خون کا بدلہ خون: ایران میں طبی عملے کا احتجاج اور جبر
ایران میں طبی عملے کا احتجاج ایک بار پھر شدت اختیار کر گیا ہے۔ ۳۰ جولائی ۲۰۲۶ کو تہران کے فیاض بخش ہسپتال کی نرسوں نے کام کے بوجھ، کم تنخواہوں، اور عملے کی شدید کمی کے خلاف ہڑتال شروع کی۔ لیکن اس احتجاج کا انجام کیا ہوا؟ نرسوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، گرفتار کیا گیا، اور کئی کو ملازمت سے نکال دیا گیا ۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایران کا طبی نظام اتنا کمزور ہو چکا ہے کہ اپنے ہی محافظوں کو زندہ نہ رکھ سکے؟
پس منظر: فیاض بخش ہسپتال کا واقعہ
نیویارک پوسٹ کے مطابق، فیاض بخش ہسپتال میں نرسوں کی ہڑتال کا آغاز ۳۰ جولائی ۲۰۲۶ کو ہوا۔ نرسوں نے کام کے بوجھ، کم تنخواہوں، اور عملے کی شدید کمی کے خلاف آواز اٹھائی ۔ لیکن ہسپتال انتظامیہ نے نہ صرف ان کی بات سننے سے انکار کیا بلکہ گرفتاریاں اور برطرفیاں شروع کر دیں۔ سامعین نے اطلاعات دی ہیں کہ کئی نرسوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور ان کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے ۔
تجزیہ: ۱۰ ماہ کا بقایا اور معاشی جبر
ایران میں نرسوں کے احتجاج کی کیا وجوہات ہیں؟ نرسوں کی کوآرڈینیشن کونسل کے مطابق، کچھ نرسوں کی تنخواہوں کا بقایا ۱۰ ماہ تک پہنچ چکا ہے۔ نرسوں نے ایک بیان میں کہا: "ہم نرسیں ہیں، غلام نہیں، اور ہم جبری مشقت کے تابع نہیں ہوں گے" ۔
نرسنگ آرگنائزیشن کی سپریم کونسل کے پہلے نائب صدر ڈاکٹر یوسف رحیمی نے خبردار کیا کہ موجودہ تنخواہیں — جو ۲۵ ملین تومان ہیں — "زندگی کے اخراجات پورے نہیں کرتیں" ۔ انہوں نے مزید کہا: "جب آمدنی زندگی کے اخراجات پورے کرنے کے لیے ناکافی ہو تو ملازمین دوسرے ممالک کی طرف ہجرت کر جاتے ہیں یا اپنی نوکری چھوڑ دیتے ہیں" ۔
مہر نیوز ایجنسی کے مطابق، سالانہ تقریباً ۵,۰۰۰ افراد ایران میں نرسنگ کا پیشہ چھوڑ دیتے ہیں ۔
خون کا بدلہ خون: طبی عملے پر حملے
یہ صرف تنخواہوں کا معاملہ نہیں۔ برٹش میڈیکل جرنل کے مطابق، جنوری ۲۰۲۶ کے مظاہروں کے دوران ایران کی سیکورٹی فورسز نے زخمی مظاہرین کو ہسپتالوں میں تعاقب کیا اور طبی عملے کو دھمکیاں دی گئیں ۔ نیویارک ٹائمز نے ایک انڈر گراؤنڈ نیٹ ورک کے ڈاکٹروں اور نرسوں کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ ہسپتالوں کے فرش خون سے لت پت تھے اور نوجوانوں کو گولیوں کے شدید زخم آئے تھے ۔ انہیں ڈاکٹرز اور نرسیں جو مظاہرین کا علاج کرتی تھیں، گرفتار کر لی گئیں اور بغیر کسی الزام کے حراست میں رکھا گیا ۔
معاشی بحران اور کرنسی کی تباہی
ایران کی کرنسی کی قدر میں کمی کا احتجاج پر کیا اثر ہے؟ بی بی سی کے مطابق، ۲۰۱۸ میں امریکی پابندیوں کے بعد ایرانی ریال نے اپنی ۹۵ فیصد قدر کھو دی ہے ۔ بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں ۶۰ فیصد اضافہ ہوا ہے جبکہ خوراک کی قیمتیں دوگنی ہو گئی ہیں۔ ایک خاندان کی خوراک کی ٹوکری کی قیمت ۲۰۱۶ کے مقابلے میں ۳۰ گنا زیادہ ہے ۔
اس معاشی تباہی نے عوام کو سڑکوں پر لا کھڑا کیا ہے۔ جنوری ۲۰۲۶ میں مظاہرے پورے ایران میں پھیل گئے، جن میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے ۔ ایک ڈاکٹر کے مطابق تہران کے صرف چھ ہسپتالوں میں ۲۱۷ مظاہرین کی موت ریکارڈ کی گئی، جن میں زیادہ تر تازہ گولیوں سے مارے گئے تھے ۔
عالمی ردعمل: خاموشی یا کارروائی؟
برٹش میڈیکل جرنل میں ایک مضمون کے مطابق، ۳۷۰ صحت پیشہ ور افراد نے عالمی ادارہ صحت اور اقوام متحدہ سے اپیل کی کہ وہ ایرانی طبی عملے کی حفاظت کے لیے اقدامات کریں، لیکن اب تک کوئی جواب نہیں ملا ۔
اگر یہی صورتحال برقرار رہی تو ایران کا صحت کا نظام مکمل طور پر تباہ ہو جائے گا اور ہزاروں نرسیں ملک چھوڑ دیں گی۔
نتیجہ: خاموش طبی شہادت
یہی وجہ ہے کہ عالمی برادری کو ایران میں طبی عملے کے خلاف جبر پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ نرسیں اور ڈاکٹر جو دوسروں کی جان بچاتے ہیں، خود کو نشانہ بنتے دیکھ رہے ہیں۔ یہ صرف ایران کا مسئلہ نہیں — یہ انسانی حقوق کا عالمی بحران ہے۔
اکثر پوچھے جانے والے سوالات
ایران میں نرسوں کے احتجاج کی کیا وجوہات ہیں؟
نرسیں کام کے بوجھ، کم تنخواہوں، ۱۰ ماہ تک کے تنخواہوں کے بقایا، اور عملے کی شدید کمی کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں۔ فیاض بخش ہسپتال میں احتجاج کرنے والی نرسوں کو تشدد اور گرفتاری کا سامنا کرنا پڑا ۔
فیاض بخش ہسپتال میں نرسوں کے ساتھ کیا سلوک ہوا؟
نرسوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا، گرفتار کیا گیا، ان کے موبائل فون ضبط کر لیے گئے، اور کئی کو ملازمت سے نکال دیا گیا۔ تنخواہوں کا بقایا ۱۰ ماہ تک پہنچ گیا ہے ۔
ایران میں معاشی بحران عوام کی زندگیوں کو کیسے متاثر کر رہا ہے؟
ریال کی قدر میں ۹۵ فیصد کمی، بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں ۶۰ فیصد اضافہ، اور خوراک کی قیمتوں میں دوگنا اضافہ ہوا ہے۔ ایک خاندان کی خوراک کی ٹوکری ۲۰۱۶ کے مقابلے میں ۳۰ گنا مہنگی ہو گئی ہے ۔
کیا ایران میں حکومت کے خلاف احتجاج پھیل رہے ہیں؟
جی ہاں، معاشی بحران اور جبر کے خلاف احتجاج پورے ایران میں پھیل رہے ہیں۔ جنوری ۲۰۲۶ میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے اور مظاہرے ۳۱ صوبوں تک پھیل گئے ۔
تبصرے
ایک تبصرہ شائع کریں