیم ہے اور حماس کی مالی معاونت کے لیے بنائی گئی تھی ۔
ٹیکساس اور فلوریڈا میں اخوان المسلمون کے خلاف کیا اقدامات کیے گئے؟
ٹیکساس کے گورنر نے نومبر ۲۰۲۵ میں اخوان المسلمون اور کیر کو غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں کے طور پر نامزد کیا ، جبکہ فلوریڈا کے گورنر نے دسمبر ۲۰۲۵ میں ایسا ہی اقدام کیا ۔
کیر تنظیم نے اپنے خلاف الزامات کا کیا جواب دیا ہے؟
کیر-اوکلاہوما کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے کہا کہ تنظیم آئینی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرتی ہے اور گورنر کا اقدام بے بنیاد سازشی نظریات پر مبنی ہے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں